بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 357
وعن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يخطب قائما فجاءت عير من الشام فانفتل الناس إليها حتى لم يبق إلا اثنا عشر رجلا. رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا۔ سب لوگ اس قافلہ کی طرف چھٹ گئے صرف بارہ آدمی خطبہ سننے کے لئے باقی رہ گئے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 357]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَخْطُبُ» خطبہ دے رہے تھے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «فَجَاءَتْ» تو آیا – «عِيرٌ» ایک تجارتی قافلہ – «مِنَ الشَّامِ» شام سے – «فَانْفَتَلَ» تو مڑ کر چلے گئے – «النَّاسُ» لوگ – «إِلَيْهَا» اس کی طرف – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «لَمْ يَبْقَ» باقی نہ رہے – «إِلَّا» مگر – «اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا» بارہ آدمی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آیا، تو لوگ مڑ کر اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 357]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آیا، تو لوگ مڑ کر اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 357]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب قوله تعالي: (وإذا راوا تجارة أو لهوًا انفضوا اليها)، حديث:863.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 357 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 357
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب قوله تعالي: (وإذا راوا تجارة أو لهوًا انفضوا اليها)، حديث:863.» تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ٔجمعہ کھڑے ہو کر دیا کرتے تھے۔
مسنون یہی ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خطبہ نماز سے پہلے ہوتا تھا۔
نماز کے بعد نہیں‘ نیز ثابت ہوا کہ بارہ افراد بھی ہوں تو جمعہ درست ہے۔
شوافع نے جو چالیس کی تعداد کو ضروری قرار دیا ہے‘ وہ صحیح نہیں۔
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب قوله تعالي: (وإذا راوا تجارة أو لهوًا انفضوا اليها)، حديث:863.»
1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ٔجمعہ کھڑے ہو کر دیا کرتے تھے۔
مسنون یہی ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خطبہ نماز سے پہلے ہوتا تھا۔
نماز کے بعد نہیں‘ نیز ثابت ہوا کہ بارہ افراد بھی ہوں تو جمعہ درست ہے۔
شوافع نے جو چالیس کی تعداد کو ضروری قرار دیا ہے‘ وہ صحیح نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 357]
Bulughul Maram Hadith 357 in Urdu