🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا مومنین کے لئے رحمت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نہیں جانتی کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا باتیں کیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر لعنت کی اور ان کو برا کہا۔ جب وہ باہر نکلے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں کو کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں؟ میں نے عرض کیا کہ اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور ان کو برا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے معلوم نہیں جو میں نے اپنے رب سے شرط کی ہے؟۔ میں نے عرض کیا ہے کہ اے میرے مالک! میں بشر ہوں، تو جس مسلمان پر میں لعنت کروں یا اس کو برا کہوں تو اس کو پاک کر اور ثواب دے۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1825]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 1825 in Urdu