علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
جہاد میں مشرکین سے مدد لینا (کیسا ہے؟)۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کی طرف نکلے۔ جب (مقام) حرۃ الوبرہ (جو مدینہ سے چار میل پر ہے) میں پہنچے، تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، جس کی بہادری اور اصالت کا شہرہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلوں اور جو ملے اس میں حصہ پاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو لوٹ جا، میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب شجرہ (مقام) پہنچے تو وہ شخص پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور وہی کہا جو پہلے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا اور فرمایا کہ لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔ پھر وہ لوٹ گیا اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مقام) بیداء میں ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا کہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا ہے؟ اب وہ شخص بولا کہ ہاں میں یقین رکھتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چل۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1129]
Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1129 in Urdu