🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
قریش کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1688 ترقیم فقہی: -- 3376
-" إن قريشا أهل أمانة، لا يبغيهم العثرات أحد إلا كبه الله عز وجل لمنخريه".
زید بن عبدالرحمٰن بن سعید بن عمرو بن نفیل، جن کا بنو عدی قبیلہ سے تعلق ہے، اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں کچھ قریشی جوانوں سمیت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ چھت کے ساتھ ایک رسی لٹک رہی تھی اور اس کے سامنے روٹیاں یا ان کے ٹکڑے پڑے تھے۔ جب کوئی مسکین کھانا مانگتا ہے تو سیدنا جابر ایک ٹکڑا اٹھاتے، رسی کو پکڑ کر اس کی رہنمائی میں مسکین تک پہنچتے، اسے وہ ٹکڑا تھماتے اور رسی کی رہنمائی میں ہی واپس آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ آپ کو صحت و عافیت سے نوازے، ہم یہ ٹکڑا (‏‏‏‏آسانی سے) مسکین کو پکڑا سکتے تھے (‏‏‏‏آپ نے ہمیں کہہ دینا تھا، خود کیوں تکلیف کی ہے)۔ انہوں نے کہا: دراصل میں اجر و ثواب کی نیت سے چل کر گیا ہوں، پھر کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے خود سنی؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، (‏‏‏‏ضرور بیان کیجئیے)۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏ بیشک قریشی امانت والے ہیں، جو آدمی ان کے عیوب کی ٹوہ میں پڑ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے نتھنوں کے بل (‏‏‏‏اوندھے منہ) گرا دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3376]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1688

قال الشيخ الألباني:
- " إن قريشا أهل أمانة، لا يبغيهم العثرات أحد إلا كبه الله عز وجل لمنخريه ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏رواه ابن عساكر (3 / 320 / 1 - 2) عن السور بن عبد الملك بن عبيد بن سعيد بن
‏‏‏‏يربوع المخزومي عن زيد بن عبد الرحمن بن سعيد بن عمرو بن نفيل من بني عدي عن
‏‏‏‏أبيه قال: جئت جابر بن عبد الله الأنصاري في فتيان من قريش، فدخلنا عليه
‏‏‏‏بعد أن كف بصره، فوجدنا حبلا معلقا في السقف وأقراصا مطروحة بين يديه أو خبزا
‏‏‏‏، فكلما استطعم مسكين قام جابر إلى قرص منها وأخذ الحبل حتى يأتي المسكين
‏‏‏‏فيعطيه، ثم يرجع بالحبل حتى يقعد، فقلت له: عافاك الله نحن إذا جاء المسكين
‏‏‏‏أعطينا، فقال: إني أحتسب
‏‏‏‏__________جزء : 4 /صفحہ : 260__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏المشي في هذا. ثم قال: ألا أخبركم شيئا سمعته من
‏‏‏‏رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالوا: بلى، قال: سمعته يقول: فذكره.
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد ضعيف لم أعرف أحد من رواته غير صحابيه، وأخشى أن يكون وقع
‏‏‏‏في نسخه " التاريخ " تصحيف. والله أعلم. ثم تبين لي أن الرجل الأدنى هو
‏‏‏‏المسور ووقع فيه السور! - ذكره الذهبي في " الميزان " وقال: " ليس بالقوي،
‏‏‏‏قاله الأزدي ". وكذا في " اللسان ". وأورده ابن أبي حاتم في " كتابه " من
‏‏‏‏رواية جمع من الثقات عنه، فمثله حسن الحديث في المتابعات والشواهد. وقد
‏‏‏‏وجدت له شاهدا من حديث رفاعة بن رافع مرفوعا به، وفي أوله زيادة أوردته من
‏‏‏‏أجلها في " الضعيفة " (1716) لجهالة في إسناده، فالحديث بمجموعهما حسن كما
‏‏‏‏ذكرت هناك. والله أعلم. ¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3376 in Urdu