الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان
حدیث نمبر: 1235
وعن سهل بن حنيف رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من أعان مجاهدا في سبيل الله أو غارما في عسرته أو مكاتبا في رقبته أظله الله يوم لا ظل إلا ظله» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے مجاہد فی سبیل اللہ کی اعانت و مدد کی یا تنگ حالات میں کسی مقروض سے تعاون کیا یا کسی مکاتب کا اس کے زر کتابت کی ادائیگی میں ہاتھ بٹایا کہ وہ آزاد ہو جائے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس روز سایہ عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے ماسوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:3 /487، والحاكم:2 /89، 90، عبدالله بن سهل بن حنيف وثقه الحاكم وحده، ولبعض حديثه شواهد.»
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1235 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1235
تخریج:
«أخرجه أحمد:3 /487، والحاكم:2 /89، 90، عبدالله بن سهل بن حنيف وثقه الحاكم وحده، ولبعض حديثه شواهد.» تشریح:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم اسلام خیر خواہی‘ مواسات اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے اور تنگ دستی میں ایک دوسرے سے تعاون کی تلقین کرتا اور ترغیب دیتا ہے۔
«أخرجه أحمد:3 /487، والحاكم:2 /89، 90، عبدالله بن سهل بن حنيف وثقه الحاكم وحده، ولبعض حديثه شواهد.»
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم اسلام خیر خواہی‘ مواسات اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے اور تنگ دستی میں ایک دوسرے سے تعاون کی تلقین کرتا اور ترغیب دیتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1235]