🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مختصر صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ابن صیاد کے قصہ کے بارے میں۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ذکر میں ایک لمبی حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی بیان کیا کہ اس پر مدینہ کی گھاٹی میں گھسنا حرام ہو گا اور وہ مدینہ کے قریب ایک پتھریلی زمین پر آئے گا۔ پھر اس کے پاس ایک شخص جائے گا جو سب لوگوں میں بہتر ہو گا، وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کا ذکر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں کیا ہے۔ دجال لوگوں سے کہے گا کہ بھلا اگر میں اس کو مار ڈالوں، پھر زندہ کر دوں تو کیا تمہیں اس بارے میں کچھ شک رہے گا؟ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ دجال اس شخص کو قتل کرے گا اور پھر اس کو زندہ کر دے گا۔ پس جب وہ اس کو زندہ کرے گا تو کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھے پہلے تیرے بارے میں اتنا یقین نہ تھا جتنا اب ہے۔ (یعنی اب تو یقین ہو گیا کہ تو دجال ہے) پھر دجال اس کو قتل کرنا چاہے گا لیکن قتل نہ کر سکے گا۔ راوی ابواسحٰق نے کہا کہ یہ آدمی خضر علیہ السلام ہیں۔ (لیکن یہ ثابت نہیں ہے بلکہ دلائل اس پر شاہد ہیں کہ خضر علیہ السلام وفات پا چکے ہیں)۔ [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 2049]

Mukhtasar Sahih Muslim Hadith 2049 in Urdu