🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حیوانات کے حقوق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 20 ترقیم فقہی: -- 2076
-" أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي ملكك الله إياها؟! فإنه شكا إلي أنك تجيعه وتدئبه".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور میرے ساتھ رازداری سے ایک بات کی جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے لیے کسی اونچی چیز (دیوار، ٹیلہ وغیرہ) یا کھجور کے جھنڈ کے ساتھ پردہ کرنا سب سے زیادہ پسند تھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا۔ پس جب اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کی کوہان اور کان کے عقبی حصے پر ہاتھ پھیرا تو اس کو قرار آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟“ پس ایک نوجوان انصاری آپ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس جانور کے بارے میں، جس کا اللہ نے تجھ کو مالک بنایا ہے، اللہ سے نہیں ڈرتا؟ کیونکہ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور (مشقت زیادہ لے کر) تھکا دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2076]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 20

قال الشيخ الألباني:
- " أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي ملكك الله إياها؟! فإنه شكا إلي أنك تجيعه وتدئبه ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏رواه أبو داود (1 / 400) والحاكم (2 / 99 - 100) وأحمد (1 / 204 - 205)
‏‏‏‏وأبو يعلى في " مسنده " (318 / 1) والبيهقي في " دلائل النبوة " (ج 2 باب
‏‏‏‏ذكر المعجزات الثلاث)
‏‏‏‏__________جزء : 1 /صفحہ : 58__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏وابن عساكر في " تاريخه " (ج 9 / 28 / 1) .
‏‏‏‏والضياء في " الأحاديث المختارة " (124 - 125) من طريق محمد بن عبد الله
‏‏‏‏ابن أبي يعقوب عن الحسن بن سعد مولى الحسن بن علي عن عبد الله بن جعفر
‏‏‏‏قال: أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه ذات يوم، فأسر إلي حديثا لا
‏‏‏‏أحدث به أحدا من الناس، وكان أحب ما استتر به رسول الله صلى الله عليه وسلم
‏‏‏‏لحاجته هدف أو حائش النخل، فدخل حائطا لرجل من الأنصار فإذا جمل، (فلما رأى
‏‏‏‏النبي صلى الله عليه وسلم حن وذرفت عيناه، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم
‏‏‏‏فمسح سراته إلى سنامه وذفراه فسكن) فقال: من رب هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟
‏‏‏‏فجاء فتى من الأنصار فقال: لي يا رسول الله، فقال: فذكر الحديث.
‏‏‏‏وقال الحاكم: " صحيح الإسناد " ووافقه الذهبي وهو كما قالا، بل إنهما قد
‏‏‏‏قصرا فإنه صحيح على شرط مسلم، فقد أخرجه في " صحيحه " (1 / 184 - 185) بهذا
‏‏‏‏الإسناد دون قصة الجمل، وذكر النووي في " رياض الصالحين " (ص 378) أن
‏‏‏‏البرقاني رواه بإسناد مسلم بتمامه وكأنه لهذا قال ابن عساكر عقبه:
‏‏‏‏" رواه مسلم ". يعني أصله لا بتمامه.
‏‏‏‏والزيادة التي بين القوسين لابن عساكر والضياء. ¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 2076 in Urdu