🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الصداق
حق مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 888
وعن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: زوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجلا امرأة بخاتم من حديد. أخرجه الحاكم،‏‏‏‏ وهو طرف من الحديث الطويل المتقدم في أوائل النكاح.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کا نکاح ایک عورت کے ساتھ لوہے کی ایک انگوٹھی مہر میں دے کر کیا۔ اسے حاکم نے روایت کی ہے۔ یہ کتاب انکاح کے آغاز میں مذکور ایک طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 888]
«وَعَنْ» اور سے – «سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ» سہل بن سعد – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «زَوَّجَ» نکاح کر دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَجُلًا» ایک آدمی کا – «امْرَأَةً» ایک عورت سے – «بِخَاتَمٍ» انگوٹھی کے بدلے – «مِنْ حَدِيدٍ» لوہے کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَهُوَ» اور یہ – «طَرَفٌ» ایک ٹکڑا ہے – «مِنَ الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ» اس طویل حدیث کا – «الْمُتَقَدِّمِ» جو گزر چکی ہے – «فِي أَوَائِلِ النِّكَاحِ» کتاب النکاح کے شروع میں۔
اور سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کا نکاح ایک عورت سے لوہے کی انگوٹھی (کے مہر) پر کر دیا۔ اسے حاکم نے روایت کیا ہے، اور یہ اس طویل حدیث کا ایک حصہ ہے جو کتاب النکاح کے شروع میں گزر چکی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 888]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /178 وصححه، ووافقه الذهبي، وانظر حديث:833.»

الحكم على الحديث:
حسن


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 888 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 888
تخریج:
«أخرجه الحاكم:2 /178 وصححه، ووافقه الذهبي، وانظر حديث:833.»
تشریح:
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی روایت پہلے گزر چکی ہے جس میں ایک خاتون نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کیا تھا۔
اس میں یہ نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی انگوٹھی کے بدلے میں اس خاتون کا نکاح کر دیا تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے نکاح کے خواہش مند کو لوہے کی انگوٹھی لانے کا حکم فرمایا تھا اور جب وہ انگوٹھی بھی اسے نہ ملی تو اس عورت کے ساتھ اس کا نکاح قرآن پاک کی کچھ سورتوں کی تعلیم پر کر دیا۔
اگر یہ حدیث وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے جیسا کہ مصنف رحمہ اللہ نے خود اس کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے تو پھر ان کی یہ بات کہ یہ طویل حدیث کا ٹکڑا ہے‘ وہم سے خالی نہیں۔
الا یہ کہ اس کی تاویل کی جائے کہ آپ نے لوہے کی انگوٹھی پر نکاح کی اجازت دی تھی اگرچہ اس کے نہ ملنے پر عقد نہ ہوا بلکہ تعلیم قرآن کو مہر قرار دیا گیا۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 888]

Bulughul Maram Hadith 888 in Urdu