بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب صفة الصلاة
نماز کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 210
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها» . أخرجه السبعة واللفظ للبخاري ولابن ماجه بإسناد مسلم: «حتى تطمئن قائما» .ومثله في حديث رفاعة بن رافع عند أحمد وابن حبان: «حتى تطمئن قائما» .ولأحمد: «فأقم صلبك حتى ترجع العظام» . وللنسائي وأبي داود من حديث رفاعة بن رافع: «إنها لا تتم صلاة أحدكم حتى يسبغع الوضوء كما أمره الله تعالى ثم يكبر الله تعالى ويحمده ويثني عليه» . وفيها: «فإن كان معك قرآن فاقرأ وإلا فاحمد الله وكبره وهلله» . ولأبي داود: «ثم اقرأ بأم الكتاب وبما شاء الله» .ولابن حبان: «ثم بما شئت» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو اچھی طرح کر لو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر «الله اكبر» کہو۔ پھر قرآن کا جتنا حصہ تمہیں یاد ہو اس میں سے جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو، پڑھو۔ پھر رکوع کرو اور پوری طرح اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سیدھا کھڑے (ہو جاؤ) اور پورے اطمینان سے کھڑے رہو، پھر سجدہ کرو اور پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر سجدہ سے اٹھ کر پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر دوسرا سجدہ کرو اور پورے اطمینان سے کرو۔ پس پھر باقی ساری نماز میں اسی طرح (اطمینان سے ارکان نماز ادا کرو)۔“ اسے بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں۔ ابن ماجہ نے مسلم کی سند سے رکوع سے کھڑے ہونے کے وقت یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ ”پورے اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔“ احمد اور ابن حبان میں رفاعہ بن رافع بن مالک کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ”اپنی کمر (پشت) کو سیدھا کرو کہ ہڈیاں اپنے مقام میں واپس آ جائیں۔“ نسائی اور ابوداؤد میں رفاعہ بن رافع سے ہے کہ ”جب تک وضو کامل نہ ہو جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اس وقت تک نماز مکمل نہیں ہو سکتی۔ پھر تکبیر کہے اور اللہ کی حمد و ثناء کرے“ اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے ”اگر تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہو تو اسے پڑھ بصورت دیگر اللہ کی حمد و توصیف کر «الله اكبر» اور «لا إله إلا الله» ۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ”پھر سورۃ «فاتحه» پڑھ اور مزید جو اللہ نے چاہا۔“ ابن حبان میں ہے ”پھر جو تم چاہو پڑھو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 210]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا قُمْتَ» جب تم کھڑے ہو – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز کے لیے – «فَأَسْبِغِ» تو پورا (کامل) کرو – «الْوُضُوءَ» وضو کو – «ثُمَّ اسْتَقْبِلِ» پھر رخ کرو – «الْقِبْلَةَ» قبلہ کی طرف – «فَكَبِّرْ» پھر تکبیر کہو – «ثُمَّ اقْرَأْ» پھر پڑھو – «مَا تَيَسَّرَ» جو آسان ہو – «مَعَكَ» تمہارے پاس (یاد) – «مِنَ الْقُرْآنِ» قرآن میں سے – «ثُمَّ ارْكَعْ» پھر رکوع کرو – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ» یہاں تک کہ تم مطمئن ہو جاؤ – «رَاكِعًا» رکوع کی حالت میں – «ثُمَّ ارْفَعْ» پھر (سر) اٹھاؤ – «حَتَّى تَعْتَدِلَ» یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «ثُمَّ اسْجُدْ» پھر سجدہ کرو – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ» یہاں تک کہ مطمئن ہو جاؤ – «سَاجِدًا» سجدے کی حالت میں – «ثُمَّ ارْفَعْ» پھر (سر) اٹھاؤ – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ» یہاں تک کہ مطمئن ہو جاؤ – «جَالِسًا» بیٹھ کر – «ثُمَّ اسْجُدْ» پھر سجدہ کرو – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ» یہاں تک کہ مطمئن ہو جاؤ – «سَاجِدًا» سجدے کی حالت میں – «ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ» پھر یہی کرو – «فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا» اپنی ساری نماز میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں (ائمہ) نے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں – «وَلِابْنِ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے – «بِإِسْنَادِ مُسْلِمٍ» مسلم کی سند کے ساتھ: – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ» یہاں تک کہ مطمئن ہو جاؤ – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر۔ – «وَمِثْلُهُ» اور اسی کی مثل ہے – «فِي حَدِيثِ» حدیث میں – «رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ» رفاعہ بن رافع کی – «عِنْدَ أَحْمَدَ» احمد کے ہاں – «وَابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کے ہاں: – «حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا» یہاں تک کہ کھڑے ہو کر مطمئن ہو جاؤ۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد کی روایت میں ہے: – «فَأَقِمْ» تو سیدھی کرو – «صُلْبَكَ» اپنی پیٹھ – «حَتَّى تَرْجِعَ» یہاں تک کہ لوٹ آئیں – «الْعِظَامُ» ہڈیاں (اپنی جگہ)۔ – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی – «وَأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ» رفاعہ بن رافع کی حدیث سے: – «إِنَّهَا» بے شک – «لَا تَتِمُّ» پوری نہیں ہوتی – «صَلَاةُ أَحَدِكُمْ» تم میں سے کسی کی نماز – «حَتَّى يُسْبِغَ» یہاں تک کہ وہ پورا کرے – «الْوُضُوءَ» وضو – «كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ» جیسے اللہ نے اسے حکم دیا ہے – «تَعَالَى» جو بلند و برتر ہے – «ثُمَّ يُكَبِّرَ» پھر بڑائی بیان کرے – «اللَّهَ تَعَالَى» اللہ تعالیٰ کی – «وَيَحْمَدَهُ» اور اس کی حمد کرے – «وَيُثْنِيَ عَلَيْهِ» اور اس کی ثنا بیان کرے۔ – «وَفِيهَا» اور اس (روایت) میں ہے: – «فَإِنْ كَانَ» پس اگر ہو – «مَعَكَ» تمہارے پاس – «قُرْآنٌ» کچھ قرآن – «فَاقْرَأْ» تو پڑھو – «وَإِلَّا» ورنہ – «فَاحْمَدِ اللَّهَ» اللہ کی حمد کرو – «وَكَبِّرْهُ» اور اس کی بڑائی بیان کرو – «وَهَلِّلْهُ» اور لا الہ الا اللہ کہو۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «ثُمَّ اقْرَأْ» پھر پڑھو – «بِأُمِّ الْكِتَابِ» ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ) – «وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ» اور جو اللہ چاہے۔ – «وَلِابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کی روایت میں ہے: – «ثُمَّ بِمَا شِئْتَ» پھر جو تم چاہو۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح پورا وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تمہیں آسانی سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر (سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر (سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔“ اسے ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور ابن ماجہ میں مسلم کی سند سے ہے: ”یہاں تک کہ کھڑے ہو کر مطمئن ہو جاؤ۔“ اور اسی طرح احمد اور ابن حبان کے ہاں سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”یہاں تک کہ کھڑے ہو کر مطمئن ہو جاؤ۔“ اور احمد کی روایت میں ہے: ”اپنی پیٹھ سیدھی کرو یہاں تک کہ ہڈیاں (اپنی اپنی جگہ) لوٹ آئیں۔“ اور نسائی اور ابو داود میں سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک وہ اس طرح پورا وضو نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر کہے، اس کی حمد کرے اور اس کی ثنا بیان کرے۔“ اور اسی میں ہے: ”اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو پڑھو، ورنہ اللہ کی حمد کرو، اس کی بڑائی بیان کرو اور لا الہ الا اللہ کہو۔“ اور ابو داود کی روایت میں ہے: ”پھر ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ) اور جو اللہ چاہے پڑھو۔“ اور ابن حبان کی روایت میں ہے: ”پھر جو تم چاہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 210]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح پورا وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تمہیں آسانی سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر (سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر (سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان سے ٹھہر جاؤ، پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔“ اسے ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور ابن ماجہ میں مسلم کی سند سے ہے: ”یہاں تک کہ کھڑے ہو کر مطمئن ہو جاؤ۔“ اور اسی طرح احمد اور ابن حبان کے ہاں سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”یہاں تک کہ کھڑے ہو کر مطمئن ہو جاؤ۔“ اور احمد کی روایت میں ہے: ”اپنی پیٹھ سیدھی کرو یہاں تک کہ ہڈیاں (اپنی اپنی جگہ) لوٹ آئیں۔“ اور نسائی اور ابو داود میں سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک وہ اس طرح پورا وضو نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر کہے، اس کی حمد کرے اور اس کی ثنا بیان کرے۔“ اور اسی میں ہے: ”اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو پڑھو، ورنہ اللہ کی حمد کرو، اس کی بڑائی بیان کرو اور لا الہ الا اللہ کہو۔“ اور ابو داود کی روایت میں ہے: ”پھر ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ) اور جو اللہ چاہے پڑھو۔“ اور ابن حبان کی روایت میں ہے: ”پھر جو تم چاہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب أمر النبي صلي الله عليه وسلم الذي لا يتم ركوعه بالإعادة، حديث:793، ومسلم، الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة، حديث:397، وأبوداود، الصلاة، حديث:856، والترمذي، الصلاة، حديث:303، والنسائي، الافتتاح، حديث:885، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1060، وأخرجه أحمد:2 /437، وحديث رفاعة أخرجه أحمد: 4 /340، وابن حبان (الإحسان):1784، والنسائي، التطبيق، حديث:1137، وأبوداود، الصلاة، حديث:858.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 211
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ اَلسَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه قَالَ: {رَأَيْتُ اَلنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ , وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ , ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرِهِ , فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اِسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ , فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا , وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ اَلْقِبْلَةَ , وَإِذَا جَلَسَ فِي اَلرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اَلْيُسْرَى وَنَصَبَ اَلْيُمْنَى , وَإِذَا جَلَسَ فِي اَلرَّكْعَةِ اَلْأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اَلْيُسْرَى وَنَصَبَ اَلْأُخْرَى , وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ} أَخْرَجَهُ اَلْبُخَارِيُّ
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر (اولیٰ) کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے دیکھا ہے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور اپنی پشت مبارک جھکا لیتے پھر جب اپنا سر رکوع سے اوپر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ پر پہنچ جاتا (اس کے بعد) پھر جب سجدہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ (زمین) پر اس طرح رکھتے کہ نہ زیادہ سمٹے ہوتے اور نہ زمین پر بچھے ہوئے ہوتے۔ حالت سجدہ میں دونوں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوتیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر قعدہ کرتے تو بایاں پاؤں زمین پر بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری قعدہ کرتے تو بایاں پاؤں (دائیں ران کے نیچے سے) آگے بڑھا دیتے اور دایاں کھڑا رکھتے اور سرین پر بیٹھ جاتے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 211]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ» ابو حمید ساعدی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «النَّبِيَّ» نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «إِذَا كَبَّرَ» جب تکبیر کہتے – «جَعَلَ يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ کر لیتے – «حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ» اپنے دونوں کندھوں کے برابر – «وَإِذَا رَكَعَ» اور جب رکوع کرتے – «أَمْكَنَ يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ جما دیتے – «مِنْ رُكْبَتَيْهِ» اپنے دونوں گھٹنوں پر – «ثُمَّ هَصَرَ» پھر جھکا (سیدھا کر) دیتے – «ظَهْرَهُ» اپنی پیٹھ – «فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ» پھر جب اپنا سر اٹھاتے – «اسْتَوَى» سیدھے ہو جاتے – «حَتَّى يَعُودَ» یہاں تک کہ لوٹ آتا – «كُلُّ فَقَارٍ» ریڑھ کا ہر مہرہ – «مَكَانَهُ» اپنی جگہ – «فَإِذَا سَجَدَ» پھر جب سجدہ کرتے – «وَضَعَ يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ رکھتے – «غَيْرَ مُفْتَرِشٍ» نہ (بازو) بچھائے ہوئے – «وَلَا قَابِضِهِمَا» اور نہ انہیں سمیٹے ہوئے – «وَاسْتَقْبَلَ» اور رخ کرتے – «بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ» اپنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے – «الْقِبْلَةَ» قبلہ کی طرف – «وَإِذَا جَلَسَ» اور جب بیٹھتے – «فِي الرَّكْعَتَيْنِ» دو رکعتوں میں – «جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى» اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے – «وَنَصَبَ الْيُمْنَى» اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے – «وَإِذَا جَلَسَ» اور جب بیٹھتے – «فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ» آخری رکعت میں – «قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى» اپنا بایاں پاؤں آگے کر دیتے – «وَنَصَبَ الْأُخْرَى» اور دوسرا کھڑا رکھتے – «وَقَعَدَ» اور بیٹھ جاتے – «عَلَى مَقْعَدَتِهِ» اپنی سرین پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر (اٹھاتے)، اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے، پھر اپنی پیٹھ کو جھکا کر برابر کر لیتے، پھر جب سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ (کمر کا) ہر مہرہ اپنی جگہ لوٹ آتا، پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ (زمین پر) اس طرح رکھتے کہ نہ بازو بچھاتے اور نہ انہیں (پہلوؤں سے) ملاتے، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ رکھتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا رکھتے، اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے نکال دیتے، دوسرا کھڑا رکھتے اور اپنی سرین پر بیٹھ جاتے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 211]
اور سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر (اٹھاتے)، اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے، پھر اپنی پیٹھ کو جھکا کر برابر کر لیتے، پھر جب سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ (کمر کا) ہر مہرہ اپنی جگہ لوٹ آتا، پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ (زمین پر) اس طرح رکھتے کہ نہ بازو بچھاتے اور نہ انہیں (پہلوؤں سے) ملاتے، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ رکھتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا رکھتے، اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے نکال دیتے، دوسرا کھڑا رکھتے اور اپنی سرین پر بیٹھ جاتے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد، حديث:828.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 212
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه عَنْ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى اَلصَّلَاةِ قَالَ:"وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَّرَ اَلسَّمَوَاتِ"... إِلَى قَوْلِهِ:"مِنْ اَلْمُسْلِمِينَ , اَللَّهُمَّ أَنْتَ اَلْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ...} إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ اَللَّيْلِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو پہلے یہ دعا پڑھتے کہ «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض ...... من المسلمين، اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك .... إلى آخره» ”میں نے اپنے چہرے کو آسمانوں اور زمینوں کے خالق کی طرف متوجہ کیا اور میں مشرکوں سے نہیں۔ میری نماز و قربانی، میرا جینا و مرنا اللہ رب العزت ہی کے لئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی مالک، تو ہی معبود ہے، تو میرا رب اور میں تیرا بندہ ہوں۔“ (آخر تک) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رات کہ نماز (تہجد) میں پڑھا کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 212]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «أَنَّهُ كَانَ» کہ آپ (کا معمول) تھا – «إِذَا قَامَ» جب کھڑے ہوتے – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز کے لیے – «قَالَ» تو کہتے: – «وَجَّهْتُ» میں نے متوجہ کر لیا – «وَجْهِيَ» اپنا چہرہ – «لِلَّذِي» اس ذات کی طرف جس نے – «فَطَرَ» پیدا کیا – «السَّمَاوَاتِ» آسمانوں کو – «إِلَى قَوْلِهِ» ان کے قول تک: – «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں میں سے ہوں – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «أَنْتَ الْمَلِكُ» تو ہی بادشاہ ہے – «لَا إِلَهَ» کوئی معبود (برحق) نہیں – «إِلَّا أَنْتَ» سوائے تیرے – «أَنْتَ رَبِّي» تو میرا رب ہے – «وَأَنَا عَبْدُكَ» اور میں تیرا بندہ ہوں – «إِلَى آخِرِهِ» اس کے آخر تک۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور ان کی ایک روایت میں ہے: – «أَنَّ ذَلِكَ» کہ یہ – «فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ» رات کی نماز میں (ہوتا) تھا۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ”میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں (اور زمین) کو پیدا کیا۔۔۔“ یہاں تک کہ ”۔۔۔میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔۔۔“ آخر تک۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ رات کی نماز میں تھا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 212]
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ”میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں (اور زمین) کو پیدا کیا۔۔۔“ یہاں تک کہ ”۔۔۔میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔۔۔“ آخر تک۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ رات کی نماز میں تھا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، حديث:771.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 213
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه قَالَ: {كَانَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً , قَبْلِ أَنْ يَقْرَأَ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ:"أَقُولُ: اَللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ اَلْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ , اَللَّهُمَّ نقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى اَلثَّوْبُ اَلْأَبْيَضُ مِنْ اَلدَّنَسِ , اَللَّهُمَّ اِغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ} مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تھوڑا سا وقفہ فرماتے پھر قرآت شروع کرتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وقفہ کے دوران آپ کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا! «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے مابین اتنا فاصلہ اور دوری فرما دے کہ جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف فرما دے کہ جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «إِذَا كَبَّرَ» جب تکبیر کہتے – «لِلصَّلَاةِ» نماز کے لیے – «سَكَتَ» خاموش رہتے – «هُنَيَّةً» تھوڑی دیر – «قَبْلَ» پہلے – «أَنْ يَقْرَأَ» اس سے کہ قراءت کریں – «فَسَأَلْتُهُ» تو میں نے آپ سے پوچھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَقُولُ» میں کہتا ہوں: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «بَاعِدْ» دوری ڈال دے – «بَيْنِي» میرے درمیان – «وَبَيْنَ خَطَايَايَ» اور میری خطاؤں کے درمیان – «كَمَا» جیسے – «بَاعَدْتَ» تو نے دوری ڈالی ہے – «بَيْنَ الْمَشْرِقِ» مشرق کے درمیان – «وَالْمَغْرِبِ» اور مغرب کے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «نَقِّنِي» مجھے صاف کر دے – «مِنْ خَطَايَايَ» میری خطاؤں سے – «كَمَا» جیسے – «يُنَقَّى» صاف کیا جاتا ہے – «الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ» سفید کپڑا – «مِنَ الدَّنَسِ» میل کچیل سے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «اغْسِلْنِي» مجھے دھو دے – «مِنْ خَطَايَايَ» میری خطاؤں سے – «بِالْمَاءِ» پانی سے – «وَالثَّلْجِ» اور برف سے – «وَالْبَرَدِ» اور اولوں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءت سے پہلے تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے آپ سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں (یہ دعا) پڑھتا ہوں: اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءت سے پہلے تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے آپ سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں (یہ دعا) پڑھتا ہوں: اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب ما يقول بعد التكبير، حديث:744، ومسلم، المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة، حديث:598.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 214
وعن عمر رضي الله عنه أنه كان يقول: سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك رواه مسلم بسند منقطع. ورواه الدارقطني موصولا وموقوفا. ونحوه عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعا، عند الخمسة. وفيه: وكان يقول بعد التكبير: «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ (وقفہ کے دوران میں) «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» پڑھتے تھے اے اللہ تو پاک ہے (ہر عیب اور ہر نقص سے) سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔ بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے، تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اسے مسلم نے منقطع اور دارقطنی نے موصول روایت کیا ہے اور یہ موقوف ہے۔ احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ تکبیر تحریمہ کر بعد تعوذ یعنی «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھتے تھے۔ میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے پناہ لیتا ہوں اس کے وسوسوں سے، اس کے پھونکنے سے یعنی (کبر و نخوت) سے اور اس کے اشعار اور جادو سے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 214]
اسے مسلم نے منقطع اور دارقطنی نے موصول روایت کیا ہے اور یہ موقوف ہے۔ احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ تکبیر تحریمہ کر بعد تعوذ یعنی «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھتے تھے۔ میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے پناہ لیتا ہوں اس کے وسوسوں سے، اس کے پھونکنے سے یعنی (کبر و نخوت) سے اور اس کے اشعار اور جادو سے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 214]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ» کہ وہ کہا کرتے تھے: – «سُبْحَانَكَ» تو پاک ہے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «وَبِحَمْدِكَ» اور تیری حمد کے ساتھ – «وَتَبَارَكَ» اور بابرکت ہے – «اسْمُكَ» تیرا نام – «وَتَعَالَى» اور بلند ہے – «جَدُّكَ» تیری شان – «وَلَا إِلَهَ» اور کوئی معبود (برحق) نہیں – «غَيْرُكَ» تیرے سوا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ» منقطع سند کے ساتھ – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «مَوْصُولًا» متصل (سند سے) – «وَمَوْقُوفًا» اور موقوف (صحابی کے قول کے طور پر)۔ – «وَنَحْوُهُ» اور اسی طرح کی (روایت) ہے – «عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً (نبی سے) – «عِنْدَ الْخَمْسَةِ» پانچوں (ائمہ) کے ہاں – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «وَكَانَ يَقُولُ» اور آپ کہا کرتے تھے – «بَعْدَ التَّكْبِيرِ» تکبیر کے بعد: – «أَعُوذُ» میں پناہ مانگتا ہوں – «بِاللَّهِ» اللہ کی – «السَّمِيعِ» جو خوب سننے والا – «الْعَلِيمِ» خوب جاننے والا ہے – «مِنَ الشَّيْطَانِ» شیطان سے – «الرَّجِيمِ» مردود – «مِنْ هَمْزِهِ» اس کے وسوسے (دیوانگی) سے – «وَنَفْخِهِ» اور اس کے تکبر سے – «وَنَفْثِهِ» اور اس کے (برے) شعر سے۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (نماز کے شروع میں) یہ کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ اسے مسلم نے منقطع سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور دارقطنی نے اسے موصولاً اور موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح کی روایت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً پانچوں (ائمہ) کے ہاں ہے، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کے بعد کہا کرتے تھے: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، شیطان مردود سے، اس کے وسوسے (دیوانگی) سے، اس کے تکبر سے اور اس کے (مذموم) شعر سے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 214]
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (نماز کے شروع میں) یہ کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ اسے مسلم نے منقطع سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور دارقطنی نے اسے موصولاً اور موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح کی روایت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً پانچوں (ائمہ) کے ہاں ہے، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کے بعد کہا کرتے تھے: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، شیطان مردود سے، اس کے وسوسے (دیوانگی) سے، اس کے تکبر سے اور اس کے (مذموم) شعر سے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة، حديث: 399، والدارقطني:1 /299، وحديث أبي سعيد أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث: 775، والترمذي، الصلاة، حديث:242، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:807، والنسائي، الافتتاح، حديث:900، 901، وأحمد:1 /403، 404 و3 /50 و4 /80 و6 /156.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 215
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يستفتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين، وكان إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك، وكان إذا رفع من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما، وكان إذا رفع رأسه من السجود لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان يقول في كل ركعتين التحية، وكان يفرش رجله اليسرى وينصب اليمنى، وكان ينهى عن عقبة الشيطان وينهى أن يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع، وكان يختم الصلاة بالتسليم.أخرجه مسلم وله علة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز «الله اكبر» سے کیا کرتے تھے اور قرآت «الحمد لله رب العالمين» (سورۃ «فاتحه») سے شروع کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ اونچا کرتے اور نہ نیچا کرتے بلکہ اس کے درمیان کی حالت میں رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ میں نہ جاتے جب تک کہ بالکل سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک کہ ٹھیک آرام سے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے اور اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے اور دائیں کو قائم رکھتے (کھڑا رکھتے) شیطان کی چوکڑی سے منع فرماتے تھے اور درندوں کی طرح بازو آگے نکال کر بیٹھنے سے بھی منع فرماتے تھے اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ (مسلم) اس کی سند معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 215]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْتَفْتِحُ» شروع کرتے – «الصَّلَاةَ» نماز – «بِالتَّكْبِيرِ» تکبیر سے – «وَالْقِرَاءَةَ» اور قراءت – «بِـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» الحمد للہ رب العالمین سے – «وَكَانَ» اور تھے – «إِذَا رَكَعَ» جب رکوع کرتے – «لَمْ يُشْخِصْ» نہ اونچا رکھتے – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «وَلَمْ يُصَوِّبْهُ» اور نہ اسے نیچا کرتے – «وَلَكِنْ» بلکہ – «بَيْنَ ذَلِكَ» اس کے درمیان (رکھتے) – «وَكَانَ» اور تھے – «إِذَا رَفَعَ» جب اٹھتے – «مِنَ الرُّكُوعِ» رکوع سے – «لَمْ يَسْجُدْ» سجدہ نہ کرتے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْتَوِيَ» سیدھے ہو جاتے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «وَكَانَ» اور تھے – «إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ» جب اپنا سر اٹھاتے – «مِنَ السُّجُودِ» سجدے سے – «لَمْ يَسْجُدْ» (دوسرا) سجدہ نہ کرتے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْتَوِيَ» سیدھے ہو جاتے – «جَالِسًا» بیٹھ کر – «وَكَانَ يَقُولُ» اور پڑھا کرتے تھے – «فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ» ہر دو رکعت میں – «التَّحِيَّةَ» التحیات – «وَكَانَ يَفْرِشُ» اور بچھا لیتے تھے – «رِجْلَهُ الْيُسْرَى» اپنا بایاں پاؤں – «وَيَنْصِبُ» اور کھڑا رکھتے – «الْيُمْنَى» دایاں – «وَكَانَ يَنْهَى» اور منع فرماتے تھے – «عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ» شیطان کی بیٹھک سے – «وَيَنْهَى» اور منع فرماتے – «أَنْ يَفْتَرِشَ» کہ بچھائے – «الرَّجُلُ» آدمی – «ذِرَاعَيْهِ» اپنی دونوں کلائیاں (بازو) – «افْتِرَاشَ» بچھانے کی طرح – «السَّبُعِ» درندے کے – «وَكَانَ يَخْتِمُ» اور ختم کرتے تھے – «الصَّلَاةَ» نماز – «بِالتَّسْلِيمِ» سلام کے ساتھ۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَلَهُ عِلَّةٌ» اور اس میں ایک علت (خفیہ کمزوری) ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قراءت کو ”الحمد للہ رب العالمین“ سے شروع کرتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو نہ سر کو اونچا رکھتے اور نہ نیچا جھکاتے بلکہ ان دونوں کے درمیان (پیٹھ کے برابر) رکھتے، اور جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہونے تک سجدہ نہ کرتے، اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جانے تک (دوسرا) سجدہ نہ کرتے، اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے، اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں کھڑا رکھتے، اور شیطان کی بیٹھک (ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھنے) سے منع فرماتے، اور اس سے منع فرماتے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازو درندے کی طرح زمین پر بچھا دے، اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک علت ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 215]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قراءت کو ”الحمد للہ رب العالمین“ سے شروع کرتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو نہ سر کو اونچا رکھتے اور نہ نیچا جھکاتے بلکہ ان دونوں کے درمیان (پیٹھ کے برابر) رکھتے، اور جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہونے تک سجدہ نہ کرتے، اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جانے تک (دوسرا) سجدہ نہ کرتے، اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے، اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں کھڑا رکھتے، اور شیطان کی بیٹھک (ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھنے) سے منع فرماتے، اور اس سے منع فرماتے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازو درندے کی طرح زمین پر بچھا دے، اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک علت ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتح به، حديث:498، والعلة مردودة هاهنا.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 216
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذ كبر للركوع وإذا رفع رأسه من الركوع. متفق عليه.وفي حديث أبي حميد عند أبي داود: يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ثم يكبر.ولمسلم: عن مالك بن الحويرث نحو حديث ابن عمر لكن قال: حتى يحاذي بهما فروع أذنيه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے «الله اكبر» کہتے تو بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے۔ (رفع یدین کرتے) (بخاری ومسلم)۔ اور ابوداؤد میں ابوحمید سے مروی حدیث میں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر «الله اكبر» (تکبیر) کہتے۔ اور مسلم میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی اسی طرح منقول ہے، جس طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے لیکن اس میں ” کندھوں کے مقابل “ کی جگہ اپنے کانوں کے مقابل تک اٹھاتے مذکور ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 216]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَرْفَعُ» اٹھایا کرتے تھے – «يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ – «حَذْوَ» برابر – «مَنْكِبَيْهِ» اپنے دونوں کندھوں کے – «إِذَا افْتَتَحَ» جب شروع کرتے – «الصَّلَاةَ» نماز – «وَإِذَا كَبَّرَ» اور جب تکبیر کہتے – «لِلرُّكُوعِ» رکوع کے لیے – «وَإِذَا رَفَعَ» اور جب اٹھاتے – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «مِنَ الرُّكُوعِ» رکوع سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي حَدِيثِ» اور حدیث میں – «أَبِي حُمَيْدٍ» ابو حمید کی – «عِنْدَ» کے ہاں – «أَبِي دَاوُدَ» ابو داود: – «يَرْفَعُ» اٹھاتے – «يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يُحَاذِيَ» برابر کر دیتے – «بِهِمَا» ان دونوں کو – «مَنْكِبَيْهِ» اپنے دونوں کندھوں کے – «ثُمَّ» پھر – «يُكَبِّرُ» تکبیر کہتے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں – «عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ» مالک بن حویرث سے – «نَحْوُ» اسی طرح – «حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر کی حدیث کی – «لَكِنْ قَالَ» لیکن انہوں نے کہا: – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يُحَاذِيَ» برابر کر دیتے – «بِهِمَا» ان دونوں کو – «فُرُوعَ» اوپر کے کناروں (لو) کے – «أُذُنَيْهِ» اپنے دونوں کانوں کے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے، جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابو داود کے ہاں سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے برابر کر لیتے، پھر تکبیر کہتے۔ اور مسلم میں سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح روایت ہے، لیکن انہوں نے کہا: یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے اوپر والے کناروں کے برابر کر لیتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 216]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے، جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابو داود کے ہاں سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے برابر کر لیتے، پھر تکبیر کہتے۔ اور مسلم میں سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح روایت ہے، لیکن انہوں نے کہا: یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے اوپر والے کناروں کے برابر کر لیتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولي مع الافتتاح سواء، حديث:735، ومسلم، الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين مع تكبيرة الإحرام والركوع، حديث:390، وحديث أبي حميد أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:730.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 217
وعن وائل بن حجر قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فوضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره. أخرجه ابن خزيمة.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھ لئے۔ (ابن خزیمہ) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 217]
«وَعَنْ» اور سے – «وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ» وائل بن حجر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّيْتُ» میں نے نماز پڑھی – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَوَضَعَ» تو آپ نے رکھا – «يَدَهُ الْيُمْنَى» اپنا دایاں ہاتھ – «عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى» اپنے بائیں ہاتھ پر – «عَلَى صَدْرِهِ» اپنے سینے پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر باندھا۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 217]
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر باندھا۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة:1 /243، حديث:479، وسنده ضعيف من أجل عنعنة الثوري، وللحديث شواهد كثيرة عند أحمد:5 /226 وغيره.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 218
وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا صلاة لمن لم يقرأ بأم القرآن» . متفق عليه. وفي رواية لابن حبان والدارقطني: «لا تجزىء صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب» . وفي أخرى لأحمد وأبي داود والترمذي وابن حبان:«لعلكم تقرءون خلف إمامكم؟» قلنا: نعم. قال: «لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها» .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جس نے (نماز میں) «أم القرآن» ( «فاتحه») نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔“ (بخاری و مسلم) ابن حبان اور دارقطنی میں روایت ہے کہ ” جس نماز میں سورۃ «فاتحه» نہ پڑھی گئی ہو وہ نماز کافی نہیں ہوتی۔“ احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” شاید تم لوگ امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں (پڑھتے ہیں) فرمایا ایسا نہ کیا کرو بجز سورۃ «فاتحه» کے۔ اس لئے کہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی (تو) نماز ہی نہیں “۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 218]
«وَعَنْ» اور سے – «عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ» عبادہ بن صامت – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «لِمَنْ» اس شخص کی جو – «لَمْ يَقْرَأْ» نہ پڑھے – «بِأُمِّ الْقُرْآنِ» ام القرآن (سورۂ فاتحہ)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِابْنِ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی: – «لَا تُجْزِئُ» کفایت نہیں کرتی – «صَلَاةٌ» (وہ) نماز – «لَا يُقْرَأُ فِيهَا» جس میں نہ پڑھی جائے – «بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» سورۂ فاتحہ۔ – «وَفِي أُخْرَى» اور دوسری (روایت) میں – «لِأَحْمَدَ» احمد – «وَأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی – «وَابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کی: – «لَعَلَّكُمْ» شاید تم – «تَقْرَءُونَ» پڑھتے ہو – «خَلْفَ إِمَامِكُمْ» اپنے امام کے پیچھے؟ – «قُلْنَا» ہم نے کہا: – «نَعَمْ» جی ہاں۔ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا تَفْعَلُوا» ایسا نہ کرو – «إِلَّا» سوائے – «بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» سورۂ فاتحہ کے – «فَإِنَّهُ» کیونکہ بے شک – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «لِمَنْ» اس کی جو – «لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» اسے نہ پڑھے۔
اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو ام القرآن (سورۂ فاتحہ) نہ پڑھے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابن حبان اور دارقطنی کی ایک روایت میں ہے: ”وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے۔“ اور احمد، ابو داود، ترمذی اور ابن حبان کی ایک دوسری روایت میں ہے: ”شاید تم اپنے امام کے پیچھے (قراءت) پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”سورۂ فاتحہ کے سوا (کچھ) نہ پڑھو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 218]
اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو ام القرآن (سورۂ فاتحہ) نہ پڑھے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابن حبان اور دارقطنی کی ایک روایت میں ہے: ”وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے۔“ اور احمد، ابو داود، ترمذی اور ابن حبان کی ایک دوسری روایت میں ہے: ”شاید تم اپنے امام کے پیچھے (قراءت) پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”سورۂ فاتحہ کے سوا (کچھ) نہ پڑھو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم، حديث:756، ومسلم، الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة، حديث:394، وابن حبان (الإحسان): 3 /139، حديث:1786، والدارقطني: 1 /322، وهو حديث صحيح، وحديث "لعلكم تقرؤون خلف إمامكم" أخرجه أحمد:5 /60، وأبوداود، الصلاة، حديث:823، والترمذي، الصلاة، حديث:247، وهوحديث صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 219
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأبا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بالحمد لله رب العالمين متفق عليه.زاد مسلم: لا يذكرون بسم الله الرحمن الرحيم في أول قراءة ولا في آخرها.وفي رواية لأحمد والنسائي وابن خزيمة: لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم. وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يسرون. وعلى هذا يحمل النفي في رواية مسلم خلافا لمن أعلها.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سب نماز کا آغاز «الحمد لله رب العالمين» سے کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) مسلم نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ قرآت کے شروع اور آخر دونوں موقعوں پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے۔ مسند احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» کو جہری طور پر (اونچی آواز) پر نہیں پڑھتے تھے۔ نیز ابن خزیمہ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ «بسم الله»، آہستہ پڑھتے تھے اور اسی پر مسلم کی نفی کو محمول کیا جائے گا بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے اسے معلول کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 219]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَأَبَا بَكْرٍ» اور ابو بکر – «وَعُمَرَ» اور عمر – «كَانُوا يَفْتَتِحُونَ» شروع کیا کرتے تھے – «الصَّلَاةَ» نماز (کی قراءت) – «بِـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» الحمد للہ رب العالمین سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے: – «لَا يَذْكُرُونَ» وہ ذکر نہیں کرتے تھے – «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» بسم اللہ الرحمن الرحیم کا – «فِي أَوَّلِ» شروع میں – «قِرَاءَةٍ» قراءت کے – «وَلَا فِي آخِرِهَا» اور نہ اس کے آخر میں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِأَحْمَدَ» احمد – «وَالنَّسَائِيِّ» اور نسائی – «وَابْنِ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ کی: – «لَا يَجْهَرُونَ» وہ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے – «بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» بسم اللہ الرحمن الرحیم کو۔ – «وَفِي أُخْرَى» اور دوسری (روایت) میں – «لِابْنِ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ کی: – «كَانُوا يُسِرُّونَ» وہ آہستہ پڑھتے تھے۔ – «وَعَلَى هَذَا» اور اسی پر – «يُحْمَلُ» محمول کی جائے گی – «النَّفْيُ» نفی – «فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ» مسلم کی روایت میں (مذکور) – «خِلَافًا» برخلاف – «لِمَنْ» اس کے جس نے – «أَعَلَّهَا» اسے معلول (ضعیف) قرار دیا۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نماز (کی قراءت) ”الحمد للہ رب العالمین“ سے شروع کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: وہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کا ذکر کرتے تھے۔ اور احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے: وہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ اور ابن خزیمہ کی ایک دوسری روایت میں ہے: وہ اسے آہستہ پڑھتے تھے۔ اور مسلم کی روایت میں جو نفی ہے اسے اسی (آہستہ پڑھنے) پر محمول کیا جائے گا، بخلاف اس شخص کے جس نے اسے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 219]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نماز (کی قراءت) ”الحمد للہ رب العالمین“ سے شروع کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: وہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کا ذکر کرتے تھے۔ اور احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے: وہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ اور ابن خزیمہ کی ایک دوسری روایت میں ہے: وہ اسے آہستہ پڑھتے تھے۔ اور مسلم کی روایت میں جو نفی ہے اسے اسی (آہستہ پڑھنے) پر محمول کیا جائے گا، بخلاف اس شخص کے جس نے اسے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب ما يقول بعد الكتبير، حديث:743، ومسلم، الصلاة، باب حجة من قال: لايجهر بالبسملة، حديث:399، والنسائي، الافتتاح، حديث:908، وابن خزيمة:1 /250، حديث:497، 498، وهو حديث صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح