🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جب دو مسلمان اپنی اپنی تلوار لے کر آمنے سامنے آ جائیں تو قاتل و مقتول (دونوں) جہنمی ہیں۔
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں اس ارادہ سے نکلا کہ اس شخص کا شریک ہوں گا (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں شریک ہوں گا)۔ راہ میں مجھ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے کہ اے احنف تم کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے احنف! تم لوٹ جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر لڑیں تو مارنے والا اور مارا جانے والا دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یا کسی اور نے کہا کہ یا رسول اللہ! قاتل تو جہنم میں جائے گا، لیکن مقتول کیوں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 2005]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 2005 in Urdu