سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
زنا کی اجازت مانگنے والے کو سمجھانے کا انداز نبوی اور اس کے لیے دعا
ترقیم الباني: 370 ترقیم فقہی: -- 3138
-" اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وحصن فرجه".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کی اجازت دیجئیے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا: اوئے رک جا، اوئے رک جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا قریب ہو۔“ وہ آپ کے قریب آیا اور بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تم اس چیز کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے اللہ آپ پر قربان کرے، نہیں، اللہ کی قسم! (نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے اس (خباثت) کو پسند نہیں کرتے، ( اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر قربان ہوں، نہیں، اللہ کی قسم! ( نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح لوگ ہیں کہ وہ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں، ( اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، نہیں، اللہ کی قسم! (نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اس چیز کو اپنے بہنوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں، (اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری طرح لوگ بھی اپنے پھوپھیوں کے لیے اسے ناپسند کرتے ہیں، (اچھا یہ بتاؤ کہ) کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے؟“ اس نے کہا: میں آپ پر قربان ہوں، نہیں، اللہ کی قسم! (نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی اس چیز کو اپنی خالاؤں کے لیے ناپسند کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور یہ دعا دی: ”اے اللہ! اس کے گناہ بخش دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔“ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3138]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 370
قال الشيخ الألباني:
- " اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وحصن فرجه ".
_____________________
أخرجه أحمد (5 / 256 - 257) : حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حريز حدثنا سليم
ابن عامر عن أبي أمامة قال:
" إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ائذن لي
بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه مه! فقال: ادنه، فدنا منه
قريبا قال: فجلس، قال: أتحبه لأمك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال
: ولا الناس يحبونه لأمهاتهم، قال: أفتحبه لابنتك؟ قال: لا والله يا رسول
الله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لبناتهم، قال: أفتحبه لأختك
؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لأخواتهم قال:
أفتحبه لعمتك. قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه
لعماتهم، قال: أفتحبه لخالتك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال:
ولا الناس يحبونه لخالاتهم، قال: فوضع يده عليه وقال: اللهم اغفر
__________جزء : 1 /صفحہ : 712__________
ذنبه وطهر
قلبه وحصن فرجه. فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء ".
وهذا سند صحيح رجاله كلهم ثقات رجال الصحيح. ¤
- " اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وحصن فرجه ".
_____________________
أخرجه أحمد (5 / 256 - 257) : حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حريز حدثنا سليم
ابن عامر عن أبي أمامة قال:
" إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ائذن لي
بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه مه! فقال: ادنه، فدنا منه
قريبا قال: فجلس، قال: أتحبه لأمك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال
: ولا الناس يحبونه لأمهاتهم، قال: أفتحبه لابنتك؟ قال: لا والله يا رسول
الله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لبناتهم، قال: أفتحبه لأختك
؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لأخواتهم قال:
أفتحبه لعمتك. قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه
لعماتهم، قال: أفتحبه لخالتك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال:
ولا الناس يحبونه لخالاتهم، قال: فوضع يده عليه وقال: اللهم اغفر
__________جزء : 1 /صفحہ : 712__________
ذنبه وطهر
قلبه وحصن فرجه. فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء ".
وهذا سند صحيح رجاله كلهم ثقات رجال الصحيح. ¤
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3138 in Urdu