🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز فجر سے نماز ضحیٰ تک مسلسل ذکر کرنے سے بہتر ذکر
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2156 ترقیم فقہی: -- 2969
-" لقد قلت بعدك أربع كلمات، ثلاث مرات، لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته".
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سویرے ہی نماز پڑھ کر ان کے پاس چلے گئے، جب کہ وہ اپنے جائے نماز میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کا وقت ہو جانے کے بعد واپس آئے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اسی حالت میں ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین مرتبہ کہے، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم شروع دن سے کہہ رہی ہو، تو وہ ان پر وزن میں بھاری ہوں گے۔ (‏‏‏‏اور وہ یہ ہیں) «سبحان الله وبحمده، عدد خلقه، ورضا نفسه، وزنة عرشه، ومداد كلماته» ‏‏‏‏ہم اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اس کی تعریفوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اور اس کے نفس کی رضا مندی کے موافق اور اس کے عرش کے وزن کے مطابق اور اس کے کلمات کی سیاہی یا کثرت کے برابر۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2969]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2156

قال الشيخ الألباني:
- " لقد قلت بعدك أربع كلمات، ثلاث مرات، لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن : سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه مسلم (8 / 83) وأبو داود (1503) وابن خزيمة في " التوحيد " (ص 107
‏‏‏‏) وابن منده في " التوحيد " له (77 / 1 و 103 / 2) وكذا النسائي (1 /
‏‏‏‏__________جزء : 5 /صفحہ : 188__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏198
‏‏‏‏- 199) والترمذي (2 / 273) وابن ماجة (3808) وأحمد (6 / 324 - 325)
‏‏‏‏من طرق عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن كريب عن ابن عباس عن جويرية
‏‏‏‏: " أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من عندها بكرة حين صلى الصبح، وهي في
‏‏‏‏مسجدها ثم رجع بعد أن أضحى وهي جالسة، فقال: ما زلت على الحال التي فارقتك
‏‏‏‏عليها؟ قالت نعم. قال النبي صلى الله عليه وسلم ... " فذكره. ولفظ النسائي
‏‏‏‏والترمذي وأحمد: " ألا أعلمك كلمات لو عدلن بهن عدلتهن، أو لو وزن بهن
‏‏‏‏وزنتهن، يعني بجميع ما سبحت؟ سبحان الله عدد خلقه، ثلاث مرات ... " الحديث
‏‏‏‏وقال الترمذي: " حديث حسن صحيح ". قلت: وهو على شرط مسلم وهو رواية لابن
‏‏‏‏خزيمة. وقد رويت هذه القصة من طريق أخرى وهي مع ضعف إسنادها مخالفة لهذه
‏‏‏‏القصة الصحيحة من وجوه منها أن التسبيح كان عدا بالنوى أو الحصى، وقد بينت
‏‏‏‏ذلك في " الضعيفة " (1 / 131) ، فليرجع إليه من شاء.
‏‏‏‏¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 2969 in Urdu