🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسن اخلاق والے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام پر جانے کو کہا تو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا، لیکن میرے دل میں یہی تھا کہ جس کام کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں جاؤں گا۔ (لڑکپن کے قاعدے پر میں نے ظاہر میں انکار کیا) آخر میں نکلا یہاں تک کہ مجھے لڑکے ملے جو بازار میں کھیل رہے تھے (غالباً وہاں تک کر ان کو دیکھنے لگے۔ اور کام سے دیر ہو گئی)۔ یکایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آ کر میری گردن تھام لی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انیس! (یہ تصغیر ہے انس کی پیار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تو وہاں گیا جہاں میں نے حکم دیا تھا؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے نو برس تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، مجھے یاد نہیں کہ کسی کام کے لئے جس کو میں نے کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تو نے ایسا کیوں کیا یا کسی کام کو میں نے نہ کیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ کیوں نہیں کیا۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1582]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1582 in Urdu