🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب الوصايا
وصیتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏ما حق امرىء مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کو یہ لائق نہیں ہے کہ وہ اپنی کسی چیز کو وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر دو راتیں بھی اسی حالت میں گزار دے کہ اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 818]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَا حَقُّ» حق نہیں – «امْرِئٍ مُسْلِمٍ» کسی مسلمان آدمی کا – «لَهُ شَيْءٌ» جس کے پاس کوئی چیز ہو – «يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ» جس میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو – «يَبِيتُ» کہ وہ رات گزارے – «لَيْلَتَيْنِ» دو راتیں – «إِلَّا» مگر اس حال میں کہ – «وَوَصِيَّتُهُ» اس کی وصیت – «مَكْتُوبَةٌ» لکھی ہوئی ہو – «عِنْدَهُ» اس کے پاس۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کو، جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو، یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوصايا، باب الوصايا....، حديث:2738، ومسلم، الوصية، حديث:1627.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله تعالى عنه قال: قلت: يا رسول الله أنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي واحدة أفأتصدق بثلثي مالي؟ قال: «‏‏‏‏لا» ‏‏‏‏ قلت: أفأتصدق بشطره؟ قال: «‏‏‏‏لا» ‏‏‏‏ قلت: أفأتصدق بثلثه؟ قال: «‏‏‏‏الثلث،‏‏‏‏ والثلث كثير،‏‏‏‏ إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں مالدار آدمی ہوں اور میری وارث صرف میری ایک ہی بیٹی ہے۔ تو کیا میں دو تہائی مال کو صدقہ و خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“ میں نے دوبارہ، عرض کیا، کیا میں اپنے مال کا نصف حصہ خیرات کر دوں؟ فرمایا ”نہیں“ میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا، تو کیا میں تہائی مال صدقہ و خیرات کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! مگر ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 819]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ» سعد بن ابی وقاص – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَنَا ذُو مَالٍ» میں مال والا ہوں – «وَلَا يَرِثُنِي» اور میرا وارث نہیں – «إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ» سوائے میری ایک بیٹی کے – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِثُلُثَيْ مَالِي» اپنے مال کا دو تہائی؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِشَطْرِهِ» اس کا آدھا؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «أَفَأَتَصَدَّقُ» تو کیا میں صدقہ کر دوں – «بِثُلُثِهِ» اس کا ایک تہائی؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «الثُّلُثُ» ایک تہائی (کر دو) – «وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» اور تہائی بھی بہت ہے – «إِنَّكَ» بے شک تم – «أَنْ تَذَرَ» کہ چھوڑ جاؤ – «وَرَثَتَكَ» اپنے وارثوں کو – «أَغْنِيَاءَ» مالدار – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ» اس سے کہ تم انہیں چھوڑ جاؤ – «عَالَةً» محتاج – «يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ» لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مالدار ہوں اور میری ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا آدھا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی (کر دو)، اور تہائی بھی بہت ہے، تمہارا اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء خير......، حديث:2742، ومسلم، الوصية، باب الوصية بالثلث، حديث:1628.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 820
عن عائشة أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله إن أمي افتلتت نفسها ولم توص وأظنها لو تكلمت تصدقت أفلها أجر إن تصدقت عنها؟ قال:«‏‏‏‏نعم» . متفق عليه. واللفظ لمسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ اچانک وفات پا گئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی۔ میرا اس کے بارے میں خیال ہے کہ اگر وہ کوئی گفتگو کرتیں تو صدقہ (ضرور) کرتیں۔ کیا انہیں ثواب ملے گا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 820]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «أَنَّ رَجُلًا» کہ ایک آدمی – «أَتَى النَّبِيَّ» نبی کے پاس آیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» اور کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّ أُمِّي» بے شک میری ماں – «افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا» اچانک فوت ہو گئی – «وَلَمْ تُوصِ» اور اس نے وصیت نہیں کی – «وَأَظُنُّهَا» اور میرا گمان ہے کہ وہ – «لَوْ تَكَلَّمَتْ» اگر بات کر پاتی – «تَصَدَّقَتْ» تو صدقہ کرتی – «أَفَلَهَا أَجْرٌ» تو کیا اسے اجر ملے گا – «إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا» اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں اچانک فوت ہو گئی اور اس نے وصیت نہیں کی، اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کر پاتی تو صدقہ کرتی، تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوصايا، باب ما يستحب لمن توفي فجأة أن يتصدقوا عنه.....، حديث:2760، ومسلم، الزكاة، باب وصول ثواب الصدقة عن الميت إليه، حديث:1004.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
و عن أبي أمامة الباهلي رضي الله تعالى عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» . رواه أحمد والأربعة إلا النسائي،‏‏‏‏ وحسنه أحمد والترمذي،‏‏‏‏ وقواه ابن خزيمة وابن الجارود،‏‏‏‏ ورواه الدارقطني من حديث ابن عباس رضي الله عنهما وزاد في آخره:«‏‏‏‏إلا أن يشاء الورثة» .‏‏‏‏ وإسناده حسن.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا فرما دیا ہے لہذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔“ اسے احمد اور چاروں نے سوائے نسائی کے روایت کیا ہے۔ احمد اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے قوی قرار دیا ہے اور دارقطنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور اس کے آخر میں اتنا اضافہ بھی کیا ہے۔ الایہ کہ اس کے وارث چاہیں اور ان کی اسناد حسن ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 821]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ» ابو امامہ باہلی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ نے – «قَدْ أَعْطَى» یقیناً دے دیا ہے – «كُلَّ ذِي حَقٍّ» ہر حق والے کو – «حَقَّهُ» اس کا حق – «فَلَا وَصِيَّةَ» پس کوئی وصیت نہیں – «لِوَارِثٍ» وارث کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ – «وَابْنُ الْجَارُودِ» اور ابن جارود نے – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس کی حدیث سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «فِي آخِرِهِ» اس کے آخر میں: – «إِلَّا أَنْ» مگر یہ کہ – «يَشَاءَ» چاہیں – «الْوَرَثَةُ» وارث۔ – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «حَسَنٌ» حسن ہے۔
اور سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔“ اسے احمد اور نسائی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے، احمد اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے قوی قرار دیا ہے۔ اور دارقطنی نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: ”مگر یہ کہ وارث چاہیں۔“ اور اس کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3565، والترمذي، الوصايا، حديث:2121، وابن ماجه، الوصايا، حديث:2713، وأحمد:4 /238، 5 /267، وحديث ابن عباس أخرجه الدارقطني:4 /152 وسنده ضعيف، عطاء الخراساني مدلس وعنعن.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في حسناتكم» . رواه الدارقطني وأخرجه أحمد والبزار من حديث أبي الدرداء،‏‏‏‏ وابن ماجه من حديث أبي هريرة،‏‏‏‏ وكلها ضعيفة،‏‏‏‏ لكن قد يقوي بعضها بعضا،‏‏‏‏ والله أعلم.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں۔ ٍ“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم» [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 822]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» معاذ بن جبل – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ نے – «تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ» تم پر صدقہ (مہربانی) کیا ہے – «بِثُلُثِ» تہائی کا – «أَمْوَالِكُمْ» تمہارے مالوں کے – «عِنْدَ» وقت – «وَفَاتِكُمْ» تمہاری وفات کے – «زِيَادَةً» اضافے کے لیے – «فِي حَسَنَاتِكُمْ» تمہاری نیکیوں میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْبَزَّارُ» اور بزار نے – «مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ» ابو الدرداء کی حدیث سے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ کی حدیث سے – «وَكُلُّهَا» اور یہ سب – «ضَعِيفَةٌ» ضعیف ہیں – «لَكِنْ» لیکن – «قَدْ يُقَوِّي» مضبوط کر دیتی ہیں – «بَعْضُهَا» ان میں سے بعض – «بَعْضًا» بعض کو – «وَاللَّهُ أَعْلَمُ» اور اللہ خوب جانتا ہے۔
اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے مالوں کے ایک تہائی (میں وصیت کا اختیار دے کر) تم پر صدقہ کیا ہے تاکہ تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہو۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے، اور احمد و بزار نے سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اور ابن ماجہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور یہ سب ضعیف ہیں لیکن ان میں سے بعض بعض کو تقویت دیتی ہیں، واللہ اعلم۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:4 /150، وحديث أبي الدرداء أخرجه أحمد:6 /441، والبزار، وحديث أبي هريرة أخرجه ابن ماجه، الوصايا، حديث:2709. وسنده ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں