بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الجمعة
نماز جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 361
وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه» . رواه مسلم.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ”آدمی کی لمبی نماز اور اس کا مختصر خطبہ اس کی فقاہت کی نشانی ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 361]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ» عمار بن یاسر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «إِنَّ» بے شک – «طُولَ» لمبا ہونا – «صَلَاةِ الرَّجُلِ» آدمی کی نماز کا – «وَقِصَرَ» اور مختصر ہونا – «خُطْبَتِهِ» اس کے خطبے کا – «مَئِنَّةٌ» علامت ہے – «مِنْ فِقْهِهِ» اس کی سمجھ داری کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا مختصر ہونا اس کی دینی سمجھ کی علامت ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 361]
اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا مختصر ہونا اس کی دینی سمجھ کی علامت ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 361 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 361
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.» تشریح:
اس حدیث میں خطیب کی عقلمندی کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کی نماز لمبی اور خطبہ چھوٹا ہوتا ہے۔
مختصر بات یاد رکھنی‘ ذہن نشین کرنی آسان ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات جمعہ عام طور پر مختصر مگر جامع ہوتے تھے جنھیں یاد رکھنا یا حفظ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا تھا‘ بآسانی نوک زبان ہو جاتے تھے۔
مگر صد افسوس کہ اس دور میں ہمارے خطباء کی عموماً الٹی گنگا بہتی ہے‘ یعنی خطبہ لمبا اور نماز مختصر‘ اس خلاف سنت طریقے کی بہرنوع اصلاح ضروری ہے۔
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.»
اس حدیث میں خطیب کی عقلمندی کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کی نماز لمبی اور خطبہ چھوٹا ہوتا ہے۔
مختصر بات یاد رکھنی‘ ذہن نشین کرنی آسان ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات جمعہ عام طور پر مختصر مگر جامع ہوتے تھے جنھیں یاد رکھنا یا حفظ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا تھا‘ بآسانی نوک زبان ہو جاتے تھے۔
مگر صد افسوس کہ اس دور میں ہمارے خطباء کی عموماً الٹی گنگا بہتی ہے‘ یعنی خطبہ لمبا اور نماز مختصر‘ اس خلاف سنت طریقے کی بہرنوع اصلاح ضروری ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 361]
Bulughul Maram Hadith 361 in Urdu