🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شہداء سے اللہ تعالیٰ راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیجیں جو ہمیں قرآن و سنت سکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ستر آدمی انصار میں سے بھیجے ان کو قراء (قاری حافظ لوگ) کہا جاتا تھا اور ان میں میرے ماموں حرام رضی اللہ عنہ بھی تھے وہ (قراء) قرآن پڑتے تھے اور اکٹھے بیٹھ کر رات کو ایک دوسرے کو پڑھاتے اور پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھ دیتے اور لکڑیاں (جنگل سے) لا کر بیچتے تھے اور (اس قیمت کا) کھانا خریدتے اور اہل صفہ کو کھلاتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لوگوں کے پاس بھیج دیا (جو تعلیم کے لئے کچھ آدمی مانگتے تھے)۔ لیکن انہوں نے ان قراء کو اس سے پہلے کہ وہ اس علاقے میں جاتے (جس میں ان کو بلایا گیا تھا) شہید کر دیا۔ ان قراء نے کہا اللھم بلغ عنا نبینا الخ یعنی اے اللہ ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم اللہ کو مل گئے ہیں اور ہم اللہ سے راضی ہو گئے اور اللہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے ماموں حرام رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کافر آیا اور اس نے پیچھے سے ایک نیزہ مارا اور پار کر دیا تو سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے کہا فزت ورب الکعبۃ یعنی کعبہ کے رب کی قسم میں تو کامیاب ہو گیا۔ پھر (جب یہ واقعہ ہو چکا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے (مسلمان) بھائی شہید ہو گئے ہیں اور انھوں نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ہم اللہ کو مل گئے ہم اللہ سے راضی ہو گئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1081]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1081 in Urdu