🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
بعض مریضوں کی تیمار داری جبریل امین کرتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3135 ترقیم فقہی: -- 2794
- (ذاك جبريلُ عليه السلامُ، وإنَّ منكم لرِجَالاً لو أنَّ أحدَهم يقسمُ على الله لأبرَّه)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے، جب اس کے گھر کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے محسوس ہوا کہ اندر کوئی آدمی باتیں کر رہا ہے، لیکن جب اس سے اجازت طلب کی اور اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ (‏‏‏‏ اس انصاری کے) علاوہ کوئی اور آدمی موجود نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: مجھے ایسے سنائی دیا کہ تم کسی آدمی سے گفتگو کر رہے تھے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بخار کی وجہ سے لوگوں کی باتیں مجھے اچھی نہیں لگ رہی تھیں، سو میں اندر آ گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین مجلس والا اور عمدہ گفتگو والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جبریل تھا، تم میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کو قسم دے دیں تو وہ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2794]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3135

قال الشيخ الألباني:
- (ذاك جبريلُ عليه السلامُ، وإنَّ منكم لرِجَالاً لو أنَّ أحدَهم يقسمُ على الله لأبرَّه)
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه البزار في "مسنده " (3/306- 307- الكشف) ، والطبراني في "المعجم الكبير" (12/11 - 12) و"الأوسط " (1/153/1/2873) ، ومن طريقه: الضياء في "المختارة" (59/212/1- 2) ، والبيهقي في "دلائل النبوة" (7/76) من طرق عن محمد بن عبد الوهاب الحارثي: ثنا يعقوب القَمِّي عن جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال:
‏‏‏‏عاد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - رجلاً من الأنصار، فلما دنا من منزله سمعه يتكلم في الداخل، فلما أستأذن عليه دخل عليه فلم ير أحداً، فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:
‏‏‏‏سمعتك تكلم غيرك؟ قال: يا رسول الله! لقد دخلت الداخل اغتماماً بكلام الناس مما بي من الحمى، فدخل علي داخل ما رأيت رجلاً قط بعدك أكرم مجلساً ولا أحسن حديثاً منه، قال ... فذكره. وقال البزار- والطبراني- نحوه:
‏‏‏‏"لا يروى عن ابن عباس إلا بهذا الإسناد".
‏‏‏‏قلت: وهو إسناد حسن؛ الحارثي هذا ترجمه الخطيب في "التاريخ " (2/390 - 391) برواية جمع من الثقات والحفاظ عنه، ثم روى عن الحافظ أبي علي صالح ابن محمد- جزرة- (¬1) أنه قال: "ثقة ". وذكره ابن حبان في "الثقات " (9/83) برواية الحافظ عبد الله بن محمد البغوي، ثم قال:
‏‏‏‏"ربما أخطأ".
‏‏‏‏¬
‏‏‏‏__________
‏‏‏‏(¬1) له ترجمة في "تاريخ بغداد" (8/322- 328) و" تذكرة الحفاظ ". *
‏‏‏‏__________جزء : 7 /صفحہ : 373__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏وقال الهيثمي في "المجمع " (10/41) :
‏‏‏‏"رواه البزار والطبراني في " الكبير" و"الأوسط "، وأسانيدهم حسنة ".
‏‏‏‏وهذا تعبير موهم لغير الواقع فقد عرفت من كلام البزار والطبراني أنه ليس له إلا هذا الإسناد، فهو إنما يعني بـ (الأسانيد) : الطرق المشار إليها عن الحارثي؛ فتنبه!
‏‏‏‏ثم رأيت الحافظ قد سبقني إلى تحسينه، فقال في "مختصر زوائد البزار" (2/377) :
‏‏‏‏"وإسناده حسن ". ¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 2794 in Urdu