🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يخطب قائما،‏‏‏‏ ثم يجلس،‏‏‏‏ ثم يقوم فيخطب قائما،‏‏‏‏ فمن أنبأك أنه كان يخطب جالسا فقد كذب. أخرجه مسلم.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے۔ پھر درمیان میں تھوڑا سا بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر خطاب فرماتے۔ پس جس کسی نے تمہیں یہ اطلاع دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، اس نے جھوٹ بولا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 359]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ» جابر بن سمرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَخْطُبُ» خطبہ دیا کرتے تھے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «ثُمَّ يَجْلِسُ» پھر بیٹھتے – «ثُمَّ يَقُومُ» پھر کھڑے ہوتے – «فَيَخْطُبُ» پس خطبہ دیتے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «فَمَنْ» پس جس نے – «أَنْبَأَكَ» تمہیں خبر دی – «أَنَّهُ» کہ آپ – «كَانَ يَخْطُبُ» خطبہ دیتے تھے – «جَالِسًا» بیٹھ کر – «فَقَدْ كَذَبَ» تو یقیناً اس نے جھوٹ بولا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔ تو جس نے تمہیں یہ خبر دی کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة، حديث:862.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 359 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 359
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة، حديث:862.»
تشریح:
اس حدیث سے کئی مسئلے ثابت ہوتے ہیں۔
1.جمعہ کے دو خطبے ہیں۔
2. دونوں کے درمیان بیٹھنا مسنون ہے۔
3. آپ دونوں خطبے کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے تھے۔
4. شرعی عذر کے بغیر ان میں سے کسی کی بھی خلاف ورزی اگر مسنون سمجھ کر کی جائے تو بدعت ہوگی۔
5. ابن ابی شیبہ میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ابوبکر‘ عمر‘ عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سب کھڑے ہو کر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔
6. بعض احادیث سے آپ کا منبر پر چڑھ کر مقتدیوں کی طرف رخ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا بھی ثابت ہے۔
(سنن ابن ماجہ‘ إقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا‘ حدیث:۱۱۰۹‘ وشرح السنۃ بتحقیق زھیر الشاویش و شعیب الأرنؤوط:۴ / ۲۴۲‘ ۲۴۳‘ والأجوبۃ النافعۃ‘ ص: ۵۸)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 359]

Bulughul Maram Hadith 359 in Urdu