🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب التفليس والحجر
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
وعن قبيصة بن مخارق الهلالي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیشک تین آدمیوں میں سے کسی ایک کے سوا کسی دوسرے کے لئے سوال کرنا حلال نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے ضمانت کا بوجھ اٹھایا ہو۔ اس کے لئے تاوان و ضمانت کی مقدار تک سوال کرنا جائز ہے اس کے بعد سوال کرنا چھوڑ دے اور ایک وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی ہو اور اس نے اس کا مال تباہ و برباد کر دیا ہو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے تاوقتیکہ اس کے لئے گزران کی کوئی سبیل نکل آئے اور ایک وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو، یہاں تک کہ اس کی شہادت اس کی قوم کے تین قابل اعتماد آدمی دیں۔ اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 734]
«وَعَنْ» اور سے – «قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ» قبیصہ بن مخارق ہلالی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الْمَسْأَلَةَ» بے شک سوال کرنا (مانگنا) – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ» مگر تین میں سے کسی ایک کے لیے – «رَجُلٌ» ایک وہ آدمی – «تَحَمَّلَ حَمَالَةً» جس نے کوئی (مالی) ذمہ داری اٹھا لی – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» سوال کرنا – «حَتَّى يُصِيبَهَا» یہاں تک کہ وہ اسے پا لے – «ثُمَّ يُمْسِكُ» پھر رک جائے – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ» جسے کوئی آفت پہنچی – «اجْتَاحَتْ مَالَهُ» جس نے اس کا مال تباہ کر دیا – «فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ» تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ» گزر بسر کا سہارا – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ» جسے فاقہ (سخت محتاجی) پہنچا – «حَتَّى يَقُولَ» یہاں تک کہ کہیں – «ثَلَاثَةٌ» تین (آدمی) – «مِنْ ذَوِي الْحِجَا» عقل مندوں میں سے – «مِنْ قَوْمِهِ» اس کی قوم کے: – «لَقَدْ أَصَابَتْ» یقیناً پہنچا ہے – «فُلَانًا» فلاں کو – «فَاقَةٌ» فاقہ – «فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ» تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنا (مانگنا) صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزر بسر کا سہارا پا لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو واقعی فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب من تحل له المسألة، حديث:1044.»

الحكم على الحديث:
صحيح


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 734 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 734
تخریج:
«أخرجه مسلم، الزكاة، باب من تحل له المسألة، حديث:1044.»
تشریح:
1. اس حدیث میں صرف تین قسم کے آدمیوں کے لیے دست سوال دراز کرنے کی اجازت ہے اور وہ بھی محدود وقت کے لیے۔
انھی میں سے ایک ضامن ہے‘ وہ اگر مفلس نہ بھی ہو تب بھی اس کے لیے سوال کر کے ضمانت دی ہوئی رقم کو ادا کرنا جائز ہے۔
2. جو شخص فاقے میں مبتلا ہے اس کے لیے تین افراد کی گواہی کا حکم استحباب اور احتیاط کے پہلو سے ہے۔
اس کی حیثیت شرط کی نہیں کہ اس کے بغیر وہ سوال ہی نہیں کر سکتا جیسا کہ عمومی ادلہ کی بنا پر علماء نے کہا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 734]

Bulughul Maram Hadith 734 in Urdu