بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 354
عن عبد الله بن عمرو، و أبي هريرة رضي الله عنهم أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول على أعواد منبره: «لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين» . رواه مسلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (دونوں) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر یہ فرماتے سنا ہے کہ ”لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لازماً غافل لوگوں میں شمار ہوں گے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 354]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» عبداللہ بن عمرو – «وَأَبِي هُرَيْرَةَ» اور ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُمَا» کہ ان دونوں نے – «سَمِعَا» سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے – «عَلَى أَعْوَادِ» لکڑیوں پر – «مِنْبَرِهِ» اپنے منبر کی: – «لَيَنْتَهِيَنَّ» ضرور باز آ جائیں – «أَقْوَامٌ» کچھ لوگ – «عَنْ وَدْعِهِمُ» اپنے چھوڑ دینے سے – «الْجُمُعَاتِ» جمعوں کو – «أَوْ» ورنہ – «لَيَخْتِمَنَّ» ضرور مہر لگا دے گا – «اللَّهُ» اللہ – «عَلَى قُلُوبِهِمْ» ان کے دلوں پر – «ثُمَّ» پھر – «لَيَكُونُنَّ» وہ ضرور ہو جائیں گے – «مِنَ الْغَافِلِينَ» غافلوں میں سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہو کر) فرماتے سنا: ”لوگ جمعے چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ ضرور غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 354]
سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہو کر) فرماتے سنا: ”لوگ جمعے چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ ضرور غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 354 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 354
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.» تشریح:
1. جمعہ کے لغوی معنی ایک جگہ جمع ہونے کے ہیں‘ اس دن کو دور جاہلیت میں ”عروبہ“ کہتے تھے۔
اسلام نے اس کا نام جمعہ رکھا کہ مسلمان ایک مخصوص دن میں مخصوص اوقات میں عبادت الٰہی کے لیے مجتمع ہوں اور مل کر سب اکٹھے عبادت کریں اور ایک دوسرے کے حالات سے باخبر بھی ہوں اور اجتماعی فیصلے بھی کیے جا سکیں۔
2. اس حدیث سے جمعہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے‘ اسے کسی عذر شرعی کے بغیر ترک کرنے کی وجہ سے دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں اور آدمی دین سے بے بہرہ ہو جاتا ہے‘ اور پھر آخر کار منافقین و غافلین کے زمرے میں شامل ہو کر رہ جاتا ہے۔
گویا نماز جمعہ کو معمولی سمجھ کر اس بارے میں تساہل اور سستی کا مظاہرہ کرنا رسوائی اور خذلان کا موجب ہے اور توفیق الٰہی سے محروم رہنے کا باعث بھی۔
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.»
1. جمعہ کے لغوی معنی ایک جگہ جمع ہونے کے ہیں‘ اس دن کو دور جاہلیت میں ”عروبہ“ کہتے تھے۔
اسلام نے اس کا نام جمعہ رکھا کہ مسلمان ایک مخصوص دن میں مخصوص اوقات میں عبادت الٰہی کے لیے مجتمع ہوں اور مل کر سب اکٹھے عبادت کریں اور ایک دوسرے کے حالات سے باخبر بھی ہوں اور اجتماعی فیصلے بھی کیے جا سکیں۔
2. اس حدیث سے جمعہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے‘ اسے کسی عذر شرعی کے بغیر ترک کرنے کی وجہ سے دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں اور آدمی دین سے بے بہرہ ہو جاتا ہے‘ اور پھر آخر کار منافقین و غافلین کے زمرے میں شامل ہو کر رہ جاتا ہے۔
گویا نماز جمعہ کو معمولی سمجھ کر اس بارے میں تساہل اور سستی کا مظاہرہ کرنا رسوائی اور خذلان کا موجب ہے اور توفیق الٰہی سے محروم رہنے کا باعث بھی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 354]
Bulughul Maram Hadith 354 in Urdu