🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نمازوں کے اول و آخر اوقات
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1696 ترقیم فقہی: -- 610
-" إن للصلاة أولا وآخرا، وإن أول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس وآخر وقتها حين يدخل وقت العصر، وإن أول وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں نماز کی ابتدا کا وقت ہے وہاں اس کی انتہا کا بھی وقت ہے۔ ظہر کے وقت کا آغاز سورج کے ڈھلنے سے ہوتا ہے اور جب عصر کا وقت داخل ہوتا ہے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے، نماز عصر کا پہلا وقت وہی ہے جو ہے اور جب سورج زرد ہو جاتا ہے تو اس کا (مختار) آخری وقت ختم ہو جاتا ہے، مغرب کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور افق (یعنی سرخی) کے غائب ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے، عشاء کا وقت افق (یعنی سرخی) کے غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے اور نصف رات کو ختم ہو جاتا ہے اور فجر کا پہلا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 610]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1696

قال الشيخ الألباني:
- " إن للصلاة أولا وآخرا، وإن أول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس وآخر وقتها حين يدخل وقت العصر، وإن أول وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه الترمذي (1 / 284 - شاكر) والطحاوي في " شرح المعاني " (1 / 89)
‏‏‏‏والدارقطني في " السنن " (ص 97) والبيهقي (1 / 375 - 376) وأحمد (2 /
‏‏‏‏232) من طريق محمد بن فضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال
‏‏‏‏رسول الله صلى الله عليه وسلم : فذكره.
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، وقد أعلوه بأن غير ابن فضيل من
‏‏‏‏الثقات قد رووه عن الأعمش عن مجاهد مرسلا. وهذه ليست علة قادحة لاحتمال أن
‏‏‏‏يكون للأعمش فيه إسنادان: أحدهما عن أبي صالح عن أبي هريرة. والآخر عنه عن
‏‏‏‏مجاهد مرسلا. ومثل هذا كثير في أحاديث الثقات، فمثله لا يرد به الحديث،
‏‏‏‏لاسيما وكل ما فيه قد جاء في الأحاديث الصحيحة، فليس فيه ما يستنكر. والله
‏‏‏‏أعلم. وقد بسط القول في رد هذه العلة المحقق العلامة أحمد شاكر في تعليقه على
‏‏‏‏الترمذي (1 / 284 - 285) فأجاد. فمن شاء البسط فليراجع إليه. ¤



Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 610 in Urdu