بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب الوصايا
وصیتوں کا بیان
حدیث نمبر: 819
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله تعالى عنه قال: قلت: يا رسول الله أنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي واحدة أفأتصدق بثلثي مالي؟ قال: «لا» قلت: أفأتصدق بشطره؟ قال: «لا» قلت: أفأتصدق بثلثه؟ قال: «الثلث، والثلث كثير، إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس» . متفق عليه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں مالدار آدمی ہوں اور میری وارث صرف میری ایک ہی بیٹی ہے۔ تو کیا میں دو تہائی مال کو صدقہ و خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“ میں نے دوبارہ، عرض کیا، کیا میں اپنے مال کا نصف حصہ خیرات کر دوں؟ فرمایا ”نہیں“ میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا، تو کیا میں تہائی مال صدقہ و خیرات کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! مگر ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 819]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ» سعد بن ابی وقاص – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَنَا ذُو مَالٍ» میں مال والا ہوں – «وَلَا يَرِثُنِي» اور میرا وارث نہیں – «إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ» سوائے میری ایک بیٹی کے – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِثُلُثَيْ مَالِي» اپنے مال کا دو تہائی؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِشَطْرِهِ» اس کا آدھا؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِثُلُثِهِ» اس کا ایک تہائی؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «الثُّلُثُ» ایک تہائی (کر دو) – «وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» اور تہائی بھی بہت ہے – «إِنَّكَ» بے شک تم – «أَنْ تَذَرَ» کہ چھوڑ جاؤ – «وَرَثَتَكَ» اپنے وارثوں کو – «أَغْنِيَاءَ» مالدار – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ» اس سے کہ تم انہیں چھوڑ جاؤ – «عَالَةً» محتاج – «يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ» لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مالدار ہوں اور میری ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا آدھا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی (کر دو)، اور تہائی بھی بہت ہے، تمہارا اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 819]
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مالدار ہوں اور میری ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا آدھا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی (کر دو)، اور تہائی بھی بہت ہے، تمہارا اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء خير......، حديث:2742، ومسلم، الوصية، باب الوصية بالثلث، حديث:1628.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 819 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 819
تخریج:
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء خير......، حديث:2742، ومسلم، الوصية، باب الوصية بالثلث، حديث:1628.» تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صاحب مال زیادہ سے زیادہ اپنے تہائی مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے‘ اس سے زیادہ نہیں الاّ یہ کہ ورثاء خود بخود ایک تہائی سے زائد کی اجازت دے دیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ورثاء کو محروم رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ان کا غنی رہنا اور دست سوال دراز کرنے سے بچنا بہرنوع بہتر ہے۔
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء خير......، حديث:2742، ومسلم، الوصية، باب الوصية بالثلث، حديث:1628.»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صاحب مال زیادہ سے زیادہ اپنے تہائی مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے‘ اس سے زیادہ نہیں الاّ یہ کہ ورثاء خود بخود ایک تہائی سے زائد کی اجازت دے دیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ورثاء کو محروم رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ان کا غنی رہنا اور دست سوال دراز کرنے سے بچنا بہرنوع بہتر ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 819]
Bulughul Maram Hadith 819 in Urdu