🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الزكاة)
(زکوٰۃ کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
وعن أبي موسى الأشعري ومعاذ رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لهما: «‏‏‏‏لا تأخذوا الصدقة إلا من هذه الأصناف الأربعة: الشعير والحنطة والزبيب والتمر» ‏‏‏‏.رواه الطبراني والحاكم. وللدارقطني عن معاذ رضي الله عنه قال:" فأما القثاء والبطيخ والرمان والقصب فعفو عفا عنه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم". وإسناده ضعيف.
سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”جو، گندم، منقی (کشمش) اور کھجور ان چار اصناف کے علاوہ کسی غلہ پر زکوٰۃ وصول نہ کی جائے۔“
اسے طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دارقطنی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ کھیرا، کھکھڑی، تربوز، انار اور گنے میں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ معاف فرمائی ہے۔ مگر اس روایت کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 496]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ» ابو موسیٰ اشعری – «وَمُعَاذٍ» اور معاذ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ لَهُمَا» نے ان دونوں سے فرمایا: – «لَا تَأْخُذُوا» نہ لو – «الصَّدَقَةَ» زکاۃ – «إِلَّا مِنْ» مگر سے – «هَذِهِ الْأَصْنَافِ» ان قسموں – «الْأَرْبَعَةِ» چار – «الشَّعِيرِ» جو – «وَالْحِنْطَةِ» اور گندم – «وَالزَّبِيبِ» اور منقیٰ (کشمش) – «وَالتَّمْرِ» اور کھجور۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الطَّبَرَانِيُّ» طبرانی نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔ – «وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی روایت میں ہے – «عَنْ مُعَاذٍ» معاذ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَأَمَّا» رہے – «الْقِثَّاءُ» ککڑی – «وَالْبِطِّيخُ» اور خربوزہ (تربوز) – «وَالرُّمَّانُ» اور انار – «وَالْقَصَبُ» اور گنا – «فَعَفْوٌ» تو (یہ) معاف ہیں – «عَفَا عَنْهُ» جنہیں معاف کر دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «ضَعِيفٌ» ضعیف ہے۔
اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”زکاۃ صرف ان چار قسموں سے لو: جو، گندم، منقیٰ اور کھجور۔“ اسے طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ اور دارقطنی میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رہی ککڑی، خربوزہ، انار اور گنا تو یہ معاف ہیں، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کر دیا ہے۔ اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 496]
تخریج الحدیث: «قال المؤلف "أخرجه الطبراني" ولم أجده، والحاكم:1 /401، سفيان الثوري مدلس وعنعن، وحديث معاذ في القثاء أخرجه الدار قطني:2 /97، وفي سنده إسحاق بن يحيي بن طلحة متروك الحديث.»

الحكم على الحديث:
ضعيف


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 496 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 496
لغوی تشریح:
«اَلزَّبِيبِ» خشک انگور (کشمش)۔
«اَلْقِثَّاءُ» ”قاف“ کے نیچے کسرہ، «ثا» «مثلثه» پر تشدید اور آخر میں الف ممدود ہے، کھیرا۔
«اَلْبِطِّيخُ» ”با“ کے نیچے کسرہ اور ”طا“ پر تشدید ہے، تربوز۔
«الْرُمَّانُ» ”را“ پر ضمہ اور ”میم“ پر تشدید ہے۔ انار۔
«الْقَصَبُ» ”قاف“ اور ”ضاد“ دونوں پر فتحہ ہے۔ گنا اور ہر وہ زمینی پیداوار جس کے تنے میں پوریاں اور گرہیں ہوں جیسے بانس اور سرکنڈا وغیرہ۔ یہ حدیث زکاۃ کی فرضیت کو غلے اور پھلوں میں سے انہیں چار اصناف پر منحصر کرتی ہے۔ یہ رائے ایک گروہ کی ہے۔
اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو ان چار اصناف کے قائم مقام ہو، یعنی جو ذخیرہ ہو سکتی ہو اور محفوظ رہ سکتی ہو اس میں زکاۃ واجب ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں جو حصر ہے وہ حصر حقیقی نہیں بلکہ حصر اضافی ہے، یعنی یمن میں دستیاب اس دور کی اجناس کے لحاظ سے آپ نے ان کا تذکرۃ کیا، یا ان سبزیوں کو خارج کرنے کے لیے یہ حکم صادر فرمایا جن میں زکاۃ فرض ہی نہیں، چنانچہ چاول مکئی وغیرہ جیسی اجناس جنہیں اکثر علاقوں میں بالعموم لوگ ذخیرہ کر لیتے ہیں، ان میں زکاۃ واجب ہے۔ محققین کے نزدیک یہ رائے زیادہ قابل اعتبار ہے۔

فائدہ:
حضرت ابوموسیٰ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: [ارواء الغليل: 278، 3]
علاوہ ازیں بعض علماء کے نزدیک یہ مرسل ہے، اس لیے اکثر ائمہ اس بات کے قائل ہیں کہ مذکورہ چار چیزوں کے علاوہ اور بھی جو چیزیں زمین سے پیدا ہوتی ہیں ان سب میں عشر یا نصف عشر ہے، جیسے باجرہ، مکئی، چنے، چاول، سرسوں، توریا اور گنا وغیرہ۔ ان کی دلیل قرآنی آیت:
«وَمِمَّا اَخَرَجْنَا لَكُم مِّنَ اَلَارْضِ» [البقرة: 2: 267]
اور حدیث «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ» کا عموم ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں کے الفاظ عام ہیں کہ زمین کی ہر پیداوار میں زکاۃ ہے۔ اس عموم کا تقاضا ہے کہ سب میں سے عشر یا نصف عشر نکالا جائے۔ اس عموم سے وہی چیز خارج ہو گی جس کا استثناء حدیث سے ثابت ہو گا، جیسے سبزیوں کا استثناء حدیث سے ثابت ہے، اس لیے ان میں عشر یا نصف عشر نہیں ہو گا۔ تاہم سبزیوں کے استثناء سے بالواسطہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین کی پیداوار جو بھی زیادہ عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے، اس میں عشر یا نصف عشر ادا کیا جائے گا۔ اسی بنا پر مذکور عموم کے قائل ائمہ، زمین کی پیداوار کے لیے دو شرطیں ضروری قرار دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ماپی تولی جانے والی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بطور خوراک ذخیرہ کی جاتی ہو۔ اس موقف کی تائید صحیح مسلم کی حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی دانے (غلے) اور کھجور میں اس وقت تک زکاۃ نہیں جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائے۔“ [صحيح مسلم، الزكاة، باب ليس فيما دون خمسة اوسق صدقة، حديث: 979]
اس حدیث کیں حب (دانے اور غلے) کا لفظ عام ہے جو ہر قسم کے غلے کو شامل ہے اس لیے اس میں تمام اجناس آ جاتی ہیں جو کھائی اور ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ اسی طرح جو پھل وغیرہ ہیں ان میں سے آئندہ فصل تک رہنے والے پھل بھی اسی اصول اور قاعدے کے تحت اس پیداوار ہی سے سمجھے جائیں گے جن میں سے زکاۃ نکالی جاتی ہے کیونکہ ان میں بھی خوراک ذخیرہ کرنے کی علت موجود ہے، تاہم جو پھل زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے، وہ سبزی کے حکم میں ہوں گے، یعنی ان میں زکاۃ نہیں ہو گی۔ یہی موقف راجح اور درست ہے۔ شیخ صفی الرحمٰن مبارک پوری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے، نیز محققین علماء کے نزدیک بھی یہ رائے زیادہ قابل اعتبار ہے۔ «والله اعلم» مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [فقه السنة الزكاة]
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت جو سنن دارقطنی کے حوالے سے ہے ضعیف ہے۔ اس میں ضعف کی وجہ ایک ضعیف راوی ہے اور اس کی سند بھی منقطع ہے جیسا کہ مصنف نے التلخیص میں وضاحت کی ہے، نیز ہمارے فاضل محقق نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے، دیکھیے: تحقیق و تخریج حدیث ھذا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 496]

Bulughul Maram Hadith 496 in Urdu