مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
سو جانے سے وضو (کرنا ضروری ہے) اور (کوئی ایسا بھی ہے) جو ایک دو مرتبہ اونگھ جانے سے یا جھونکا آ جانے، سر کے ہل جانے سے وضو (کو فرض) نہیں سمجھتا؟
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں کوئی شخص اونگھنے لگے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ (نماز توڑ کر) سو جائے، یہاں تک کہ اس کی نیند جاتی رہے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی نیند کی حالت میں نماز پڑھے گا تو وہ کچھ نہیں جانتا شاید استغفار کرتا ہو اور وہ (انجانے میں) اپنے نفس کو بددعا دے ڈالے۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 161]
Mukhtasar Sahih Bukhari Hadith 161 in Urdu