بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب سجود السهو وغيره
سجود سہو وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 264
وعن عمران بن حصين رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم رواه أبو داود والترمذي وحسنه والحاكم وصححه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہو گیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے) تو (پہلے) دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔
اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 264]
اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 264]
«وَعَنْ» اور سے – «عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ» عمران بن حصین – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى بِهِمْ» نے انہیں نماز پڑھائی – «فَسَهَا» تو آپ بھول گئے – «فَسَجَدَ» تو آپ نے کیے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «ثُمَّ تَشَهَّدَ» پھر تشہد پڑھا – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن کہا – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے، چنانچہ آپ نے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اور حاکم نے روایت کر کے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 264]
اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے، چنانچہ آپ نے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اور حاکم نے روایت کر کے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:571.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 264 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 264
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:571.» تشریح:
1. نماز میں بھول لاحق ہونے والا واقعہ وہی ہے جس میں ذوالیدین نے دریافت کیا تھا کہ کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ 2. ذوالیدین والا واقعہ صحیحین اور سنن کی تمام کتب میں مذکور ہے۔
3. کسی کتاب میں مروی حدیث میں سجود سہو کے بعد تشہد کا کہیں ذکر نہیں بلکہ صحیح مسلم میں خود حضرت عمران کی اسی روایت میں تشہد کا ذکر نہیں ہے‘ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ترمذی کی اس روایت میں تشہد کا لفظ شاذ ہے جیسا کہ امام بیہقی اور شیخ البانی رحمہما اللہ وغیرہ نے کہا۔
دیکھیے: (صحیح مسلم‘ المساجد‘ حدیث:۵۷۴)
«أخرجه مسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:571.»
1. نماز میں بھول لاحق ہونے والا واقعہ وہی ہے جس میں ذوالیدین نے دریافت کیا تھا کہ کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ 2. ذوالیدین والا واقعہ صحیحین اور سنن کی تمام کتب میں مذکور ہے۔
3. کسی کتاب میں مروی حدیث میں سجود سہو کے بعد تشہد کا کہیں ذکر نہیں بلکہ صحیح مسلم میں خود حضرت عمران کی اسی روایت میں تشہد کا ذکر نہیں ہے‘ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ترمذی کی اس روایت میں تشہد کا لفظ شاذ ہے جیسا کہ امام بیہقی اور شیخ البانی رحمہما اللہ وغیرہ نے کہا۔
دیکھیے: (صحیح مسلم‘ المساجد‘ حدیث:۵۷۴)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 264]
Bulughul Maram Hadith 264 in Urdu