🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
تخلیق جہنم کے بعد میکائیل ہنسے نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2511 ترقیم فقہی: -- 3894
-" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل عليه السلام: ما لي لم أر ميكائيل ضاحكا قط؟ قال: ما ضحك ميكائيل منذ خلقت النار".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میکائیل کبھی بھی مجھے ہنستے دکھائی نہیں دئیے؟ انہوں نے کہا: جب سے (‏‏‏‏جہنم کی) آگ کو پیدا کیا گیا، اس وقت سے میکائیل نہیں ہنسے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3894]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2511
وضاحت: نوٹ: اسی متن «ما ضحك ميكائيل منذ خلقت النار» کو (إسماعيل بن عياش عن عمارة بن غزية عن حميد بن عبيد عن ثابت البناني عن أنس بن مالك)، شیخ الألباني رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة میں ضعیف قرار دیا ہے (تقریباً نمبر 4454 کے قریب، اور ضعيف الجامع الصغير میں بھی نمبر 107 کے آس پاس)۔
ضعف کی وجوہات جو شیخ الألباني نے بیان کیں:

إسماعيل بن عياش کی روایت مدنی راویوں (جیسے عمارة بن غزية جو مدنی ہے) سے ضعیف ہے۔ محدثین کا اتفاق ہے کہ إسماعيل بن عياش کی روایت شامیوں سے تو اچھی ہے، لیکن حجازیوں اور مدنیوں سے مناکیر (غلطیاں) آتی ہیں۔ یہ ضعف مجمع علیہ ہے، اور ہیثمی نے بھی یہی کہا: "رواه أحمد من رواية إسماعيل بن عياش عن المدنيين وهي ضعيفة".
حميد بن عبيد (مولى بني المعلى) مجہول الحال ہے۔ حافظ ابن حجر نے "التعجيل" میں کہا: "لا يدري من هو" (یعنی معلوم نہیں کون ہے)۔ صرف یہ کہنا کہ وہ مدنی اور موالی انصار سے ہے، توثیق نہیں بلکہ صرف شناخت ہے، جو ضعف کو دور نہیں کرتی۔

یہ دونوں علتیں (ضعف) اس سند کو ضعیف بناتی ہیں، اس لیے العراقي کا "إسناده جيد" کہنا اور سیوطی کا حسن قرار دینا غلطی ہے، جیسا کہ الألباني نے تفصیل سے بیان کیا۔
نوٹ: یہ ضعیف سند الگ ہے اس صحیح سند سے جو بروایت (ابن عمر السلسلة الصحيحة 2511 میں صحیح ہے)۔ دونوں کا متن ایک جیسا ہے، لیکن سندیں مختلف ہیں۔ ضعیف والی (أنس بن مالك والی) کو شواہد کی وجہ سے بعض جگہ حسن لغیرہ بھی کہا گیا، لیکن الألباني نے اس مخصوص طريق کو ضعیف رکھا کیونکہ علتیں واضح ہیں۔
یہ تحقیق الألباني کی کتابوں (سلسلة الضعيفة، ضعيف الجامع، اور دیگر تخاریج) پر مبنی ہے۔

قال الشيخ الألباني:
- " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل عليه السلام: ما لي لم أر ميكائيل ضاحكا قط؟ قال: ما ضحك ميكائيل منذ خلقت النار ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه الروياني في " مسنده " (ق 247 / 2) : أخبرنا محمد بن بشار أخبرنا يحيى
‏‏‏‏بن سعيد القطان أخبرنا ثور بن يزيد عن عبد الرحمن بن عائذ عن مجاهد عن ابن
‏‏‏‏عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم - وربما لم يرفعه - قال: فذكره. قلت:
‏‏‏‏وهذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال البخاري غير عبد الرحمن بن عائذ، وهو ثقة
‏‏‏‏كما في " التقريب ". والحديث أخرجه الحاكم (2 / 80 - 81) وعنه البيهقي (9
‏‏‏‏/ 149) من طريق مسدد: حدثنا يحيى بن سعيد به إلا أنه لم يقل: " وربما لم
‏‏‏‏يرفعه ". وقال الحاكم: " صحيح على شرط البخاري "! ووافقه الذهبي! وذلك
‏‏‏‏من أوهامهما لما تقدم من الاستثناء، وقد أقره المنذري أيضا (2 / 154) ! ثم
‏‏‏‏قال الحاكم: " وقد أوقفه وكيع بن الجراح عن ثور، وفي يحيى بن سعيد قدوة ".
‏‏‏‏قلت: وهو كما قال، لكن يحيى قد ذكر أن الراوي - ولعله ابن عمر أو من دونه -
‏‏‏‏كان ربما لم يرفعه، وذلك مما لا يضر لأن الراوي قد لا ينشط أحيانا فيوقفه،
‏‏‏‏ولأنه لا يقال من قبل الرأي كما هو ظاهر. (تنبيه) : " حارس الحرس " كذا وقع
‏‏‏‏في " المسند " وفي المصدرين الآخرين: " حارس حرس " ولعله الصواب، فإنه كذلك
‏‏‏‏في " مصنف ابن أبي شيبة " (5 / 296) : حدثنا وكيع أخبرنا ثور به موقوفا.
‏‏‏‏وكذا هو في " الترغيب ". والله أعلم.
‏‏‏‏__________جزء : 6 /صفحہ : 42__________
‏‏‏‏¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3894 in Urdu