یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. باب إذا لم يتم الركوع:
باب: اگر رکوع اچھی طرح اطمینان سے نہ کرے تو نماز نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ:" رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، قَالَ: مَا صَلَّيْتَ، وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان بن اعمش کے واسطہ سے کہا میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 791]
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع اور سجود کو پورا نہیں کر رہا تھا، تو آپ نے اسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی، اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس دینِ فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
791
| لا يتم الركوع والسجود قال ما صليت ولو مت مت على غير الفطرة التي فطر الله محمدا عليها |
صحيح البخاري |
808
| لا يتم ركوعه ولا سجوده فلما قضى صلاته قال له حذيفة ما صليت قال وأحسبه قال ولو مت مت على غير سنة محمد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 791 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 791
حدیث حاشیہ:
یعنی تیرا خاتمہ معاذ اللہ کفر پر ہو گا۔
جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس طرح خرابی خاتمہ سے ڈرنا چاہئے۔
سبحان اللہ اہل حدیث کا جینا اور مرنا دونوں اچھا۔
مرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہیں۔
آپ کی حدیث پر چلتے رہے جب تک جئے خاتمہ بھی حدیث پر ہوا۔
(مولانا وحید الزماں ؒ)
یعنی تیرا خاتمہ معاذ اللہ کفر پر ہو گا۔
جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس طرح خرابی خاتمہ سے ڈرنا چاہئے۔
سبحان اللہ اہل حدیث کا جینا اور مرنا دونوں اچھا۔
مرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہیں۔
آپ کی حدیث پر چلتے رہے جب تک جئے خاتمہ بھی حدیث پر ہوا۔
(مولانا وحید الزماں ؒ)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 791]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:791
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا:
تو کرنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ چالیس برس سے اسی طرح نماز پڑھ رہا ہوں۔
(فتح الباري: 256/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں رکوع اور سجود کو آرام اور سکون سے ادا کرنا چاہیے۔
ایسا کرنا فرض ہے۔
اس میں کوتاہی کرنا اپنی نماز کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رکوع کی حقیقت جھکنا اور سجدے کی حقیقت پیشانی کو زمین پر رکھنا ہے، اگر کوئی اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔
لیکن یہ موقف احادیث کے خلاف ہے کیونکہ احادیث میں تعدیل ارکان کی بہت تاکید ہے۔
تعدیل ارکان یہ ہے کہ بدن ہئیت طبعی پر پہنچ جائے اور حرکت انتقال، سکون و اطمینان میں تبدیل ہو جائے۔
(3)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجود کو ادھورا کرنے والے کے متعلق فرمایا:
تو نے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون طریقے کے خلاف نماز خراب کر کے پڑھنے والے کو فرمایا تھا:
”جاؤ، نماز دوبارہ پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔
“ (فتح الباري: 256/2) (4)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ تعدیل و اطمینان ضروری ہے، اس کے بغیر فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا:
تو کرنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ چالیس برس سے اسی طرح نماز پڑھ رہا ہوں۔
(فتح الباري: 256/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں رکوع اور سجود کو آرام اور سکون سے ادا کرنا چاہیے۔
ایسا کرنا فرض ہے۔
اس میں کوتاہی کرنا اپنی نماز کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رکوع کی حقیقت جھکنا اور سجدے کی حقیقت پیشانی کو زمین پر رکھنا ہے، اگر کوئی اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔
لیکن یہ موقف احادیث کے خلاف ہے کیونکہ احادیث میں تعدیل ارکان کی بہت تاکید ہے۔
تعدیل ارکان یہ ہے کہ بدن ہئیت طبعی پر پہنچ جائے اور حرکت انتقال، سکون و اطمینان میں تبدیل ہو جائے۔
(3)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجود کو ادھورا کرنے والے کے متعلق فرمایا:
تو نے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون طریقے کے خلاف نماز خراب کر کے پڑھنے والے کو فرمایا تھا:
”جاؤ، نماز دوبارہ پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔
“ (فتح الباري: 256/2) (4)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ تعدیل و اطمینان ضروری ہے، اس کے بغیر فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 791]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:808
808. حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دوران نماز میں اپنے رکوع و سجود کو پورا نہیں کرتا تھا۔ جب وہ اپنی نماز ختم کر چکا تو حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے فرمایا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا: اگر تو اسی حالت پر مر گیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف مرے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:808]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سجدہ میں طمانیت ضروری ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 791)
واضح رہے کہ بعینہٖ یہ باب (26)
مذکورہ حدیث سمیت پہلے گزر چکا ہے۔
لیکن پہلے امام بخاری ؒ نے کسی دوسرے مقصد کے لیے بیان کیا تھا۔
اس کی تفصیل کے لیے مذکورہ حدیث کی طرف مراجعت ضروری ہے، نیز یہ حدیث پہلے (791)
بیان ہو چکی ہے لیکن وہاں حضرت حذیفہ ؓ سے بیان کرنے والے زید بن وہب جہنی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے گھر سے نکلے لیکن ابھی راستے میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس مقام پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والے حضرت ابو وائل شقیق ہیں۔
(عمدة القاري: 4/554،521) (2)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا تھا جو اپنے رکوع و سجود کو پورے طور پر ادا نہیں کرتا تھا جیسا کہ حدیث مسيئ الصلاة میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 793)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سجدہ میں طمانیت ضروری ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 791)
واضح رہے کہ بعینہٖ یہ باب (26)
مذکورہ حدیث سمیت پہلے گزر چکا ہے۔
لیکن پہلے امام بخاری ؒ نے کسی دوسرے مقصد کے لیے بیان کیا تھا۔
اس کی تفصیل کے لیے مذکورہ حدیث کی طرف مراجعت ضروری ہے، نیز یہ حدیث پہلے (791)
بیان ہو چکی ہے لیکن وہاں حضرت حذیفہ ؓ سے بیان کرنے والے زید بن وہب جہنی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے گھر سے نکلے لیکن ابھی راستے میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس مقام پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والے حضرت ابو وائل شقیق ہیں۔
(عمدة القاري: 4/554،521) (2)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا تھا جو اپنے رکوع و سجود کو پورے طور پر ادا نہیں کرتا تھا جیسا کہ حدیث مسيئ الصلاة میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 793)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 808]
Sahih Bukhari Hadith 791 in Urdu
زيد بن وهب الجهني ← حذيفة بن اليمان العبسي