سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارہ منافق اور ان کا انجم بد
ترقیم الباني: 3537 ترقیم فقہی: -- 4003
- (إنّ في أمتي اثني عشر منافقاً، لا يدخلون الجنّة ولا يجدون ريحها؛ حتى يلج الجملُ في سمّ الخياط؛ ثمانيةٌ منهم تكفيكهم الدّبيلة: سراجٌ من نار يظهرُ في أكتافهم حتى ينجم من صدورهم) .
قیس بن عباد کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس لڑائی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ تم لوگوں کی اپنی رائے کا نتیجہ ہے، جس میں غلط یا درست ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے، یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس قسم کی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی مخصوص نصیحت نہیں فرمائی، آپ نے اتنا ضرور فرمایا: ”میری امت میں بارہ منافق ہوں گے، وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے، جب تک اونٹ سوئی کے نکے میں سے داخل نہ ہو جائے۔ ان میں سے آٹھ کو تو بڑی آفت (پھوڑا یا ورم) ہی کافی ہے، یعنی آگ کا ایک شعلہ ان کے کندھوں میں ظاہر ہو کر (اندر گھس جائے گا اور) وہ سینے سے نمودار ہو گا۔ “ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 4003]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3537
قال الشيخ الألباني:
- (إنّ في أمتي اثني عشر منافقاً، لا يدخلون الجنّة ولا يجدون ريحها؛ حتى يلج الجملُ في سمّ الخياط؛ ثمانيةٌ منهم تكفيكهم الدّبيلة: سراجٌ من نار يظهرُ في أكتافهم حتى ينجم من صدورهم) .
_____________________
أخرجه مسلم (8/123) ، وأحمد (4/ 320) ، والبيهقي في "الدلائل " (5/262) ، والبغوي في "التفسير" (4/69) من طريق شعبة عن قتادة عن أبي نضرة عن قيس بن عُباد قال:
قلنا لعمار: أرأيت قتالكم؛ أرأياً رأيتموه؛ فإن الرأي يخطئ ويصيب، أو عهداً عهده إليكم رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فقال:
ما عهد إلينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - شيئاً لم يعهده للناس كافة. وقال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ... فذكر الحديث. * ¤
- (إنّ في أمتي اثني عشر منافقاً، لا يدخلون الجنّة ولا يجدون ريحها؛ حتى يلج الجملُ في سمّ الخياط؛ ثمانيةٌ منهم تكفيكهم الدّبيلة: سراجٌ من نار يظهرُ في أكتافهم حتى ينجم من صدورهم) .
_____________________
أخرجه مسلم (8/123) ، وأحمد (4/ 320) ، والبيهقي في "الدلائل " (5/262) ، والبغوي في "التفسير" (4/69) من طريق شعبة عن قتادة عن أبي نضرة عن قيس بن عُباد قال:
قلنا لعمار: أرأيت قتالكم؛ أرأياً رأيتموه؛ فإن الرأي يخطئ ويصيب، أو عهداً عهده إليكم رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فقال:
ما عهد إلينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - شيئاً لم يعهده للناس كافة. وقال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ... فذكر الحديث. * ¤
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 4003 in Urdu