🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نواقض وضو
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3070 ترقیم فقہی: -- 430
- (يا أبا رافعٍ! إنّها لم تَأْمُرْكَ إلا بخيرٍ. أي: بالوضوءِ من الريحِ) .
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی یا آپ کے غلام ابورافع کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابورافع کی شکایت کرنے کی اجازت چاہی، جس نے اسے مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع سے پوچھا: ”ابورافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے۔“ اس نے کہا: یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمی! تو نے اس کو کیا تکلیف دی ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، (اصل بات یہ ہے کہ) نماز کی حالت میں یہ بے وضو ہو گیا، میں نے اس سے کہا: ابورافع! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اگر کسی کی ہوا نکل جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔ طبرانی کے الفاظ یہ ہیں: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔“ (میری یہ بات سن کر) یہ اٹھا اور مجھے مارنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر مسکرانے لگے اور فرمایا: ”ابورافع! اس نے تجھے بھلائی کا حکم ہی دیا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 430]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3070

قال الشيخ الألباني:
- (يا أبا رافعٍ! إنّها لم تَأْمُرْكَ إلا بخيرٍ. أي: بالوضوءِ من الريحِ) .
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه أحمد (6/ 72) ، والبزار (1/ 146/ 280) ، والطبراني في " المعجم
‏‏‏‏الكبير" (24/ 301/765) من طريق ابن إسحاق قال: حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة زوج النبي - صلى الله عليه وسلم - قالت:
‏‏‏‏أتت سلمى مولاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أو امرأة أبي رافع مولى رسول الله- صلى الله عليه وسلم - إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - تستأذنه على أبي رافع قد ضربها. قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لأبي رافع:
‏‏‏‏" مالك ولها يا أبا رافع؟ ! ".
‏‏‏‏قال: تؤذيني يا رسول الله!
‏‏‏‏فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:
‏‏‏‏" بم آذيتيه يا سلمى؟! ".
‏‏‏‏قالت: يا رسول الله! ما آذيته بشيء؛ ولكنه أحدث وهو يصلي، فقلت له: يا أبا رافع! إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قد أمر المسلمين إذا خرج من أحدهم الريح أن يتوضأ. (وقال الطبراني: إن رسول الله- صلى الله عليه وسلم - قال: "من خرج منه ريح فليعد الوضوء) ، فقام فضربني، فجعل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يضحك ويقول ... فذكره.
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد جيد، رجاله ثقات رجال الشيخين؛ غير ابن إسحاق- وهو محمد صاحب "السيرة"- وهو حسن الحديث، وقد صرح بالتحديث، فأمِنَّا بذلك تدليسه. * ¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 430 in Urdu