علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
دشمن کے ساتھ آمنا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرنا لیکن جب آمنا سامنا ہو، تو صبر کرنا چاہیئے۔
ابوالنضر سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی جو کہ قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، کی کتاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو کہ جب وہ حروریہ کی طرف (لڑائی) کے لئے نکلے تو لکھا اور وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی خبر دینا چاہتے تھے کہ جن دنوں رسول صلی اللہ علیہ وسلم دشمن سے لڑائی کی حالت میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب تک انتظار کیا اور پھر لوگوں (صحابہ کرام) میں کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! دشمن سے (لڑائی) ملاقات کی آرزو مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی آرزو کرو۔ (لیکن) جب آمنا سامنا ہو جائے تو صبر سے کام لو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور یوں دعا فرمائی کہ اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو بھگانے والے، ان کو بھگا دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1126]
اس باب میں سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی کی حدیث ہے جو پچھلے باب میں گزر چکی ہے`۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1126M]
Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1126 in Urdu