🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
بدعت اور خیانت کا وبال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3944 ترقیم فقہی: -- 3714
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے غلام عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں لوگوں کو حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی رہتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر کوئی حدیث براہ راست نہیں سنی تھی، ایک دن میری لونڈی میری کنگھی کر رہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آواز لگاتے سنا: لوگو! میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے، نہ کہ عورتوں کو۔ میں نے کہا: (‏‏‏‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ہے اور) میں بھی ان میں سے ہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا۔ میری اطاعت کرتے رہنا! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم وہاں میرے پاس پہنچو اور تمہیں بھٹکے ہوئے اونٹ کی طرح (‏‏‏‏مجھ سے دور) دھتکار دیا جائے۔ میں پوچھوں: ایسے کیوں ہو رہا ہے؟ مجھے جواباً کہا جائے: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں۔ (‏‏‏‏یہ سن کر) میں کہوں گا: بربادی ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3714]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3944

قال الشيخ الألباني:
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه مسلم (7/67) ، والنسائي في "التفسير- الكبرى" (13/16/18173-تحفة الأشراف) ، وأحمد (6/297) ، والطبراني في "المعجم الكبير" (23/297 و413) عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -أنها قالت:
‏‏‏‏كنت أسمع الناس يذكرون الحوض؛ ولم أسمع ذلك من رسول الله - صلى الله عليه وسلم -،
‏‏‏‏فلما كان يوماً من ذلك والجارية تمشطني، فسمعت رسول الله يقول:
‏‏‏‏"أيها الناس! ".
‏‏‏‏فقلت للجارية: استأخري عني؛ قالت: إنما دعا الرجال، ولم يدعُ النساء! فقلت: إني من الناس! فقال رسول الله- صلى الله عليه وسلم -: ... فذكره. والسياق لمسلم؛ ولفظ أحمد:
‏‏‏‏"أيها الناس! بينما أنا على الحوض؛ جيء بكم زُمراً، فتفرقت بكم الطرق، فناديتكم: ألا هلموا إلى الطريق! فنادى مناد من بعدي: إنهم قد بدلوا بعدك، فقلت: ألا سحقاً! ألا سحقاً! ".
‏‏‏‏وإسناده جيد على شرط مسلم.
‏‏‏‏والحديث في "زوائد الجامع للسيوطي " برواية مسلم فقط؛ وقد سبقت الإشارة إليها تحت الحديث (2948) . * ¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3714 in Urdu