بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب سجود السهو وغيره
سجود سہو وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 262
عن عبد الله بن بحينة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم الظهر فقام في الركعتين الأوليين ولم يجلس فقام الناس معه حتى إذا قضى الصلاة وانتظر الناس تسليمه كبر وهو جالس، وسجد سجدتين قبل أن يسلم ثم سلم.أخرجه السبعة وهذا اللفظ للبخاري. وفي رواية لمسلم: يكبر في كل سجدة وهو جالس ويسجد، ويسجد الناس معه مكان ما نسي من الجلوس.
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز ظہر پڑھائی تو دو رکعت ادا کر کے تشہد میں نہ بیٹھے اور سیدھے کھڑے ہو گئے اور مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگ سلام پھیرنے کے انتظار میں تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے ہی «الله اكبر» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ البتہ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے کہ بیٹھے ہوئے ہر سجدہ کے لیے «الله اكبر» کہتے تھے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ سہو کیا۔ دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول گئے تھے، اس کی تلافی کے لیے دو سجدے کیے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 262]
اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ البتہ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے کہ بیٹھے ہوئے ہر سجدہ کے لیے «الله اكبر» کہتے تھے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ سہو کیا۔ دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول گئے تھے، اس کی تلافی کے لیے دو سجدے کیے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 262]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ» عبد اللہ بن بحینہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى بِهِمُ» نے انہیں پڑھائی – «الظُّهْرَ» ظہر – «فَقَامَ» تو آپ کھڑے ہو گئے – «فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ» پہلی دو رکعتوں میں – «وَلَمْ يَجْلِسْ» اور نہ بیٹھے – «فَقَامَ» تو کھڑے ہو گئے – «النَّاسُ» لوگ – «مَعَهُ» آپ کے ساتھ – «حَتَّى إِذَا» یہاں تک کہ جب – «قَضَى» پوری کر لی – «الصَّلَاةَ» نماز – «وَانْتَظَرَ» اور انتظار کیا – «النَّاسُ» لوگوں نے – «تَسْلِيمَهُ» آپ کے سلام کا – «كَبَّرَ» تو آپ نے تکبیر کہی – «وَهُوَ جَالِسٌ» درحالیکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے – «وَسَجَدَ» اور کیے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ» سلام پھیرنے سے پہلے – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں (ائمہ) نے – «وَهَذَا اللَّفْظُ» اور یہ الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کی: – «يُكَبِّرُ» تکبیر کہتے – «فِي كُلِّ سَجْدَةٍ» ہر سجدے میں – «وَهُوَ جَالِسٌ» درحالیکہ بیٹھے ہوتے – «وَيَسْجُدُ» اور سجدہ کرتے – «وَيَسْجُدُ» اور سجدہ کرتے – «النَّاسُ» لوگ – «مَعَهُ» آپ کے ساتھ – «مَكَانَ» بدلے میں – «مَا نَسِيَ» اس کے جو آپ بھول گئے – «مِنَ الْجُلُوسِ» بیٹھنے میں سے۔
سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں کے بعد (تشہد میں) بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ نے نماز پوری کر لی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے تو آپ نے بیٹھے بیٹھے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اسے ساتوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: آپ بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، یہ اس بیٹھنے کے بدلے میں تھا جو آپ بھول گئے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 262]
سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں کے بعد (تشہد میں) بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ نے نماز پوری کر لی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے تو آپ نے بیٹھے بیٹھے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اسے ساتوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: آپ بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، یہ اس بیٹھنے کے بدلے میں تھا جو آپ بھول گئے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، السهو، باب ما جاء في السهو إذا قام من ركعتي الفريضة، حديث:1224، ومسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له، حديث:570، وأبوداود، الصلاة، حديث:1034، والترمذي، الصلاة، حديث:391، والنسائي، السهو، حديث:1223، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1206، 1207، وأحمد:5 /345، 346.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 263
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: صلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم إحدى صلاتي العشي ركعتين ثم سلم ثم قام إلى خشبة في مقدم المسجد فوضع يده عليها وفي القوم أبو بكر وعمر فهابا أن يكلماه وخرج سرعان الناس فقالوا: قصرت الصلاة وفي القوم رجل يدعوه النبي صلى الله عليه وآله وسلم ذا اليدين فقال: يا رسول الله أنسيت أم قصرت الصلاة؟ فقال: «لم أنس ولم تقصر» فقال: بلى، قد نسيت. فصلى ركعتين، ثم سلم ثم كبر ثم سجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه فكبر ثم وضع رأسه فكبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع رأسه وكبر. متفق عليه واللفظ للبخاري. وفي رواية لمسلم: صلاة العصرولأبي داود فقال: «أصدق ذو اليدين؟» فأومأوا: أي نعم. وهي في الصحيحين لكن بلفظ: فقالوا. وفي رواية له: ولم يسجد حتى يقنه الله تعالى ذلك.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از دوپہر کی دو نمازوں (ظہر و عصر) میں سے ایک میں دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے رکھی ہوئی لکڑی کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھ لئے۔ نمازیوں میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرنے سے ذرا خوفزدہ تھے۔ جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے تو لوگوں نے آپس میں سرگوشی کے انداز میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ ایک آدمی تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے) ذوالیدین کہہ کر بلاتے تھے، (اس) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ (آج) بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے۔ “ اس شخص نے پھر عرض کیا ہاں آپ ضرور بھول گئے ہیں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (جو چھوٹ گئی تھیں) پڑھیں اور سلام پھیرا پھر «الله اكبر» کہہ کر معمول کے سجدوں کی طرح سجدہ کیا یا اس سے ذرا لمبا پھر سجدہ سے «الله اكبر» کہہ کر سر اوپر اٹھایا پھر «الله اكبر» کہہ کر (زمین پر) رکھا اور معمول کے سجدہ کی طرح یا ذرا اس سے طویل سجدہ کیا اور پھر «الله اكبر» کہہ کر اپنا سر اٹھایا۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ عصر کی نماز تھی اور ابوداؤد میں مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ” کیا ذوالیدین نے ٹھیک کہا ہے؟ “ تو لوگوں نے سر ہلا کر اشاروں سے کہا ہاں! یہ اضافہ صحیحین میں بھی ہے لیکن ان میں «فقالوا» کے لفظ کے ساتھ مروی ہے (یعنی زبان سے انہوں نے کہا) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک اللہ کی جانب سے یقین نہ ہوا اس وقت سجدہ سہو نہیں کیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 263]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» پڑھائی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِحْدَى» ایک – «صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ» پچھلے پہر کی دو نمازوں میں سے – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیر دیا – «ثُمَّ قَامَ» پھر کھڑے ہوئے – «إِلَى خَشَبَةٍ» ایک لکڑی کی طرف – «فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ» مسجد کے اگلے حصے میں – «فَوَضَعَ» پس رکھا – «يَدَهُ عَلَيْهَا» اپنا ہاتھ اس پر – «وَفِي الْقَوْمِ» اور لوگوں میں – «أَبُو بَكْرٍ» ابو بکر – «وَعُمَرُ» اور عمر (بھی) تھے – «فَهَابَا» تو وہ دونوں ڈرے (ہیبت محسوس کی) – «أَنْ يُكَلِّمَاهُ» کہ آپ سے بات کریں – «وَخَرَجَ» اور نکل گئے – «سَرَعَانُ النَّاسِ» جلد باز لوگ – «فَقَالُوا» اور کہنے لگے: – «قُصِرَتِ الصَّلَاةُ» نماز کم کر دی گئی – «وَفِي الْقَوْمِ» اور لوگوں میں – «رَجُلٌ» ایک آدمی تھا – «يَدْعُوهُ» جسے پکارتے تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «ذَا الْيَدَيْنِ» ذو الیدین – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَنَسِيتَ» کیا آپ بھول گئے – «أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ» یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَمْ أَنْسَ» نہ میں بھولا ہوں – «وَلَمْ تُقْصَرْ» اور نہ (نماز) کم کی گئی ہے – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «بَلَى» کیوں نہیں – «قَدْ نَسِيتَ» آپ یقیناً بھول گئے ہیں۔ – «فَصَلَّى» تو آپ نے پڑھیں – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا – «ثُمَّ كَبَّرَ» پھر تکبیر کہی – «ثُمَّ سَجَدَ» پھر سجدہ کیا – «مِثْلَ سُجُودِهِ» اپنے (عام) سجدے کی مانند – «أَوْ أَطْوَلَ» یا اس سے لمبا – «ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ» پھر اپنا سر اٹھایا – «فَكَبَّرَ» اور تکبیر کہی – «ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ» پھر اپنا سر رکھا – «فَكَبَّرَ» اور تکبیر کہی – «فَسَجَدَ» پس سجدہ کیا – «مِثْلَ سُجُودِهِ» اپنے سجدے کی مانند – «أَوْ أَطْوَلَ» یا اس سے لمبا – «ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ» پھر اپنا سر اٹھایا – «وَكَبَّرَ» اور تکبیر کہی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: – «صَلَاةَ الْعَصْرِ» عصر کی نماز۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَصَدَقَ» کیا سچ کہا – «ذُو الْيَدَيْنِ» ذو الیدین نے؟ – «فَأَوْمَئُوا» تو انہوں نے اشارہ کیا – «أَيْ نَعَمْ» یعنی ہاں۔ – «وَهِيَ» اور یہ (بات) – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) میں (بھی) ہے – «لَكِنْ» لیکن – «بِلَفْظِ» ان الفاظ کے ساتھ: – «فَقَالُوا» تو انہوں نے کہا۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور ان (ابو داود) کی ایک روایت میں ہے: – «وَلَمْ يَسْجُدْ» اور آپ نے سجدہ نہیں کیا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَقَّنَهُ» یقین دلا دیا آپ کو – «اللَّهُ تَعَالَى» اللہ تعالیٰ نے – «ذَلِكَ» اس (بات) کا۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے ایک نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصے میں ایک لکڑی کے پاس جا کھڑے ہوئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، مگر وہ آپ سے بات کرنے سے جھجکے، اور جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے۔ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذو الیدین کہہ کر پکارتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ (نماز) کم کی گئی ہے۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، آپ یقیناً بھول گئے ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی اور اپنے عام سجدے جیسا یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر (دوبارہ) سر رکھا اور تکبیر کہی اور اپنے عام سجدے جیسا یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ”عصر کی نماز“ ہے۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کیا ذو الیدین نے سچ کہا ہے؟“ تو لوگوں نے اشارے سے کہا: ہاں۔ اور یہ بات صحیحین میں بھی ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ: ”تو انہوں نے کہا (ہاں)۔“ اور ابو داود کی ایک روایت میں ہے: اور آپ نے اس وقت تک (سہو کا) سجدہ نہیں کیا جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا یقین نہ دلا دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 263]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے ایک نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصے میں ایک لکڑی کے پاس جا کھڑے ہوئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، مگر وہ آپ سے بات کرنے سے جھجکے، اور جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے۔ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذو الیدین کہہ کر پکارتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ (نماز) کم کی گئی ہے۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، آپ یقیناً بھول گئے ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہی اور اپنے عام سجدے جیسا یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر (دوبارہ) سر رکھا اور تکبیر کہی اور اپنے عام سجدے جیسا یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ”عصر کی نماز“ ہے۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کیا ذو الیدین نے سچ کہا ہے؟“ تو لوگوں نے اشارے سے کہا: ہاں۔ اور یہ بات صحیحین میں بھی ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ: ”تو انہوں نے کہا (ہاں)۔“ اور ابو داود کی ایک روایت میں ہے: اور آپ نے اس وقت تک (سہو کا) سجدہ نہیں کیا جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا یقین نہ دلا دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 263]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب تشبيك الأصابع في المسجد وغيره، حديث:482، والسهو، باب يكبر في سجدتي السهو، حديث:1229، ومسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:573، وأبوداود، الصلاة، حديث:1008، وهو حديث صحيح، وحديث:"ولم يسجد حتي يقَّنه الله تعاليٰ ذلك" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1012 وسنده ضعيف، فيه محمد بن كثير الصنعاني وهو ضعيف، ضعفه الجمهور من جهة سوء حفظه واختلط أيضًا.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 264
وعن عمران بن حصين رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم رواه أبو داود والترمذي وحسنه والحاكم وصححه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہو گیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے) تو (پہلے) دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔
اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
«وَعَنْ» اور سے – «عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ» عمران بن حصین – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى بِهِمْ» نے انہیں نماز پڑھائی – «فَسَهَا» تو آپ بھول گئے – «فَسَجَدَ» تو آپ نے کیے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «ثُمَّ تَشَهَّدَ» پھر تشہد پڑھا – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن کہا – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے، چنانچہ آپ نے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اور حاکم نے روایت کر کے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے، چنانچہ آپ نے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اور حاکم نے روایت کر کے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:571.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 265
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر كم صلى أثلاثا أم أربعا؟ فليطرح الشك وليبن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته وإن كان صلى تماما كانتا ترغيما للشيطان» . رواه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کسی کو جب نماز میں یہ شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار؟ تو ایسی صورت میں شک کو نظرانداز کر کے جس پر یقین ہو اس پر نماز کی بنا رکھے۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے (چھٹی رکعت کے قائم مقام ہو کر) اس کی نماز کو جفت کر دیں گے۔ (چھ بنا دیں گے) اور اگر اس نے پوری نماز پڑھی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا شَكَّ» جب شک کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي صَلَاتِهِ» اپنی نماز میں – «فَلَمْ يَدْرِ» اور نہ جانے – «كَمْ صَلَّى» کتنی پڑھی ہیں – «أَثَلَاثًا» کیا تین – «أَمْ أَرْبَعًا» یا چار؟ – «فَلْيَطْرَحِ» تو چاہیے کہ پھینک دے – «الشَّكَّ» شک کو – «وَلْيَبْنِ» اور بنیاد رکھے – «عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ» اس پر جس کا یقین ہو – «ثُمَّ يَسْجُدُ» پھر کرے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ» سلام پھیرنے سے پہلے – «فَإِنْ كَانَ صَلَّى» پس اگر اس نے پڑھی ہوں – «خَمْسًا» پانچ – «شَفَعْنَ» تو وہ (سجدے) جفت کر دیں گے – «لَهُ» اس کے لیے – «صَلَاتَهُ» اس کی نماز کو – «وَإِنْ كَانَ صَلَّى» اور اگر اس نے پڑھی ہوں – «تَمَامًا» پوری – «كَانَتَا» تو وہ دونوں ہوں گے – «تَرْغِيمًا» ذلیل کرنے کا ذریعہ – «لِلشَّيْطَانِ» شیطان کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو شک کو چھوڑ دے اور جس پر یقین ہو اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے، پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہوں تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے پوری (چار) پڑھی ہوں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو شک کو چھوڑ دے اور جس پر یقین ہو اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے، پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہوں تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے پوری (چار) پڑھی ہوں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ماجاء في التشهد في سجدتي السهو، حديث:1039، والترمذي، الصلاة، حديث:395، والحاكم:1 /323، وأعل بما لا يقدح، وألله اعلم.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 266
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. فلما سلم قيل له: يا رسول الله أحدث في الصلاة شيء؟ قال: «وما ذاك؟» قالوا: صليت كذا وكذا قال: فثنى رجليه واستقبل القبلة فسجد سجدتين ثم سلم ثم أقبل على الناس بوجهه فقال: «إنه لو حدث في الصلاة شيء أنبأتكم به ولكن إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسجد سجدتين» . متفق عليه. وفي رواية للبخاري:«فليتم ثم يسلم ثم يسجد» . ولمسلم: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سجد سجدتي السهو بعد السلام والكلام. ولأحمد وأبي داود والنسائي من حديث عبد الله بن جعفر مرفوعا: «من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم» . وصححه ابن خزيمة.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نماز میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا آپ نے تو اتنی اتنی نماز ادا فرمائی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں دوہرے کئے (اور ان پر بیٹھ گئے) اور قبلہ رو ہو کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا ” اگر نماز میں کوئی نئی چیز پیدا ہوئی ہوتی تو میں خود تمہیں اس سے باخبر کرتا۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں، اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں سے جب کسی کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو صحیح صورت حال تک پہنچنے کی کوشش کر لے پھر اپنی نماز اس بنیاد پر مکمل کر لے۔ پھر دو سجدے کر لے۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” (پہلے) نماز مکمل کرنی چاہیئے پھر سلام پھیرے اور پھر سجدہ کرے“ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو سلام و کلام کے بعد کئے ہیں۔ مسند احمد، ابوداؤد اور نسائی میں مروی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت میں ہے کہ جس شخص کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو اسے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرنے چاہئیں۔ اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» نماز پڑھائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَلَمَّا سَلَّمَ» پھر جب آپ نے سلام پھیرا – «قِيلَ لَهُ» تو آپ سے کہا گیا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَحَدَثَ» کیا نیا حکم آ گیا ہے – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «شَيْءٌ» کوئی چیز؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «وَمَا ذَاكَ» اور وہ کیا ہے؟ – «قَالُوا» انہوں نے کہا: – «صَلَّيْتَ» آپ نے پڑھی ہے – «كَذَا وَكَذَا» اتنی اور اتنی (رکعتیں) – «قَالَ» (راوی نے) کہا: – «فَثَنَى رِجْلَيْهِ» تو آپ نے اپنے دونوں پاؤں موڑ لیے – «وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» اور قبلہ رخ ہو گئے – «فَسَجَدَ» پھر کیے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «ثُمَّ سَلَّمَ» پھر سلام پھیرا – «ثُمَّ أَقْبَلَ» پھر متوجہ ہوئے – «عَلَى النَّاسِ» لوگوں کی طرف – «بِوَجْهِهِ» اپنے چہرے کے ساتھ – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهُ» بے شک – «لَوْ حَدَثَ» اگر نیا (حکم) آتا – «فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ» نماز میں کوئی چیز – «أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ» تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا – «وَلَكِنْ» لیکن – «إِنَّمَا أَنَا» میں تو صرف – «بَشَرٌ» ایک انسان ہوں – «مِثْلُكُمْ» تمہاری طرح – «أَنْسَى» میں بھول جاتا ہوں – «كَمَا تَنْسَوْنَ» جیسے تم بھول جاتے ہو – «فَإِذَا نَسِيتُ» پس جب میں بھول جاؤں – «فَذَكِّرُونِي» تو مجھے یاد دلا دو – «وَإِذَا شَكَّ» اور جب شک کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي صَلَاتِهِ» اپنی نماز میں – «فَلْيَتَحَرَّ» تو غور کر کے تلاش کرے – «الصَّوَابَ» درست بات کو – «فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ» پھر اسی پر (نماز) پوری کرے – «ثُمَّ لِيَسْجُدْ» پھر کرے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی (ہے): – «فَلْيُتِمَّ» تو (نماز) پوری کرے – «ثُمَّ يُسَلِّمُ» پھر سلام پھیرے – «ثُمَّ يَسْجُدُ» پھر سجدہ کرے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «سَجَدَ» نے کیے – «سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» سہو کے دو سجدے – «بَعْدَ السَّلَامِ» سلام کے بعد – «وَالْكَلَامِ» اور بات چیت (کے بعد)۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد – «وَأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ» عبداللہ بن جعفر کی – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً: – «مَنْ شَكَّ» جو شک کرے – «فِي صَلَاتِهِ» اپنی نماز میں – «فَلْيَسْجُدْ» تو وہ کرے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ» سلام پھیرنے کے بعد۔ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا، لیکن میں تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ غور کر کے درست بات تک پہنچے اور اسی پر نماز پوری کرے، پھر دو سجدے کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”تو (نماز) پوری کرے، پھر سلام پھیرے، پھر سجدہ کرے۔“ اور مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام اور گفتگو کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور احمد، ابو داود اور نسائی میں سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے مرفوعاً ہے: ”جسے اپنی نماز میں شک ہو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔“ اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا، لیکن میں تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ غور کر کے درست بات تک پہنچے اور اسی پر نماز پوری کرے، پھر دو سجدے کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”تو (نماز) پوری کرے، پھر سلام پھیرے، پھر سجدہ کرے۔“ اور مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام اور گفتگو کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور احمد، ابو داود اور نسائی میں سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے مرفوعاً ہے: ”جسے اپنی نماز میں شک ہو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔“ اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب التوجد نحو القبلة حيث كان، حديث:401 وغيره، ومسلم، المساجد، باب السهو في الصلاة، حديث:572، وحديث عبدالله بن جعفر أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1033، والنسائي، السهو، حديث:1250، وأحمد:1 /205، 206، وسنده حسن، وابن خزيمة:2 /116، حديث:1033.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 267
وعن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا شك أحدكم فقام في الركعتين فاستتم قائما فليمض ولا يعود وليسجد سجدتين فإن لم يستتم قائما فليجلس ولا سهو عليه» رواه أبو داود وابن ماجه والدارقطني واللفظ له بسند ضعيف.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” تم میں سے جب کسی کو دو رکعتوں میں شک پیدا ہو جائے اور (کھڑا ہو جائے) بلکہ بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے تو اسے جاری رکھے اور واپس نہ لوٹے بعد میں اسے دو سجدے سہو کے کر لینے چاہئیں اور اگر بالکل سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے تو اس صورت میں اس پر سجدہ سہو نہیں۔“
اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ بھی دارقطنی کے ہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ بھی دارقطنی کے ہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
«وَعَنِ» اور سے – «الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ» مغیرہ بن شعبہ – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا شَكَّ» جب شک کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَقَامَ» پھر کھڑا ہو جائے – «فِي الرَّكْعَتَيْنِ» دو رکعتوں میں – «فَاسْتَتَمَّ قَائِمًا» اور پوری طرح کھڑا ہو جائے – «فَلْيَمْضِ» تو (نماز) جاری رکھے – «وَلَا يَعُودُ» اور واپس نہ لوٹے – «وَلْيَسْجُدْ» اور کرے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدے – «فَإِنْ لَمْ يَسْتَتِمَّ» پھر اگر پوری طرح نہ ہوا ہو – «قَائِمًا» کھڑا – «فَلْيَجْلِسْ» تو بیٹھ جائے – «وَلَا سَهْوَ عَلَيْهِ» اور اس پر (سجدۂ) سہو نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ انہی (دارقطنی) کے ہیں – «بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو شک ہو اور وہ دو رکعتوں کے بعد (تشہد میں بیٹھنے کی بجائے) کھڑا ہو جائے، اگر وہ پوری طرح سیدھا کھڑا ہو چکا ہو تو (نماز) جاری رکھے، واپس نہ لوٹے اور دو سجدے (سہو) کرے، اور اگر ابھی پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے اور اس پر سجدۂ سہو نہیں۔“ اسے ابو داود، ابن ماجہ اور دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور الفاظ دارقطنی کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو شک ہو اور وہ دو رکعتوں کے بعد (تشہد میں بیٹھنے کی بجائے) کھڑا ہو جائے، اگر وہ پوری طرح سیدھا کھڑا ہو چکا ہو تو (نماز) جاری رکھے، واپس نہ لوٹے اور دو سجدے (سہو) کرے، اور اگر ابھی پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے اور اس پر سجدۂ سہو نہیں۔“ اسے ابو داود، ابن ماجہ اور دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور الفاظ دارقطنی کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب من نسي أن يتشهد وهو جالس، حديث:1036، وابن ماجه إقامة الصلوات، حديث:1208، والدارقطني:1 /379، وللحديث شاهد بمتن آخر عند الطحاوي في معاني الآثار (1 /440)، وسنده حسن، وانظر نيل المقصود:1037 فهو يغني عنه.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 268
وعن عمر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «ليس على من خلف الإمام سهو فإن سها الإمام فعليه وعلى من خلفه» . رواه الترمذي والبيهقي بسند ضعيف.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی مقتدی پر سجدہ سہو نہیں ہے۔ ہاں اگر امام بھول جائے تو پھر امام اور مقتدی دونوں پر سجدہ سہو ہے۔“ اسے بزار اور بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «لَيْسَ» نہیں ہے – «عَلَى مَنْ» اس پر جو – «خَلْفَ الْإِمَامِ» امام کے پیچھے ہو – «سَهْوٌ» (سجدۂ) سہو – «فَإِنْ سَهَا» پھر اگر بھول جائے – «الْإِمَامُ» امام – «فَعَلَيْهِ» تو اس پر – «وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ» اور ان پر جو اس کے پیچھے ہیں (سجدۂ سہو ہے)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَالْبَيْهَقِيُّ» اور بیہقی نے – «بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر (اس کی اپنی بھول کا) سجدۂ سہو نہیں، البتہ اگر امام بھول جائے تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر (سجدۂ سہو) ہے۔“ اسے ترمذی اور بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر (اس کی اپنی بھول کا) سجدۂ سہو نہیں، البتہ اگر امام بھول جائے تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر (سجدۂ سہو) ہے۔“ اسے ترمذی اور بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي:2 /352، والبزار: لم أجده* فيه خارجة بن مصعب متهم متروك، وأبوالحسين المديني مجهول.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 269
وعن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنه قال: «لكل سهو سجدتان بعدما يسلم» . رواه أبو داود وابن ماجه بسند ضعيف.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہر سہو کے لیے دو سجدے ہیں، جو سلام پھیرنے کے بعد ہیں۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ دونوں نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 269]
«وَعَنْ» اور سے – «ثَوْبَانَ» ثوبان – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنَّهُ قَالَ» کہ آپ نے فرمایا: – «لِكُلِّ سَهْوٍ» ہر بھول کے لیے – «سَجْدَتَانِ» دو سجدے ہیں – «بَعْدَمَا يُسَلِّمُ» سلام پھیرنے کے بعد۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر بھول کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ اسے ابو داود اور ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 269]
اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر بھول کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ اسے ابو داود اور ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب من نسي أن يتشهد وهو جالس، حديث:1038، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1219* إسماعيل بن عياش رواه عن أهل بلده وصرح بالسماع فلا وجه لتضعيف السند.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 270
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سجدنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في (إذا السماء انشقت) و (اقرأ باسم ربك) . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سورۃ «إذا السماء انشقت» (سورۃ الانشقاق) اور سورۃ «اقرأ باسم ربك» (سورۃ العلق) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ تلاوت کیا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 270]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَجَدْنَا» ہم نے سجدہ کیا – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي» میں – «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» جب آسمان پھٹ جائے گا (سورۃ الانشقاق) – «وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اور پڑھ اپنے رب کے نام سے (سورۃ العلق)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (سورۃ الانشقاق) اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ (سورۃ العلق) میں سجدہ کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 270]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (سورۃ الانشقاق) اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ (سورۃ العلق) میں سجدہ کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب سجود التلاوة، حديث:578.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 271
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: (ص) ليست من عزائم السجود وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسجد فيها. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سورۃ «ص» کا سجدہ ان میں سے نہیں ہے جن کا ذکر ضروری ہے، البتہ میں نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 271]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «ص» (سورۃ) ص – «لَيْسَتْ» نہیں ہے – «مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ» تاکیدی سجدوں میں سے – «وَقَدْ رَأَيْتُ» اور یقیناً میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْجُدُ فِيهَا» اس میں سجدہ کرتے ہوئے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورۃ ص (کا سجدہ) تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 271]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورۃ ص (کا سجدہ) تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب سجدة ص، حديث:1069.»
الحكم على الحديث:
صحيح