بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب صلاة التطوع
نفل نماز کا بیان
حدیث نمبر: 295
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قام في شهر رمضان ثم انتظروه من القابلة فلم يخرج وقال: «إني خشيت أن يكتب عليكم الوتر» . رواه ابن حبان.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں قیام فرمایا پھر اگلے دن کے لئے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر تشریف نہ لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وتر کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“ اس کو ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 295]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَامَ» نے قیام کیا – «فِي شَهْرِ رَمَضَانَ» رمضان کے مہینے میں – «ثُمَّ انْتَظَرُوهُ» پھر انہوں نے آپ کا انتظار کیا – «مِنَ الْقَابِلَةِ» اگلی رات – «فَلَمْ يَخْرُجْ» تو آپ باہر تشریف نہ لائے – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنِّي خَشِيتُ» بے شک میں ڈرا – «أَنْ يُكْتَبَ» کہ فرض کر دیا جائے – «عَلَيْكُمُ» تم پر – «الْوِتْرُ» وتر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں (رات کا) قیام فرمایا، پھر اگلی رات لوگوں نے آپ کا انتظار کیا لیکن آپ باہر تشریف نہ لائے اور فرمایا: ”مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ کر دیا جائے۔“ اسے ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 295]
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں (رات کا) قیام فرمایا، پھر اگلی رات لوگوں نے آپ کا انتظار کیا لیکن آپ باہر تشریف نہ لائے اور فرمایا: ”مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ کر دیا جائے۔“ اسے ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الإحسان): 4 /62-64، حديث:1 / 2401-2406.* عيسي بن جارية حسن الحديث علي الراجح كما حققته في نور المصابيح، والحمد لله.»
الحكم على الحديث:
حسن
Bulughul Maram Hadith 295 in Urdu