🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
157. باب مكث الإمام فى مصلاه بعد السلام:
باب: سلام کے بعد امام اسی جگہ ٹھہر کر (نفل وغیرہ) پڑھ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيد، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا، قَالَتْ: كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور ابوسعید بن ابی مریم نے کہا کہ ہمیں نافع بن یزید نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ ابن شہاب زہری نے انہیں لکھ بھیجا کہ مجھ سے ہند بنت حارث فراسیہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (ہند ان کی صحبت میں رہتی تھیں) انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں لوٹ کر جانے لگتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اٹھنے سے پہلے اپنے گھروں میں داخل ہو چکی ہوتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥هند بنت الحارث الفراسية
Newهند بنت الحارث الفراسية ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← هند بنت الحارث الفراسية
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥جعفر بن ربيعة القرشي، أبو شرحبيل
Newجعفر بن ربيعة القرشي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥نافع بن يزيد الكلاعي، أبو يزيد
Newنافع بن يزيد الكلاعي ← جعفر بن ربيعة القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← نافع بن يزيد الكلاعي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 850 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 850
حدیث حاشیہ:
ان سندوں کے بیان کرنے سے حضرت امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ ہند کی نسبت کا اختلاف ثابت کریں کسی نے ان کو فراسیہ کہا کسی نے قرشیہ اور رد کیا اس شخص پر جس نے قرشیہ کو تصحیف قرار دیاکیونکہ لیث کی روایت میں اس کے قرشیہ ہونے کی تصریح ہے مگر لیث کی روایت موصول نہیں ہے اس لیے کہ ہند فراسیہ یا قرشیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا مقصد باب وحدیث ظاہر ہے کہ جہاں فرض نماز پڑھی گئی ہو وہاں نفل بھی پڑھی جا سکتی ہے مگر دیگر روایات کی بنا پر ذرا جگہ بدل لی جائے یا کچھ کلام کر لیا جائے تاکہ فرض اور نفل نمازوں میں اختلاط کا وہم نہ ہوسکے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 850]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:850
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث بیان کرنے کے بعد امام بخاری ؒ نے سندوں کا اختلاف بیان کیا ہے تاکہ ہند کی نسبت کا اختلاف بیان کیا جائے۔
کسی راوی نے اسے فراسیہ اور کسی نے اسے قرشیہ قرار دیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس شخص کی تردید کی ہے جو قرشیہ کو تصحیف قرار دیتا ہے کیونکہ لیث کی روایت میں اس کے قرشیہ ہونے کی تصریح ہے لیکن یہ روایت موصول نہیں۔
بہرحال ہند فراسیہ یا قرشیہ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا۔
(2)
امام بخاری ؒ کا ان احادیث کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں فرض پڑھے گئے ہوں وہاں نفل وغیرہ بھی پڑھے جا سکتے ہیں، تاہم بہتر ہے کہ دیگر صحیح روایات کے پیش نظر ذرا جگہ تبدیل کر لی جائے یا کچھ گفتگو کر لی جائے تاکہ فرض اور نفل نماز میں اختلاط کا وہم نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس حدیث سے درج ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں:
٭ امام کو چاہیے کہ وہ مقتدی حضرات کا پورا پورا خیال رکھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کا خیال رکھتے تھے۔
٭ ہر اس سبب سے اجتناب کرنا چاہیے جو انسان کو کسی ممنوع کام تک پہنچا دینے والا ہو۔
٭ ایسے مقامات سے احتراز کرنا چاہیے جہاں انسان پر تہمت یا کوئی الزام لگنے کا خطرہ ہو۔
٭ راستے میں مردوں کا عورتوں سے اختلاط شریعت کی نظر میں انتہائی مکروہ فعل ہے۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عورتیں بھی نماز باجماعت ادا کرتی تھیں۔
(فتح الباري: 434/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 850]