بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب صلاة المسافر والمريض
مسافر اور مریض کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 352
وعن جابر رضي الله عنه قال: عاد النبي صلى الله عليه وآله وسلم مريضا فرآه يصلي على وسادة فرمى بها وقال: «صل على الأرض إن استطعت وإلا فأوم إيماء واجعل سجودك أخفض من ركوعك» . رواه البيهقي وصحح أبو حاتم وقفه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت فرمائی تو دیکھا کہ وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تکیہ دور پھینک دیا اور فرمایا کہ ”زمین پر نماز پڑھ اگر تمہارے بس میں ہے ورنہ سر کے اشارے سے پڑھ لے۔ اور اپنے سجدوں کو اپنے رکوع سے نیچے کرو۔ (یعنی سجدہ میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو)۔“
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 352]
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 352]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «عَادَ» عیادت کی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَرِيضًا» ایک بیمار کی – «فَرَآهُ» تو آپ نے اسے دیکھا – «يُصَلِّي» نماز پڑھتے ہوئے – «عَلَى وِسَادَةٍ» ایک تکیے پر (سجدہ کرتے) – «فَرَمَى بِهَا» تو آپ نے اسے پھینک دیا – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «صَلِّ» نماز پڑھو – «عَلَى الْأَرْضِ» زمین پر – «إِنِ اسْتَطَعْتَ» اگر تم استطاعت رکھو – «وَإِلَّا» ورنہ – «فَأَوْمِ إِيمَاءً» تو اشارے سے پڑھو – «وَاجْعَلْ» اور کرو – «سُجُودَكَ» اپنا سجدہ – «أَخْفَضَ» زیادہ نیچا – «مِنْ رُكُوعِكَ» اپنے رکوع سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «وَصَحَّحَ» اور صحیح قرار دیا – «أَبُو حَاتِمٍ» ابو حاتم نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی تو اسے ایک تکیے پر (سجدہ کرتے ہوئے) نماز پڑھتے دیکھا، آپ نے وہ تکیہ پھینک دیا اور فرمایا: ”اگر استطاعت ہو تو زمین پر نماز پڑھو، ورنہ اشارے سے پڑھو اور اپنے سجدے کو اپنے رکوع سے زیادہ نیچا رکھو۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور ابو حاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 352]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی تو اسے ایک تکیے پر (سجدہ کرتے ہوئے) نماز پڑھتے دیکھا، آپ نے وہ تکیہ پھینک دیا اور فرمایا: ”اگر استطاعت ہو تو زمین پر نماز پڑھو، ورنہ اشارے سے پڑھو اور اپنے سجدے کو اپنے رکوع سے زیادہ نیچا رکھو۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور ابو حاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 352]
تخریج الحدیث: «تقدم261.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
Bulughul Maram Hadith 352 in Urdu