🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب صلاة الكسوف
نماز کسوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
وعنه رضي الله عنه أنه صلى الله عليه وآله وسلم صلى في زلزلة ست ركعات وأربع سجدات وقال:«‏‏‏‏هكذا صلاة الآيات» . رواه البيهقي وذكر الشافعي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مثله دون آخره.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ انہوں نے زلزلے کے موقع پر نماز چار سجدوں اور چھ رکوعوں سے پڑھی اور فرمایا کہ آیات الٰہی کی نماز اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔
اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور شافعی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے البتہ اس میں روایت کے آخری الفاظ نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 405]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ آپ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے نماز پڑھی – «فِي زَلْزَلَةٍ» ایک زلزلے میں – «سِتَّ رَكَعَاتٍ» چھ رکوع – «وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ» اور چار سجدے – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «هَكَذَا» اسی طرح ہے – «صَلَاةُ الْآيَاتِ» نشانیوں (کے ظاہر ہونے) کی نماز۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «وَذَكَرَ» اور ذکر کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی نے – «عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِثْلَهُ» اسی کی مثل – «دُونَ آخِرِهِ» اس کے آخری حصے کے بغیر۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زلزلے کے موقع پر (دو رکعتوں میں) چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور فرمایا: ”نشانیوں (کے ظاہر ہونے) کی نماز اسی طرح ہے۔“ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اور شافعی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل ذکر کیا ہے مگر اس کا آخری حصہ (”نشانیوں کی نماز اسی طرح ہے“) ذکر نہیں کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البهقي:3 /343، وحديث علي أخرجه الشافي وسنده ضعيف، فيه بلاغ الشافي، أي لم يذكر سنده.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 405 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 405
تخریج:
«أخرجه البهقي:3 /343، وحديث علي أخرجه الشافي وسنده ضعيف، فيه بلاغ الشافي، أي لم يذكر سنده.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ناگہانی حادثے اور ارضی و سماوی مصیبت کے نزول کی صورت میں فی الفور نماز پڑھنی چاہیے۔
اسے «صَلَاۃُ الْآیَاتِ» کہتے ہیں۔
2. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت اور تکلیف کو دور کرنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے‘ غیر اللہ کی جانب متوجہ ہونا اور انھیں مصائب و آلام دور کرنے کا ذریعہ سمجھنا شرک ہے ‘ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی بالکل بخشش نہیں‘ اس لیے مسلمانوں کو اس کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے‘ ایسا نہ ہو کہ تمام اعمال اکارت جائیں۔
أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 405]

Bulughul Maram Hadith 405 in Urdu