🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى عمر عن بيع أمهات الأولاد،‏‏‏‏ فقال: لا تباع،‏‏‏‏ ولا توهب،‏‏‏‏ ولاتورث،‏‏‏‏ يستمتع بها ما بدا له،‏‏‏‏ فإذا مات فهي حرة. رواه البيهقي ومالك،‏‏‏‏ وقال: رفعه بعض الرواة فوهم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ نہ یہ فروخت ہو سکتی ہے اور نہ ہبہ کی جا سکتی ہے اور نہ میراث میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ جب تک مالک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جب فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ اسے بیہقی اور مالک نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض نے اسے مرفوع کہا ہے جو وہم ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ:2 /776، والبيهقي:10 /342، 343.»

بلوغ المرام کی حدیث نمبر 658 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 658
تخریج:
«أخرجه مالك في الموطأ:2 /776، والبيهقي:10 /342، 343.»
تشریح:
1. امہات الاولاد کا واحد ام ولد ہے‘ اس لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک کا بچہ جنم دے۔
جب تک مالک زندہ رہے اس وقت تک وہ اس کی لونڈی ہے‘ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اور جب وہ فوت ہو جائے تو ازخود آزاد ہو جاتی ہے۔
مالک کی اولاد کا اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں رہتا۔
2.لونڈی جب مالک سے بچہ جنم دے تو کیا اسے بیچا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں علماء کی آراء مختلف ہیں‘ تاہم اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ ام ولد کی خرید و فروخت حرام ہے‘ خواہ بچہ زندہ ہو یا نہ ہو۔
مگر امام داود ظاہری کے نزدیک یہ جائز ہے۔
آگے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کی خرید و فروخت کرتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ممانعت کا فرمان‘ حرمت بیع کی تائید کرتا ہے۔
ممکن ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان اس وقت کا ہو جب بیع کی ممانعت کا فرمان جاری نہ ہوا ہو۔
واللّٰہ أعلم۔
3. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے۔
محدثین کے طریق پر یہ حدیث اس حیثیت سے مرفوع ہو سکتی ہے کہ اس میں اجتہاد کو دخل نہ ہو۔
عموماً صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کیا ہے اور جمہور کا بھی یہی موقف ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 658]

Bulughul Maram Hadith 658 in Urdu