بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب السلم والقرض، والرهن.
پیشگی ادائیگی، قرض اور رھن کا بیان
حدیث نمبر: 724
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يغلق الرهن من صاحبه الذي رهنه له غنمه وعليه غرمه» . رواه الدارقطني والحاكم ورجاله ثقات إلا أن المحفوظ عند أبي داود وغيره إرساله.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مرھونہ (گروی شدہ) چیز اس کے مالک کیلئے روکی اور بند نہیں کی جائے گی۔ اس کا فائدہ بھی اسی کیلئے ہے اور تاوان کا بھی وہی ذمہ دار ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ کے نزدیک اس کا مرسل ہونا محفوظ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 724]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ» گروی (چیز) روکی (ضبط) نہیں جاتی – «مِنْ صَاحِبِهِ» اس کے مالک سے – «الَّذِي رَهَنَهُ» جس نے اسے گروی رکھا – «لَهُ غُنْمُهُ» اسی کے لیے اس کا نفع ہے – «وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ» اور اسی پر اس کا نقصان ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں – «إِلَّا أَنَّ» مگر یہ کہ – «الْمَحْفُوظَ» محفوظ (بات) – «عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ» ابو داود – «وَغَيْرِهِ» اور دوسروں کے ہاں – «إِرْسَالُهُ» اس کا مرسل ہونا ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گروی رکھی ہوئی چیز اس کے اس مالک سے ضبط نہیں کی جاتی جس نے اسے گروی رکھا ہے، اس کا نفع اسی کے لیے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر ابو داود وغیرہ کے ہاں محفوظ یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 724]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گروی رکھی ہوئی چیز اس کے اس مالک سے ضبط نہیں کی جاتی جس نے اسے گروی رکھا ہے، اس کا نفع اسی کے لیے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر ابو داود وغیرہ کے ہاں محفوظ یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /32، 33، والحاكم:2 /51، وانظر المراسيل لأبي داود، حديث:164، الزهري مدلس وعنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
Bulughul Maram Hadith 724 in Urdu