بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب صفة الصلاة
نماز کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 256
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من سبح الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وحمد الله ثلاثا وثلاثين وكبر الله ثلاثا وثلاثين فتلك تسع وتسعون وقال تمام المائة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير غفرت خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر» . رواه مسلم. وفي رواية أخرى: أن التكبير أربع وثلاثون.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے نماز کے سلام پھیرنے کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھا اور 33 مرتبہ «الحمد الله» اور «الله اكبر» بھی 33 مرتبہ دہ مجموعی طور پر یہ 99 یعنی ایک کم سو ہوئے اور سو مکمل کرنے کے لیے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» کہا تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ ان کی تعداد سمندر کی جھاگ کے مساوی ہو۔“ (مسلم) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” «الله اكبر» 34 مرتبہ کہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 256]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنْ» سے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ» جس نے اللہ کی تسبیح کی – «دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ» ہر نماز کے بعد – «ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ» تینتیس بار – «وَحَمِدَ اللَّهَ» اور اللہ کی حمد کی – «ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ» تینتیس بار – «وَكَبَّرَ اللَّهَ» اور اللہ کی تکبیر کہی – «ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ» تینتیس بار – «فَتِلْكَ» تو یہ – «تِسْعٌ وَتِسْعُونَ» ننانوے ہیں – «وَقَالَ» اور کہا – «تَمَامَ الْمِائَةِ» سو پورا کرنے کے لیے: – «لَا إِلَهَ» کوئی معبود (برحق) نہیں – «إِلَّا اللَّهُ» سوائے اللہ کے – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «لَا شَرِيكَ لَهُ» اس کا کوئی شریک نہیں – «لَهُ الْمُلْكُ» اسی کی بادشاہی ہے – «وَلَهُ الْحَمْدُ» اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے – «وَهُوَ» اور وہ – «عَلَى كُلِّ شَيْءٍ» ہر چیز پر – «قَدِيرٌ» پوری قدرت رکھنے والا ہے – «غُفِرَتْ» بخش دی جائیں گی – «خَطَايَاهُ» اس کی خطائیں – «وَلَوْ كَانَتْ» خواہ وہ ہوں – «مِثْلَ» مانند – «زَبَدِ الْبَحْرِ» سمندر کی جھاگ کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى» اور ایک دوسری روایت میں ہے: – «أَنَّ التَّكْبِيرَ» کہ تکبیر – «أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ» چونتیس بار ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا، یہ ننانوے ہو گئے، اور سو پورا کرنے کے لیے یہ کہا: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے)، تو اس کی خطائیں بخش دی جائیں گی خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ اکبر چونتیس بار ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 256]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا، یہ ننانوے ہو گئے، اور سو پورا کرنے کے لیے یہ کہا: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے)، تو اس کی خطائیں بخش دی جائیں گی خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ اکبر چونتیس بار ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة....، حديث:597.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 256 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 256
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة....، حديث:597.» تشریح:
1. اس حدیث سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ہر نماز کے اختتام پر‘ خواہ وہ نفل نماز ہو یا فرض یہ کلمات پڑھنے مسنون بھی ہیں اور بکثرت گناہوں کے بخشے جانے کی نوید بھی‘ اگرچہ بعض علماء نے ان کلمات کا فرائض کے بعد پڑھنا مشروع قرار دیا ہے۔
2. اس دعا کا پس منظر جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز فقراء مہاجرین نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مالدار اور صاحب ثروت لوگ بڑے بڑے درجے اور دائمی عیش لے گئے۔
وہ لوگ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس مال و دولت کی بہتات ہے جس سے وہ حج و عمرہ اور جہاد کرتے ہیں‘ غلام آزاد کرتے ہیں اور صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں (ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی نہیں ہے۔
) آپ نے (انھیں تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: ”میں تمھیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس پر عمل کر کے تم اپنے سے بڑھ جانے والوں کا ثواب بھی حاصل کر لو اور تمھارے بعد تمھیں کوئی نہ پا سکے اور تم جن لوگوں میں ہو ان سے بہتر ہو جاؤ گے الا یہ کہ کوئی وہی عمل کرے جو تم کرو“؟ اس موقع پر آپ نے ہر نماز کے بعد مذکورہ کلمات کہنے کا حکم فرمایا۔
(صحیح البخاري‘ الأذان‘ باب الذکر بعد الصلاۃ‘ حدیث:۸۴۳‘ وصحیح مسلم‘ المساجد‘ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ‘ حدیث:۵۹۵) 3.ان کلمات کو پڑھنے کی دو صورتیں اس حدیث سے معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ سُبْحَانَ اللّٰہ ۳۳ مرتبہ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۳۳ مرتبہ اور اللّٰہُ أَکْبَرُ ۳۴ مرتبہ۔
دوسری یہ کہ ۳۳‘ ۳۳ مرتبہ تینوں کلمات اور ایک مرتبہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ ‘ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیـرٌ پڑھ کر سو کی تعداد پوری کرے۔
اگر تینوں کلمات بالترتیب ۳۳‘ ۳۳ اور ۳۴ مرتبہ پڑھے جائیں تو پھر لَا إِلٰہ َ إِلَّا اللّٰہ…الخ نہیں پڑھنا چاہیے‘ یہ سنت سے ثابت نہیں۔
«أخرجه مسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة....، حديث:597.»
1. اس حدیث سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ہر نماز کے اختتام پر‘ خواہ وہ نفل نماز ہو یا فرض یہ کلمات پڑھنے مسنون بھی ہیں اور بکثرت گناہوں کے بخشے جانے کی نوید بھی‘ اگرچہ بعض علماء نے ان کلمات کا فرائض کے بعد پڑھنا مشروع قرار دیا ہے۔
2. اس دعا کا پس منظر جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز فقراء مہاجرین نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مالدار اور صاحب ثروت لوگ بڑے بڑے درجے اور دائمی عیش لے گئے۔
وہ لوگ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس مال و دولت کی بہتات ہے جس سے وہ حج و عمرہ اور جہاد کرتے ہیں‘ غلام آزاد کرتے ہیں اور صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں (ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی نہیں ہے۔
) آپ نے (انھیں تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: ”میں تمھیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس پر عمل کر کے تم اپنے سے بڑھ جانے والوں کا ثواب بھی حاصل کر لو اور تمھارے بعد تمھیں کوئی نہ پا سکے اور تم جن لوگوں میں ہو ان سے بہتر ہو جاؤ گے الا یہ کہ کوئی وہی عمل کرے جو تم کرو“؟ اس موقع پر آپ نے ہر نماز کے بعد مذکورہ کلمات کہنے کا حکم فرمایا۔
(صحیح البخاري‘ الأذان‘ باب الذکر بعد الصلاۃ‘ حدیث:۸۴۳‘ وصحیح مسلم‘ المساجد‘ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ‘ حدیث:۵۹۵) 3.ان کلمات کو پڑھنے کی دو صورتیں اس حدیث سے معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ سُبْحَانَ اللّٰہ ۳۳ مرتبہ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۳۳ مرتبہ اور اللّٰہُ أَکْبَرُ ۳۴ مرتبہ۔
دوسری یہ کہ ۳۳‘ ۳۳ مرتبہ تینوں کلمات اور ایک مرتبہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ ‘ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیـرٌ پڑھ کر سو کی تعداد پوری کرے۔
اگر تینوں کلمات بالترتیب ۳۳‘ ۳۳ اور ۳۴ مرتبہ پڑھے جائیں تو پھر لَا إِلٰہ َ إِلَّا اللّٰہ…الخ نہیں پڑھنا چاہیے‘ یہ سنت سے ثابت نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 256]
Bulughul Maram Hadith 256 in Urdu