بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 644
وعن ابن الزبير رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «صلاة في مسجدي هذا، أفضل من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام، وصلاة في المسجد الحرام، أفضل من صلاة في مسجدي هذا بمائة صلاة» . رواه أحمد وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری اس مسجد (مسجدنبوی) میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ ہے۔ بجز مسجد الحرام کے اور مسجد الحرام میں ایک نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں سو نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ الزُّبَيْرِ» ابن زبیر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةٌ» ایک نماز – «فِي مَسْجِدِي هَذَا» میری اس مسجد میں – «أَفْضَلُ» افضل ہے – «مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ» ہزار نمازوں سے – «فِيمَا سِوَاهُ» اس کے علاوہ (مساجد) میں – «إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ» سوائے مسجد حرام کے – «وَصَلَاةٌ» اور ایک نماز – «فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» مسجد حرام میں – «أَفْضَلُ» افضل ہے – «مِنْ صَلَاةٍ» نماز سے – «فِي مَسْجِدِي هَذَا» میری اس مسجد میں – «بِمِائَةِ صَلَاةٍ» سو نمازوں کے برابر۔ – «رَوَاهُ أَحْمَدُ» اسے احمد نے روایت کیا – «وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری (مساجد) کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام میں ایک نماز میری اس مسجد کی نماز سے سو نمازوں کے برابر افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری (مساجد) کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام میں ایک نماز میری اس مسجد کی نماز سے سو نمازوں کے برابر افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:4 /5، وابن حبان(موارد)، حديث:1027.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 644 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 644
644فوائد و مسائل:
اس حدیث میں مسجد نبوی اور بیت اللہ میں نماز پڑھنے کا ثواب مذکور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف لفظ «هذا» سے جو اشارہ فرمایا ہے اس سے ظاہری طور پر تو یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ جتنی مسجد عہد نبوی میں تھی اس میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ بعد کے ادوار میں جو اضافے اور وسعت ہوئی ہے وہ گویا اس میں شامل نہیں مگر صحیح بات یہی ہے کہ اضافہ شدہ حصہ بھی چونکہ اصل مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ہے، اس لیے وہ بھی مسجد نبوی کے حکم میں ہے اور اس میں بھی ثواب اسی قدر ملے گا جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔ «والله اعلم»
راوئ حدیث:
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما، ان کی کنیت ابوبکر اور نام عبداللہ بن زبیر بن عوام ہے۔ قریش کے قبیلہ اسد سے ہیں، اس لیے قرشی اسدی کہلائے۔ ان کی والدہ محتر مہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہجرت مدینہ کے وقت حمل سے تھیں۔ قباء پہنچتے ہی ابن زبیر کی ولادت ہو گئی۔ ہجرت کے بعد پیدا ہونے یہ اہل اسلام کا پہلا بچہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بکثرت نفلی نمازیں پڑھتے۔ بڑے جسیم اور مضبوط گرفت کے مالک تھے۔ فصیح اللسان تھے۔ حق و صداقت کو قبول کرنے والے اور رشتہ داروں کے دکھ درد کو بانٹنے والے تھے۔ 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد ان کی بیعت کی گئی۔ حجاز، عراق، یمن، مصر اور اکثر علاقہ شام پر یہ غالب آئے۔ حجاج بن یوسف ثقفی نے مکہ میں ان کا محاصرہ کر لیا اور انہیں جما دی الثانیہ 73 ہجری میں پھانسی پر لٹکا کر شہید کر دیا گیا۔
اس حدیث میں مسجد نبوی اور بیت اللہ میں نماز پڑھنے کا ثواب مذکور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف لفظ «هذا» سے جو اشارہ فرمایا ہے اس سے ظاہری طور پر تو یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ جتنی مسجد عہد نبوی میں تھی اس میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ بعد کے ادوار میں جو اضافے اور وسعت ہوئی ہے وہ گویا اس میں شامل نہیں مگر صحیح بات یہی ہے کہ اضافہ شدہ حصہ بھی چونکہ اصل مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ہے، اس لیے وہ بھی مسجد نبوی کے حکم میں ہے اور اس میں بھی ثواب اسی قدر ملے گا جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔ «والله اعلم»
راوئ حدیث:
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما، ان کی کنیت ابوبکر اور نام عبداللہ بن زبیر بن عوام ہے۔ قریش کے قبیلہ اسد سے ہیں، اس لیے قرشی اسدی کہلائے۔ ان کی والدہ محتر مہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہجرت مدینہ کے وقت حمل سے تھیں۔ قباء پہنچتے ہی ابن زبیر کی ولادت ہو گئی۔ ہجرت کے بعد پیدا ہونے یہ اہل اسلام کا پہلا بچہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بکثرت نفلی نمازیں پڑھتے۔ بڑے جسیم اور مضبوط گرفت کے مالک تھے۔ فصیح اللسان تھے۔ حق و صداقت کو قبول کرنے والے اور رشتہ داروں کے دکھ درد کو بانٹنے والے تھے۔ 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد ان کی بیعت کی گئی۔ حجاز، عراق، یمن، مصر اور اکثر علاقہ شام پر یہ غالب آئے۔ حجاج بن یوسف ثقفی نے مکہ میں ان کا محاصرہ کر لیا اور انہیں جما دی الثانیہ 73 ہجری میں پھانسی پر لٹکا کر شہید کر دیا گیا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 644]
Bulughul Maram Hadith 644 in Urdu