🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب السلم والقرض، والرهن.
پیشگی ادائیگی، قرض اور رھن کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 719
عن ابن عباس قال: قدم النبي صلى الله عليه وآله وسلم المدينة وهم يسلفون في الثمار السنة والسنتين فقال: «‏‏‏‏من أسلف في ثمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم» .‏‏‏‏ متفق عليه وللبخاري: «‏‏‏‏من أسلف في شيء» .‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں ایک سال اور دو سال کی قیمت پیشگی ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص پھلوں کی پیشگی دے تو اسے چاہیئے کہ ماپ، تول اور مدت مقرر کے لیے دے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری میں «من أسلف في ثمر» کی بجائے «من أسلف في شيء» ‏‏‏‏ کے الفاظ ہیں۔ ”جو شخص کسی چیز میں پیشگی دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 719]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَدِمَ» تشریف لائے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمَدِينَةَ» مدینہ – «وَهُمْ يُسْلِفُونَ» اور وہ (لوگ) پیشگی ادائیگی (بیع سلم) کرتے تھے – «فِي الثِّمَارِ» پھلوں میں – «السَّنَةَ» ایک سال – «وَالسَّنَتَيْنِ» اور دو سال (کے لیے) – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مَنْ أَسْلَفَ» جو پیشگی ادائیگی کرے – «فِي ثَمَرٍ» کسی پھل میں – «فَلْيُسْلِفْ» تو وہ پیشگی ادائیگی کرے – «فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ» معلوم ماپ میں – «وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ» اور معلوم وزن میں – «إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ» معلوم مدت تک۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی روایت میں ہے: – «مَنْ أَسْلَفَ» جو پیشگی ادائیگی کرے – «فِي شَيْءٍ» کسی چیز میں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں ایک ایک اور دو دو سال کے لیے پیشگی ادائیگی (بیع سلم) کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جو شخص کسی پھل میں پیشگی ادائیگی کرے تو وہ معلوم ماپ اور معلوم وزن میں، معلوم مدت تک کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”جو شخص کسی بھی چیز میں پیشگی ادائیگی کرے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، السلم، باب السلم في كيل معلوم، حديث:2239، ومسلم، المساقاة، باب السلم، حديث:1604.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 720
وعن عبد الرحمن بن أبزى وعبد الله بن أبي أوفى رضي الله تعالى عنهما قالا: كنا نصيب المغانم مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وكان يأتينا أنباط من أنباط الشام فنسلفهم في الحنطة والشعير والزبيب. وفي رواية: والزيت إلى أجل مسمى قيل: أكان لهم زرع؟ قالا: ما كنا نسألهم عن ذلك. رواه البخاري.
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابزی اور عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوات میں شرکت کر کے) غنیمت کا حصہ لیتے تھے اور ملک شام کے نبطی جاٹوں میں سے کچھ جاٹ ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم ان کو گندم، جو اور منقی، اور ایک روایت میں زیتون بھی ہے، کی پیشگی دے کر ایک مدت مقررہ تک بیع سلم کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ وہ خود کھیتی باڑی کرتے تھے تو دونوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان سے یہ کبھی دریافت نہیں کیا تھا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 720]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى» عبدالرحمن بن ابزیٰ – «وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى» اور عبداللہ بن ابی اوفیٰ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «كُنَّا نُصِيبُ» ہم پایا کرتے تھے – «الْمَغَانِمَ» مال غنیمت – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَكَانَ يَأْتِينَا» اور ہمارے پاس آتے تھے – «أَنْبَاطٌ» کچھ نبطی (کسان) – «مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ» شام کے نبطیوں میں سے – «فَنُسْلِفُهُمْ» تو ہم انہیں پیشگی رقم دیتے (بیع سلم کرتے) – «فِي الْحِنْطَةِ» گندم میں – «وَالشَّعِيرِ» اور جو میں – «وَالزَّبِيبِ» اور منقیٰ میں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «وَالزَّيْتِ» اور زیتون کے تیل میں – «إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى» ایک مقررہ مدت تک۔ – «قِيلَ» کہا گیا: – «أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ» کیا ان کی کھیتی ہوتی تھی؟ – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ» ہم ان سے نہیں پوچھتے تھے – «عَنْ ذَلِكَ» اس بارے میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ اور سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (جہاد میں) مال غنیمت حاصل کیا کرتے تھے، اور ہمارے پاس شام کے نبطی کسان آتے تو ہم انہیں گندم، جو اور منقیٰ میں پیشگی رقم دے دیتے (بیع سلم کرتے)۔ اور ایک روایت میں ہے: اور زیتون کے تیل میں، ایک مقررہ مدت تک۔ پوچھا گیا: کیا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی؟ دونوں نے کہا: ہم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، السلم، باب السّلم إلي أجلٍ معلومٍ، حديث:2254، 2255.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذها يريد إتلافها أتلفه الله» .‏‏‏‏ رواه البخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض) لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا (قرض) ادا فرما دے گا اور جو شخص ان (کے) اموال ضائع کرنے کی نیت سے لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دے گا۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 721]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ أَخَذَ» جس نے لیے – «أَمْوَالَ النَّاسِ» لوگوں کے مال – «يُرِيدُ أَدَاءَهَا» ان کی ادائیگی کا ارادہ رکھتے ہوئے – «أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اس کی طرف سے ادا کر دے گا – «وَمَنْ أَخَذَهَا» اور جس نے انہیں لیا – «يُرِيدُ إِتْلَافَهَا» انہیں ضائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے – «أَتْلَفَهُ اللَّهُ» اللہ اسے برباد کر دے گا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کے مال (قرض) ادا کرنے کے ارادے سے لیتا ہے اللہ اس کی طرف سے ادا کر دیتا ہے، اور جو انہیں ضائع (ہڑپ) کرنے کے ارادے سے لیتا ہے اللہ اسے برباد کر دیتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستقراض، باب من أخذ أموال الناس يريد أداءها، حديث:2387.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قلت: يا رسول الله إن فلانا قدم له بز من الشام فلو بعثت إليه فأخذت منه ثوبين نسيئة إلى ميسرة فبعث إليه فامتنع. أخرجه الحاكم والبيهقي ورجاله ثقات.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ” یا رسول اللہ! فلاں صاحب کا شام سے کپڑا آیا ہے۔ آپ بھی کسی کو بھیج کر دو کپڑے کشادگی تک ادھار خرید لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ایک آدمی کو بھیجا، مگر اس نے (ادھار دینے سے) انکار کر دیا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 722]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّ فُلَانًا» بے شک فلاں – «قَدِمَ لَهُ» اس کے لیے آیا ہے – «بَزٌّ» کپڑا – «مِنَ الشَّامِ» شام سے – «فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ» تو کاش آپ اس کی طرف (کسی کو) بھیجیں – «فَأَخَذْتَ مِنْهُ» اور اس سے لے لیں – «ثَوْبَيْنِ» دو کپڑے – «نَسِيئَةً» ادھار – «إِلَى مَيْسَرَةٍ» آسانی (فراخی) تک – «فَبَعَثَ إِلَيْهِ» تو آپ نے اس کی طرف بھیجا – «فَامْتَنَعَ» تو اس نے انکار کر دیا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم – «وَالْبَيْهَقِيُّ» اور بیہقی نے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص کے پاس شام سے کپڑا آیا ہے، اگر آپ اس کی طرف (کسی کو) بھیج کر اس سے فراخی (کے وقت) تک ادھار پر دو کپڑے لے لیں (تو اچھا ہو)۔ چنانچہ آپ نے اس کی طرف (آدمی) بھیجا تو اس نے انکار کر دیا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /24، والبيهقي: لم أجده في السنن الكبرٰي.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 723
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويشرب النفقة» .‏‏‏‏ رواه البخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رہن رکھے ہوئے جانور پر (اس پر اٹھنے والے) مصارف و اخراجات کے بدلے سواری کی جا سکتی ہے۔ اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ (اس پر اٹھنے والے) مصارف کے بدلے پیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ رہن ہو اور جو آدمی سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے۔ اس کے اخراجات کا ذمہ دار بھی وہی ہے۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 723]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الظَّهْرُ» سواری کا جانور – «يُرْكَبُ» سواری کی جائے – «بِنَفَقَتِهِ» اس کے خرچ کے بدلے – «إِذَا كَانَ مَرْهُونًا» جب وہ گروی ہو – «وَلَبَنُ الدَّرِّ» اور دودھ والے جانور کا دودھ – «يُشْرَبُ» پیا جائے – «بِنَفَقَتِهِ» اس کے خرچ کے بدلے – «إِذَا كَانَ مَرْهُونًا» جب وہ گروی ہو – «وَعَلَى الَّذِي» اور اس پر جو – «يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ» سواری کرے اور (دودھ) پیے – «النَّفَقَةُ» خرچ ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سواری کا جانور جب گروی ہو تو اس کے خرچ کے بدلے اس پر سواری کی جائے، اور دودھ والا جانور جب گروی ہو تو اس کے خرچ کے بدلے اس کا دودھ پیا جائے، اور جو سواری کرے اور دودھ پیے اسی پر (اس کا) خرچ ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الرهن، باب الرهن مركوب ومحلوب، حديث:2512.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 724
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يغلق الرهن من صاحبه الذي رهنه له غنمه وعليه غرمه» . رواه الدارقطني والحاكم ورجاله ثقات إلا أن المحفوظ عند أبي داود وغيره إرساله.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مرھونہ (گروی شدہ) چیز اس کے مالک کیلئے روکی اور بند نہیں کی جائے گی۔ اس کا فائدہ بھی اسی کیلئے ہے اور تاوان کا بھی وہی ذمہ دار ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ کے نزدیک اس کا مرسل ہونا محفوظ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 724]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ» گروی (چیز) روکی (ضبط) نہیں جاتی – «مِنْ صَاحِبِهِ» اس کے مالک سے – «الَّذِي رَهَنَهُ» جس نے اسے گروی رکھا – «لَهُ غُنْمُهُ» اسی کے لیے اس کا نفع ہے – «وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ» اور اسی پر اس کا نقصان ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں – «إِلَّا أَنَّ» مگر یہ کہ – «الْمَحْفُوظَ» محفوظ (بات) – «عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ» ابو داود – «وَغَيْرِهِ» اور دوسروں کے ہاں – «إِرْسَالُهُ» اس کا مرسل ہونا ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گروی رکھی ہوئی چیز اس کے اس مالک سے ضبط نہیں کی جاتی جس نے اسے گروی رکھا ہے، اس کا نفع اسی کے لیے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر ابو داود وغیرہ کے ہاں محفوظ یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /32، 33، والحاكم:2 /51، وانظر المراسيل لأبي داود، حديث:164، الزهري مدلس وعنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 725
وعن أبي رافع رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسلف من رجل بكرا فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره فقال: لا أجد إلا خيارا رباعيا فقال: «‏‏‏‏أعطه إياه فإن خيار الناس أحسنهم قضاء» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس شخص کو جوان اونٹ ادا کر دیا جائے۔ میں نے عرض کیا اس سے بہتر سات سالہ اونٹ موجود ہے۔ فرمایا ”یہی اسے دے دو، کیونکہ بہترین آدمی وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے اچھا ہو۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 725]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي رَافِعٍ» ابو رافع – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَسْلَفَ» ادھار لیا – «مِنْ رَجُلٍ» ایک آدمی سے – «بَكْرًا» ایک جوان اونٹ – «فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ» پھر آپ کے پاس آئے – «إِبِلٌ» اونٹ – «مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ» صدقے کے اونٹوں میں سے – «فَأَمَرَ» تو آپ نے حکم دیا – «أَبَا رَافِعٍ» ابو رافع کو – «أَنْ يَقْضِيَ» کہ وہ ادا کر دیں – «الرَّجُلَ» اس آدمی کو – «بَكْرَهُ» اس کا جوان اونٹ – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «لَا أَجِدُ» میں نہیں پاتا – «إِلَّا خِيَارًا» مگر عمدہ – «رَبَاعِيًا» رباعی (چھ سال کا) اونٹ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَعْطِهِ إِيَّاهُ» اسے وہی دے دو – «فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ» کیونکہ بہترین لوگ – «أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً» وہ ہیں جو ان میں ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ایک جوان اونٹ ادھار لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس آدمی کو اس کا جوان اونٹ ادا کر دیں۔ انہوں نے عرض کیا: مجھے تو صرف عمدہ رباعی (چھ سالہ) اونٹ ہی ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو، کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضٰي خيرًا منه، حديث:1600.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 726
وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏كل قرض جر منفعة فهو ربا» .‏‏‏‏رواه الحارث بن أبي أسامة وإسناده ساقط. وله شاهد ضعيف عن فضالة بن عبيد عند البيهقي،‏‏‏‏ وآخر موقوف عن عبد الله بن سلام عند البخاري.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر وہ قرض جو منافع کھینچ لائے پس وہ سود ہے۔“ اسے حارث بن ابی اسامہ نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند ساقط الاعتبار (ضعیف ہے) اور اس کا کمزور شاہد بیہقی کے ہاں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور بخاری میں ایک اور موقوف حدیث عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 726]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كُلُّ قَرْضٍ» ہر وہ قرض – «جَرَّ» جو کھینچ لائے – «مَنْفَعَةً» کوئی نفع – «فَهُوَ رِبًا» تو وہ سود ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ» حارث بن ابی اسامہ نے – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «سَاقِطٌ» ساقط (انتہائی کمزور) ہے۔ – «وَلَهُ» اور اس کا – «شَاهِدٌ ضَعِيفٌ» ایک ضعیف شاہد ہے – «عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ» فضالہ بن عبید سے – «عِنْدَ الْبَيْهَقِيِّ» بیہقی کے ہاں – «وَآخَرُ» اور ایک دوسرا (شاہد) – «مَوْقُوفٌ» موقوف – «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ» عبداللہ بن سلام سے – «عِنْدَ الْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہاں۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ قرض جو کوئی نفع کھینچ لائے وہ سود ہے۔“ اسے حارث بن ابی اسامہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ساقط ہے۔ اور بیہقی کے ہاں سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک ضعیف شاہد ہے، اور بخاری کے ہاں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرا موقوف شاہد ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحارث بن أبي أسامة في مسنده و بغية الباحث:2437، والمطالب العالية:1 /411، حديث:1373 وفيه سوار بن مصعب متروك الحديث، وحديث فضالة أخرجه البيهقي:5 /350، وقال: "موقوف"، قلت: وسنده صحيح، وحديث عبدالله بن سلام أخرجه البخاري، مناقب الأنصار، حديث:3814.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں