🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فضیلت جہاد
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2259 ترقیم فقہی: -- 2043
-" ما في الناس مثل رجل آخذ بعنان فرسه فيجاهد في سبيل الله ويجتنب شرور الناس. ومثل رجل باد في غنمه، يقري ضيفه ويؤدي حقه".
حبیب بن شہاب عنبری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا دوست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دروازے پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے اپنا تعارف کروایا۔ انہوں نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس چلے جاؤ جو کھجوروں اور پانی پر ہیں، (‏‏‏‏یہاں تو) ہر آدمی کا بمشکل اپنا گزارا ہو رہا ہے۔ ہم نے کہا: تیرے خزانے زیادہ ہوں، تم اتنا کرو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہمارے لیے اجازت لے دو۔ انہوں نے اجازت طلب کی، ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک والے دن خطاب کیا اور فرمایا: جو آدمی اپنے گھوڑے کی لگام تھام کر اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور لوگوں کی شرور سے پرہیز کرتا ہے، وہ لوگوں میں بے مثال ہے۔ اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو ایک ویرانے میں فروکش ہو کر اپنی بھیڑ بکریاں پالتا ہے، مہمان کی ضیافت کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے۔ میں نے کہا: واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) ارشاد فرمائیں۔ میں نے پھر کہا: واقعی آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) فرمائیں۔ میں نے پھر کہا: واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) فرمائیں۔ میں نے اللہ أکبر اور الحمد للہ کہا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2043]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2259

قال الشيخ الألباني:
- " ما في الناس مثل رجل آخذ بعنان فرسه فيجاهد في سبيل الله ويجتنب شرور الناس . ومثل رجل باد في غنمه، يقري ضيفه ويؤدي حقه ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه الإمام أحمد (1 / 311) : حدثنا روح حدثنا حبيب بن شهاب العنبري قال:
‏‏‏‏سمعت أبي يقول: أتيت ابن عباس أنا وصاحب لي، فلقينا أبا هريرة عند باب ابن
‏‏‏‏عباس، فقال: من أنتما؟ فأخبرناه، فقال: انطلقا إلى ناس على تمر وماء،
‏‏‏‏إنما يسيل كل واد بقدره. قال: قلنا: كثير خيرك، استأذن لنا على ابن عباس،
‏‏‏‏قال: فاستأذن لنا، فسمعنا ابن عباس يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
‏‏‏‏، فقال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم تبوك، فقال: فذكره. قال:
‏‏‏‏قلت: أقالها؟ قال: قالها.
‏‏‏‏__________جزء : 5 /صفحہ : 328__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏قال: قلت: أقالها؟ قال: قالها. قلت: أقالها
‏‏‏‏؟ قال: قالها. فكبرت الله، وحمدت الله وشكرته.
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد صحيح: روح هو ابن عبادة، وهو ثقة من رجال الشيخين.
‏‏‏‏وحبيب بن شهاب العنبري ثقة بلا خلاف، وهو مترجم في " تعجيل المنفعة " وأبوه
‏‏‏‏شهاب، وثقه ابن حبان (4 / 363) وأبو زرعة كما في " الجرح والتعديل ".
‏‏‏‏وقد تابعه القلوص بنت عليبة: سمعت شهاب بن مدلج حدثنا أبو هريرة أن النبي صلى
‏‏‏‏الله عليه وسلم قال: " خير الناس رجل تنحى عن شرور الناس ".
‏‏‏‏¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 2043 in Urdu