🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في العتق)
(آزادی کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
وعن سفينة رضي الله عنه قال: كنت مملوكا لأم سلمة فقالت: أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ما عشت. رواه أحمد وأبو داود والنسائي والحاكم.
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1226]
0 [بلوغ المرام/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.»

الحكم على الحديث:
حسن


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3932
أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله ما عشت فقلت وإن لم تشترطي علي ما فارقت رسول الله ما عشت فأعتقتني واشترطت علي
بلوغ المرام
1226
اعتقك واشترط عليك ان تخدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ما عشت
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1226 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1226
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزادی کا پروانہ مشروط طور پر بھی دینا جائز ہے اور غلام سے تاحیات کسی کی خدمت کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1226]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3932
شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3932]
فوائد ومسائل:
غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔
اور کیا عمدہ شرط تھی جو ام المومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3932]

Bulughul Maram Hadith 1226 in Urdu