🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب التيمم
تیمم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي،‏‏‏‏ فسألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأمرني أن أمسح على الجبائر. رواه ابن ماجه بسند واه جدا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو۔“
اسے ابن ماجہ نے نہایت ہی کمزور و ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «انْكَسَرَتْ» ٹوٹ گئی – «إِحْدَى» ایک – «زَنْدَيَّ» میری دونوں کلائیوں میں سے، – «فَسَأَلْتُ» تو میں نے پوچھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَأَمَرَنِي» تو آپ نے مجھے حکم دیا – «أَنْ» کہ – «أَمْسَحَ» میں مسح کروں – «عَلَى» پر – «الْجَبَائِرِ» پٹیوں (کھپچیوں)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِسَنَدٍ» ساتھ سند کے – «وَاهٍ» جو کمزور ہے – «جِدًّا» بہت۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری دونوں کلائیوں میں سے ایک کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کھپچیوں (پٹیوں) پر مسح کر لیا کروں۔ اسے ابن ماجہ نے بہت کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطهارة، باب المسح علي الجبائر، حديث: 657* عمروبن خالد الواسطي كذاب كما قال أحمد وغيره، وقال البخاري: منكر الحديث.»

الحكم على الحديث:
موضوع


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
657
انكسرت إحدى زندي فسألت النبي فأمرني أن أمسح على الجبائر
بلوغ المرام
115
انكسرت إحدى زندي،‏‏‏‏ فسالت رسول الله فامرني ان امسح على الجبائر
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 115 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 115
� لغوی تشریح:
«زَنْدَيَّ» ”زا“ پر فتحہ، ”نون“ ساکن اور ”یا“ پر تشدید ہے۔ ”زند“ کا تثنیہ ہے اور یائے متکلم کی طرف مضاف ہے۔ اور ”زند“ سے مراد ہتھیلی کی جانب بازو کا جوڑ ہے جسے «رُسْغٌ» ، یعنی گٹا (کلائی) کہتے ہیں۔
«اَلْجَبَائِر» «جَبِيرَة» کی جمع ہے۔ کپڑے یا لکڑی کا ٹکڑا جسے ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مضبوطی سے لپیٹ کر باندھا جاتا ہے۔
«وَاهٍ» «وَهٰي يَهِي وَهِيًا» اور «وُهِيًّا» سے ماخوذ ہے۔

فوائد و مسائل:
نہایت کمزور اور ضعیف۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔ وہ نہایت جھوٹا اور دروغ گو آدمی تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بقول اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 115]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث657
پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 657]
اردو حاشہ:
اس روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ ایسا شخص شرعا معذور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 657]

Bulughul Maram Hadith 115 in Urdu