🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 354
عن عبد الله بن عمرو،‏‏‏‏ و أبي هريرة رضي الله عنهم أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول على أعواد منبره: «‏‏‏‏لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (دونوں) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لازماً غافل لوگوں میں شمار ہوں گے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
وعن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه قال: كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الجمعة ثم ننصرف وليس للحيطان ظل يستظل به. متفق عليه واللفظ للبخاري. وفي لفظ لمسلم: كنا نجمع مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا زالت الشمس ثم نرجع نتتبع الفيء.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے۔ جمعہ سے فارغ ہو کر جب ہم اپنے گھروں کو جاتے تو اس وقت دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ جس سے سایہ لیا جا سکے۔ (یا سایہ میں چل کر پہنچ جاتے)۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں) اور مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے جب زوال ہو جاتا پھر واپس ہوتے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة الحديبية، حديث:4168، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:860.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
وعن سهل بن سعد رضي الله عنهما قال: ما كنا نقيل ولا نتغدى إلا بعد الجمعة. متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية: في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (جمعہ کے روز) ہم دوپہر کا قیلولہ اور کھانا نماز جمعہ کے بعد کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب قول الله تعالي: فإذا قضيت الصلاة فانتشروا، حديث:939، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:859.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 357
وعن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يخطب قائما فجاءت عير من الشام فانفتل الناس إليها حتى لم يبق إلا اثنا عشر رجلا. رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا۔ سب لوگ اس قافلہ کی طرف چھٹ گئے صرف بارہ آدمی خطبہ سننے کے لئے باقی رہ گئے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 357]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب قوله تعالي: (وإذا راوا تجارة أو لهوًا انفضوا اليها)، حديث:863.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 358
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من أدرك ركعة من صلاة الجمعة وغيرها فليضف إليها أخرى وقد تمت صلاته» .‏‏‏‏ رواه النسائي وابن ماجه والدارقطني واللفظ له وإسناده صحيح لكن قوى أبو حاتم إرساله.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے نماز جمعہ اور دیگر نمازوں میں سے کسی کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) پا لی تو وہ دوسری اس کے ساتھ ملا لے۔ تو بس اس کی نماز پوری ہو گئی۔
اسے نسائی ‘ ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ دارقطنی کے ہیں۔ اس کی سند صحیح ہے لیکن ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو قوی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 358]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، المواقيت، باب من أدرك ركعة من الصلاة، حديث:558، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1123، والدارقطني:2 /12.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يخطب قائما،‏‏‏‏ ثم يجلس،‏‏‏‏ ثم يقوم فيخطب قائما،‏‏‏‏ فمن أنبأك أنه كان يخطب جالسا فقد كذب. أخرجه مسلم.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے۔ پھر درمیان میں تھوڑا سا بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر خطاب فرماتے۔ پس جس کسی نے تمہیں یہ اطلاع دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، اس نے جھوٹ بولا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة، حديث:862.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 360
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا خطب احمرت عيناه وعلا صوته واشتد غضبه حتى كأنه منذر جيش يقول: «‏‏‏‏صبحكم ومساكم» ‏‏‏‏ ويقول: «‏‏‏‏أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدى محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وفي رواية له: كانت خطبة النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة يحمد الله ويثني عليه ثم يقول على أثر ذلك وقد علا صوته. وفي رواية له: «‏‏‏‏من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له» . وللنسائي: «‏‏‏‏وكل ضلالة في النار» .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو رخ انور سرخ ہو جاتا۔ آواز بلند ہو جاتی اور جوش بڑھ جاتا (جس سے غصہ کے آثار نمایاں ہوتے۔ بس اسی طرح کی کیفیت ہو جاتی) جیسے کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں دشمن کا لشکر تمہارے پاس صبح کو پہنچایا شام کو؟ اور فرماتے «أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدى محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة» حمد و صلوۃ کے بعد۔ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ کاموں میں بدترین کام نئے (بدعت کے) کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے جمعہ کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یوں ہوتا تھا کہ اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے۔ اس کے بعد خطبہ دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے «من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له» جسے اللہ ہدایت دیدے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ اور نسائی میں ہے «وكل ضلالة في النار» اور ہر گمراہی دوزخ میں (لے) جانے والی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة، حديث:867، والنسائي، صلاة العيدين، حديث:1579.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے آدمی کی لمبی نماز اور اس کا مختصر خطبہ اس کی فقاہت کی نشانی ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362
وعن أم هشام بنت حارثة رضي الله عنهما قالت:"ما أخذت"ق والقرآن المجيد" إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ يقرؤها كل جمعة على المنبر إذا خطب الناس. رواه مسلم.
سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ «ق والقرآن المجيد» لسان مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ازبر (یاد) کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ اس سورۃ کو منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ جمعہ میں تلاوت فرماتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة، حديث:872.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 363
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من تكلم يوم الجمعة والإمام يخطب فهو كمثل الحمار يحمل أسفارا والذي يقول له: أنصت ليست له جمعة» .‏‏‏‏ رواه أحمد بإسناد لا بأس به. وهو يفسرحديث أبي هريرة رضي الله عنه في الصحيحين مرفوعا:«إذا قلت لصاحبك أنصت يوم الجمعة والإمام يخطب فقد لغوت» .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کے روز اس وقت بات کی جب امام منبر پر خطبہ جمعہ دے رہا ہو تو وہ شخص اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اور اس کا بھی جمعہ نہیں جس نے اسے کہا کہ خاموش رہ۔ اسے احمد نے ایسی سند سے روایت کیا جس کے متعلق، «لا بأس به» کہا گیا ہے۔ اور یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیحین میں مروی حدیث کی تفسیر ہے جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تو نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چپ رہ تو تو نے بھی لغو بات کی۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:1 /230.* مجالد بن سعيد ضعيف من جهة سوء حفظه وحديث ((إذا قلت لصاحبك أنصت....)) أخرجه البخاري، الجمعة، حديث:934، ومسلم، الجمعة، حديث:851.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں