🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سفر میں (زادراہ) کم پڑ جائے تو باقی ماندہ چیزوں کو اکٹھا کر لینے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا حکم۔
ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی کے لئے نکلے، وہاں ہمیں (کھانے اور پینے کی) تکلیف ہوئی (یعنی کمی واقع ہو گئی) یہاں تک کہ ہم نے سواری کے اونٹوں کو نحر کرنے کا قصد کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے اپنے اپنے سفر خرچ کو جمع کیا اور ایک چمڑا بچھایا، اس پر سب لوگوں کے زادراہ اکٹھے ہوئے۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے ناپنے کے لئے لمبا ہوا، تو اس کو اتنا پایا کہ جتنی جگہ میں بکری بیٹھتی ہے اور ہم (لشکر کے) چودہ سو آدمی تھے۔ پھر ہم لوگوں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا اور اس کے بعد اپنے اپنے توشہ دان کو بھر لیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کا پانی ہے؟ ایک شخص ڈول میں ذرا سا پانی لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک گڑھے میں ڈال دیا اور ہم سب چودہ سو آدمیوں نے اسی پانی سے وضو کیا، خوب بہاتے جاتے تھے۔ اس کے بعد آٹھ آدمی اور آئے اور انہوں نے کہا کہ وضو کا پانی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کا پانی گر چکا۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1067]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1067 in Urdu