بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب صلاة الكسوف
نماز کسوف کا بیان
حدیث نمبر: 404
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ما هبت الريح قط إلا جثا النبي صلى الله عليه وآله وسلم على ركبتيه وقال: «اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا» . رواه الشافعي والطبراني
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب ہوا تیز و تند چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یوں (بارگاہ الٰہی میں) عرض کرتے «اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا» ”اے اللہ! اس ہوا کو رحمت بنا، عذاب نہ بنا۔“ اسے شافعی اور طبرانی دونوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 404]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَا هَبَّتِ» نہیں چلی – «الرِّيحُ» ہوا – «قَطُّ» کبھی – «إِلَّا جَثَا» مگر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى رُكْبَتَيْهِ» اپنے گھٹنوں پر – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «اجْعَلْهَا» اسے بنا دے – «رَحْمَةً» رحمت – «وَلَا تَجْعَلْهَا» اور اسے نہ بنا – «عَذَابًا» عذاب۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی – «وَالطَّبَرَانِيُّ» اور طبرانی نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب بھی ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور فرماتے: ”اے اللہ! اسے رحمت بنا دے اور اسے عذاب نہ بنا۔“ اسے شافعی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 404]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب بھی ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور فرماتے: ”اے اللہ! اسے رحمت بنا دے اور اسے عذاب نہ بنا۔“ اسے شافعی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافي في الأم:1 /253، والطبراني في الكبير:11 /213، حديث:11533 وفيه حسين بن قيس متروك.* فيه قوله: أخبرني من لا أتهم: هو مجهول، والعلاء بن راشد مثله في الجهالة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
Bulughul Maram Hadith 404 in Urdu