بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب شروطه وما نهي عنه منه
بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 683
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت يده بللا، فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟!» قال: أصابته السماء يا رسول الله! قال: «أفلا جعلته فوق الطعام، كي يراه الناس؟! من غش فليس مني» رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر طعام (غلہ) کے ایک ڈھیر پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو نمی لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اناج کے مالک! یہ کیا ماجرا ہے؟“ اس نے عرض کیا! اے اللہ کے رسول! اس پر بارش برس گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تو نے نمی زدہ حصہ کو اناج کے اوپر کیوں نہ ڈال دیا تاکہ خریدار لوگ اسے دیکھ لیتے۔ جس نے دھوکہ دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 683]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَرَّ» گزرے – «عَلَى صُبْرَةٍ» ایک ڈھیر پر – «مِنْ طَعَامٍ» غلے کے – «فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا» تو اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا – «فَنَالَتْ يَدُهُ» تو آپ کے ہاتھ کو لگی – «بَلَلًا» تری – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «مَا هَذَا» یہ کیا ہے – «يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ» اے غلے والے؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ» اسے بارش پہنچی ہے – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «أَفَلَا جَعَلْتَهُ» تو نے اسے کیوں نہ رکھا – «فَوْقَ الطَّعَامِ» غلے کے اوپر – «كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ» تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں؟ – «مَنْ غَشَّ» جس نے دھوکا دیا – «فَلَيْسَ مِنِّي» وہ مجھ سے نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی، آپ نے فرمایا: ”اے غلے والے! یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے بارش پہنچ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اسے (بھیگے ہوئے غلے کو) اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 683]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی، آپ نے فرمایا: ”اے غلے والے! یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے بارش پہنچ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اسے (بھیگے ہوئے غلے کو) اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم من غشنا فليس منا، حديث:102.»
الحكم على الحديث:
صحيح
Bulughul Maram Hadith 683 in Urdu