بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب صلاة المسافر والمريض
مسافر اور مریض کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 341
عن عائشة رضي الله عنها قالت: أول ما فرضت الصلاة ركعتين فأقرت صلاة السفر وأتمت صلاة الحضر. متفق عليه وللبخاري:" ثم هاجر ففرضت أربعا وأقرت صلاة السفر على الأول." زاد أحمد:" إلا المغرب فإنها وتر النهار وإلا الصبح فإنها تطول فيها القراءة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابتداء میں دو رکعت فرض کی گئی تھیں (سفر و حضر میں جتنی نماز فرض کی گئی وہ دو رکعت تھی) پھر سفر کی نماز کو برقرار رکھا گیا (یعنی دو رکعات) اور حضر کی نماز کو پورا کر دیا گیا (یعنی چار رکعات) (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو چار رکعت فرض کر دی گئیں اور سفر کی نماز پہلی حالت پر برقرار رکھی گئی۔ احمد نے اتنا اضافہ کیا ہے سوائے نماز مغرب کے کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں اور بجز صبح کی نماز کیونکہ اس نماز میں قرآت لمبی کی جاتی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 341]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَوَّلَ مَا» شروع میں جب – «فُرِضَتِ» فرض کی گئی – «الصَّلَاةُ» نماز – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «فَأُقِرَّتْ» پس برقرار رکھی گئی – «صَلَاةُ السَّفَرِ» سفر کی نماز – «وَأُتِمَّتْ» اور پوری (زیادہ) کر دی گئی – «صَلَاةُ الْحَضَرِ» حضر (اقامت) کی نماز۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی روایت میں ہے: – «ثُمَّ» پھر – «هَاجَرَ» آپ نے ہجرت کی – «فَفُرِضَتْ» تو فرض کی گئیں – «أَرْبَعًا» چار (رکعتیں) – «وَأُقِرَّتْ» اور برقرار رکھی گئی – «صَلَاةُ السَّفَرِ» سفر کی نماز – «عَلَى الْأَوَّلِ» پہلی (حالت) پر۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے: – «إِلَّا» سوائے – «الْمَغْرِبَ» مغرب کے – «فَإِنَّهَا» کیونکہ وہ – «وِتْرُ النَّهَارِ» دن کا وتر ہے – «وَإِلَّا» اور سوائے – «الصُّبْحَ» صبح کے – «فَإِنَّهَا» کیونکہ اس میں – «تُطَوَّلُ» لمبی کی جاتی ہے – «فِيهَا» اس میں – «الْقِرَاءَةُ» قراءت۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شروع میں نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (اسی حالت پر) برقرار رکھی گئی اور حضر (اقامت) کی نماز پوری (چار) کر دی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”پھر آپ نے ہجرت کی تو (حضر کی نماز) چار رکعتیں فرض کر دی گئی اور سفر کی نماز پہلی حالت پر برقرار رکھی گئی۔“ اور احمد نے یہ اضافہ کیا: ”سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کا وتر ہے، اور سوائے صبح کے، کیونکہ اس میں قراءت لمبی کی جاتی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 341]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شروع میں نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (اسی حالت پر) برقرار رکھی گئی اور حضر (اقامت) کی نماز پوری (چار) کر دی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”پھر آپ نے ہجرت کی تو (حضر کی نماز) چار رکعتیں فرض کر دی گئی اور سفر کی نماز پہلی حالت پر برقرار رکھی گئی۔“ اور احمد نے یہ اضافہ کیا: ”سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کا وتر ہے، اور سوائے صبح کے، کیونکہ اس میں قراءت لمبی کی جاتی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب كيف فرضت الصلوات في الإسراء، حديث:350، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها، حديث:685، وحديث ((ثم هاجر....)) أخرجه البخاري، حديث: 3935، وحديث ((إلا المغرب فإنها وترالنهار)) أخرجه أحمد:6 /241، 272 وهو حديث صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 342
وعن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقصر في السفر ويتم ويصوم ويفطر. رواه الدارقطني ورواته ثقات إلا أنه معلول والمحفوظ عن عائشة من فعلها وقالت:" إنه لا يشق علي." أخرجه البيهقي.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور اتمام دونوں پر عمل فرماتے تھے نیز روزہ رکھتے بھی تھے اور افطار بھی کر لیتے تھے۔ (دارقطنی) اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر حدیث معلول ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذاتی فعل کی صورت میں محفوظ ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”روزہ مجھ پر گراں نہیں۔“ بیہقی نے اس کی تخریج کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 342]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَقْصُرُ» قصر کیا کرتے تھے – «فِي السَّفَرِ» سفر میں – «وَيُتِمُّ» اور پوری بھی پڑھتے – «وَيَصُومُ» اور روزہ بھی رکھتے – «وَيُفْطِرُ» اور افطار (روزہ چھوڑ) بھی کرتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَرُوَاتُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں – «إِلَّا أَنَّهُ» مگر یہ کہ وہ – «مَعْلُولٌ» معلول (علت والی) ہے – «وَالْمَحْفُوظُ» اور محفوظ (درست) بات – «عَنْ عَائِشَةَ» عائشہ سے – «مِنْ فِعْلِهَا» ان کے اپنے عمل سے ہے – «وَقَالَتْ» اور انہوں نے کہا: – «إِنَّهُ» بے شک یہ – «لَا يَشُقُّ» مشقت والا نہیں – «عَلَيَّ» مجھ پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نماز قصر بھی کرتے اور پوری بھی پڑھتے، روزہ بھی رکھتے اور افطار بھی کرتے تھے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر یہ روایت معلول ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محفوظ یہ ہے کہ یہ ان کا اپنا عمل تھا، اور انہوں نے فرمایا: ”بے شک یہ (پوری نماز) مجھ پر مشقت والی نہیں۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 342]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نماز قصر بھی کرتے اور پوری بھی پڑھتے، روزہ بھی رکھتے اور افطار بھی کرتے تھے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر یہ روایت معلول ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محفوظ یہ ہے کہ یہ ان کا اپنا عمل تھا، اور انہوں نے فرمایا: ”بے شک یہ (پوری نماز) مجھ پر مشقت والی نہیں۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:2 /189 وقال: "هذا إسناد صحيح" والعلة مردودة، والبيهقي:3 /143، وله شاهد صحيح عند النسائي في سننه الصغري، وسنده صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 343
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يكره أن تؤتى معصيته» رواه أحمد وصححه ابن خزيمة وابن حبان وفي رواية:«كما يحب أن تؤتى عزائمه» .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کو یہ اسی طرح پسند ہے کہ جن کاموں میں اس نے رخصت عنایت فرمائی ہے، ان میں رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح اسے یہ ناپسند ہے کہ معصیت والے کاموں کو کیا جائے۔“
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ”جیسا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس کے تاکیدی احکام (فرائض) کو ادا کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 343]
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ”جیسا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس کے تاکیدی احکام (فرائض) کو ادا کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 343]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ – «يُحِبُّ» پسند کرتا ہے – «أَنْ تُؤْتَى» کہ اختیار کی جائیں – «رُخَصُهُ» اس کی رخصتیں – «كَمَا» جیسا کہ – «يَكْرَهُ» وہ ناپسند کرتا ہے – «أَنْ تُؤْتَى» کہ کی جائے – «مَعْصِيَتُهُ» اس کی نافرمانی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «كَمَا» جیسا کہ – «يُحِبُّ» وہ پسند کرتا ہے – «أَنْ تُؤْتَى» کہ اختیار کیے جائیں – «عَزَائِمُهُ» اس کے (اصل) تاکیدی احکام۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسا کہ وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے عزیمت والے (اصل) احکام پر عمل کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 343]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسا کہ وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے عزیمت والے (اصل) احکام پر عمل کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 2 /108، وابن حبان (الموارد)، حديث:545، وابن خزيمة: 2 /73، حديث:950، 2027.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 344
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا خرج مسيرة ثلاثة أميال أو فراسخ صلى ركعتين. رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر، سفر کے لئے تشریف لے جاتے تو دو رکعتیں (نماز قصر) ادا فرماتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 344]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا خَرَجَ» جب نکلتے – «مَسِيرَةَ» مسافت (پر) – «ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ» تین میل کی – «أَوْ فَرَاسِخَ» یا (تین) فرسخ کی – «صَلَّى» تو پڑھتے – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر (سفر کے لیے) نکلتے تو دو رکعتیں (قصر نماز) پڑھتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 344]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر (سفر کے لیے) نکلتے تو دو رکعتیں (قصر نماز) پڑھتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين، حديث:691.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 345
وعنه رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من المدينة إلى مكة، فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة. متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپسی تک دو، دو رکعتیں ہی ادا فرماتے رہے۔ (بخاری و مسلم) البتہ متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 345]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجْنَا» ہم نکلے – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مِنَ الْمَدِينَةِ» مدینہ سے – «إِلَى مَكَّةَ» مکہ کی طرف – «فَكَانَ يُصَلِّي» تو آپ پڑھتے رہے – «رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ» دو دو رکعتیں – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «رَجَعْنَا» ہم لوٹ آئے – «إِلَى الْمَدِينَةِ» مدینہ کی طرف۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ (چار رکعت والی نماز) دو دو رکعتیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 345]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ (چار رکعت والی نماز) دو دو رکعتیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير، حديث:1081، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين، حديث:693.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 346
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أقام النبي صلى الله عليه وآله وسلم تسعة عشر يقصر. وفي لفظ:" بمكة تسعة عشر يوما". رواه البخاري. وفي رواية لأبي داود:" سبع عشرة". وفي أخرى:" خمس عشرة". وله عن عمران بن حصين رضي الله عنهما:" ثماني عشرة". وله عن جابر رضي الله عنه:" أقام بتبوك عشرين يوما يقصر الصلاة." ورواته ثقات إلا أنه اختلف في وصله.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس روز قیام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصر ہی فرماتے رہے اور ایک روایت میں ہے کہ مکہ میں انیس روز قیام فرمایا۔ (بخاری) اور ابوداؤد کی روایت میں سترہ روز ہے اور ایک دوسری روایت میں پندرہ روز ہے۔ اور ابوداؤد میں ہی عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدت قیام اٹھارہ دن تھی اور انہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر ادا کرتے رہے، اس روایت کے راوی ثقہ ہیں، مگر اس کے موصول ہونے میں اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 346]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجْنَا» ہم نکلے – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مِنَ الْمَدِينَةِ» مدینہ سے – «إِلَى مَكَّةَ» مکہ کی طرف – «فَكَانَ يُصَلِّي» تو آپ پڑھتے رہے – «رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ» دو دو رکعتیں – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «رَجَعْنَا» ہم لوٹ آئے – «إِلَى الْمَدِينَةِ» مدینہ کی طرف۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ (چار رکعت والی نماز) دو دو رکعتیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 346]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ (چار رکعت والی نماز) دو دو رکعتیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير، حديث:1080، وأبوداود، صلاة السفر، حديث:1230-1232، وحديث عمران أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1229 وهو حديث حسن، وحديث جابر أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1235 وهو حديث صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 347
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا ارتحل قبل أن تزيغ الشمس أخر الظهر إلى وقت العصر ثم نزل فجمع بينهما فإن زاغت الشمس قبل أن يرتحل صلى الظهر ثم ركب. متفق عليه. وفي رواية الحاكم في الأربعين بإسناد الصحيح:" صلى الظهر والعصر ثم ركب". ولأبي نعيم في مستخرج مسلم: كان إذا كان في سفر فزالت الشمس صلى الظهر والعصر جميعا ثم ارتحل.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زوال آفتاب سے پہلے سفر کا آغاز فرماتے تو ظہر کی نماز کو عصر کی نماز تک مؤخر کر لیتے تھے۔ پھر سواری سے نیچے تشریف لاتے اور ظہر و عصر دونوں نمازوں کو اکٹھا ادا فرماتے اور جب آفتاب آغاز سفر سے پہلے زوال پذیر ہو جاتا تو پھر نماز ظہر ادا فرما کر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوتے۔ (بخاری و مسلم)
اور حاکم کی اربعین میں سند صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھیں پھر سواری پر سوار ہوئے۔ ابونعیم کی ”مستخرج“ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہوتے اور آفتاب زوال پذیر ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر دونوں اکٹھی ادا فرما کر وہاں سے کوچ کرتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 347]
اور حاکم کی اربعین میں سند صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھیں پھر سواری پر سوار ہوئے۔ ابونعیم کی ”مستخرج“ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہوتے اور آفتاب زوال پذیر ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر دونوں اکٹھی ادا فرما کر وہاں سے کوچ کرتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 347]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا ارْتَحَلَ» جب کوچ کرتے – «قَبْلَ» پہلے – «أَنْ تَزِيغَ» اس سے کہ ڈھلے – «الشَّمْسُ» سورج – «أَخَّرَ» تو مؤخر کر دیتے – «الظُّهْرَ» ظہر کو – «إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ» عصر کے وقت تک – «ثُمَّ» پھر – «نَزَلَ» اترتے – «فَجَمَعَ» پس جمع کرتے – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کو – «فَإِنْ» اور اگر – «زَاغَتِ» ڈھل جاتا – «الشَّمْسُ» سورج – «قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ» کوچ کرنے سے پہلے – «صَلَّى» تو پڑھ لیتے – «الظُّهْرَ» ظہر – «ثُمَّ» پھر – «رَكِبَ» سوار ہوتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةِ» اور روایت میں – «الْحَاكِمِ» حاکم کی – «فِي الْأَرْبَعِينَ» (کتاب) الاربعین میں – «بِإِسْنَادِ الصَّحِيحِ» صحیح (کی شرط والی) سند سے: – «صَلَّى» (آپ نے) پڑھی – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے۔ – «وَلِأَبِي نُعَيْمٍ» اور ابو نعیم کی روایت میں – «فِي مُسْتَخْرَجِ مُسْلِمٍ» مستخرج مسلم میں ہے: – «كَانَ» (آپ) تھے – «إِذَا كَانَ» جب ہوتے – «فِي سَفَرٍ» کسی سفر میں – «فَزَالَتِ» پھر ڈھل جاتا – «الشَّمْسُ» سورج – «صَلَّى» تو پڑھ لیتے – «الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ» ظہر اور عصر – «جَمِيعًا» اکٹھی – «ثُمَّ ارْتَحَلَ» پھر کوچ کرتے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے، پھر (سواری سے) اتر کر دونوں کو جمع کر کے پڑھتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور حاکم کی الاربعین میں صحیح سند کے ساتھ روایت میں ہے: ”آپ نے ظہر اور عصر پڑھی پھر سوار ہوئے۔“ اور ابو نعیم کی مستخرج مسلم میں ہے: آپ جب سفر میں ہوتے اور سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے، پھر کوچ کرتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 347]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے، پھر (سواری سے) اتر کر دونوں کو جمع کر کے پڑھتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور حاکم کی الاربعین میں صحیح سند کے ساتھ روایت میں ہے: ”آپ نے ظہر اور عصر پڑھی پھر سوار ہوئے۔“ اور ابو نعیم کی مستخرج مسلم میں ہے: آپ جب سفر میں ہوتے اور سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے، پھر کوچ کرتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب يؤخر الظهر إلي العصر إذا ارتحل قبل أن تزيغ الشمس، حديث: 1111، ومسلم، صلاة المسافرين، باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر، حديث:704، وأبو نعيم في المستخرج:2 /294.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 348
وعن معاذ رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة تبوك فكان يصلي الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا. رواه مسلم.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھتے اور مغرب و عشاء اکٹھی پڑھتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاذٍ» معاذ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجْنَا» ہم نکلے – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ» غزوۂ تبوک میں – «فَكَانَ يُصَلِّي» تو آپ پڑھتے تھے – «الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ» ظہر اور عصر – «جَمِيعًا» اکٹھی – «وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ» اور مغرب اور عشاء – «جَمِيعًا» اکٹھی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو آپ ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو آپ ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر، حديث:706.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 349
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تقصروا الصلاة في أقل من أربعة برد من مكة إلى عسفان» . رواه الدارقطني بإسناد ضعيف. والصحيح أنه موقوف كذا أخرجه ابن خزيمة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چار برد سے کم فاصلہ پر نماز قصر نہ کرو (چار برد) مکہ سے عسفان تک فاصلہ ہے۔“
اسے دارقطنی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ ابن خزیمہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 349]
اسے دارقطنی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ ابن خزیمہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 349]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَقْصُرُوا» قصر نہ کرو – «الصَّلَاةَ» نماز – «فِي أَقَلَّ» کم (مسافت) میں – «مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ» چار برید سے – «مِنْ مَكَّةَ» (جیسے) مکہ سے – «إِلَى عُسْفَانَ» عسفان تک۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ – «وَالصَّحِيحُ» اور صحیح یہ ہے – «أَنَّهُ مَوْقُوفٌ» کہ یہ موقوف ہے – «كَذَا» اسی طرح – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”چار برید سے کم (مسافت) میں نماز قصر نہ کرو، (جو) مکہ سے عسفان تک (کا فاصلہ ہے)۔“ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، ابن خزیمہ نے اسے اسی طرح (موقوفاً) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 349]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”چار برید سے کم (مسافت) میں نماز قصر نہ کرو، (جو) مکہ سے عسفان تک (کا فاصلہ ہے)۔“ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، ابن خزیمہ نے اسے اسی طرح (موقوفاً) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني:1 /387.* فيه عبدالوهاب بن مجاهد وهو متروك متهم، وقول ابن عباس علي غير لفظ الكتاب فليتنبه.»
الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
حدیث نمبر: 350
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «خير أمتي الذين إذا أساءوا استغفروا وإذا أحسنوا استبشروا وإذا سافروا قصروا وأفطروا» . أخرجه الطبراني في الأوسط بإسناد ضعيف، وهو في مراسيل سعيد بن المسيب عند البيهقي مختصرا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو برائیاں کر کے بخشش کے طلبگار ہوتے ہیں اور جب سفر پر ہوتے ہیں تو نماز قصر کا اہتمام کرتے ہیں اور روزہ نہیں رکھتے۔“
اسے طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ اپنی اوسط میں روایت کیا ہے اور یہ بیہقی کے ہاں مختصراً سعید بن مسیب کی مراسیل سے ہے۔ بیہقی نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
اسے طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ اپنی اوسط میں روایت کیا ہے اور یہ بیہقی کے ہاں مختصراً سعید بن مسیب کی مراسیل سے ہے۔ بیہقی نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْرُ أُمَّتِي» میری امت کے بہترین لوگ – «الَّذِينَ» وہ ہیں جو – «إِذَا أَسَاءُوا» جب برائی کریں – «اسْتَغْفَرُوا» تو بخشش مانگیں – «وَإِذَا أَحْسَنُوا» اور جب نیکی کریں – «اسْتَبْشَرُوا» تو خوش ہوں – «وَإِذَا سَافَرُوا» اور جب سفر کریں – «قَصَرُوا» تو قصر کریں – «وَأَفْطَرُوا» اور روزہ چھوڑ دیں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الطَّبَرَانِيُّ» طبرانی نے – «فِي الْأَوْسَطِ» (المعجم) الاوسط میں – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ – «وَهُوَ» اور یہ – «فِي مَرَاسِيلِ» مراسیل میں ہے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ» سعید بن مسیب کی – «عِنْدَ الْبَيْهَقِيِّ» بیہقی کے ہاں – «مُخْتَصَرًا» مختصر طور پر۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب برائی کر بیٹھیں تو استغفار کریں، جب نیکی کریں تو خوش ہوں، اور جب سفر کریں تو نماز قصر کریں اور روزہ چھوڑ دیں۔“ اسے طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہ بیہقی کے ہاں سعید بن مسیب کی مراسیل میں مختصر طور پر موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب برائی کر بیٹھیں تو استغفار کریں، جب نیکی کریں تو خوش ہوں، اور جب سفر کریں تو نماز قصر کریں اور روزہ چھوڑ دیں۔“ اسے طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہ بیہقی کے ہاں سعید بن مسیب کی مراسیل میں مختصر طور پر موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: «أخرجه الطبراني في الأوسط:7 /286، حديث:6554.* ابن لهيعة وأبوالزبير مدلسان وعنعنا.»
الحكم على الحديث:
ضعيف