بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في الصيام)
(روزے کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 544
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من نسى وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه» متفق عليه وللحاكم: «من أفطر في رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة» . وهو صحيح.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو روزہ دار بھول کر کچھ کھایا پی لے تو اسے چاہیئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے“ (بخاری و مسلم) اور امام حاکم سے یوں روایت ہے کہ ”اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں۔“ اور یہ حدیث صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 544]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ نَسِيَ» جو بھول گیا – «وَهُوَ صَائِمٌ» درحالیکہ وہ روزے سے ہو – «فَأَكَلَ» پس کھا لیا – «أَوْ شَرِبَ» یا پی لیا – «فَلْيُتِمَّ» تو وہ پورا کرے – «صَوْمَهُ» اپنا روزہ – «فَإِنَّمَا» کیونکہ یقیناً – «أَطْعَمَهُ اللَّهُ» اسے اللہ نے کھلایا – «وَسَقَاهُ» اور پلایا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کی روایت میں ہے: – «مَنْ أَفْطَرَ» جس نے روزہ توڑ دیا – «فِي رَمَضَانَ» رمضان میں – «نَاسِيًا» بھول کر – «فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ» تو اس پر کوئی قضا نہیں – «وَلَا كَفَّارَةَ» اور نہ کوئی کفارہ۔ – «وَهُوَ صَحِيحٌ» اور یہ صحیح ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور حاکم کی روایت میں ہے: ”جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا (کھا پی لیا) تو اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔“ اور یہ صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 544]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور حاکم کی روایت میں ہے: ”جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا (کھا پی لیا) تو اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔“ اور یہ صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسيًا، حديث:1933، ومسلم، الصيام، باب أكل الناسي وشربه وجماعه لا يفطر، حديث:1155، والحاكم:1 /430.»
الحكم على الحديث:
صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6669
| من أكل ناسيا وهو صائم فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه |
صحيح البخاري |
1933
| إذا نسي فأكل وشرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه |
صحيح مسلم |
2716
| من نسي وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه |
جامع الترمذي |
721
| من أكل أو شرب ناسيا فلا يفطر فإنما هو رزق رزقه الله |
سنن أبي داود |
2398
| الله أطعمك وسقاك |
سنن ابن ماجه |
1673
| من أكل ناسيا وهو صائم فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه |
بلوغ المرام |
544
| من نسى وهو صائم فاكل او شرب فليتم صومه فإنما اطعمه الله وسقاه |
Bulughul Maram Hadith 544 in Urdu